مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 254 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 254

254 بڑے بہادر اور تجربہ کار تھے۔وہ شمشیر زنی سے واقف تھے۔وہ نیزہ بازی کو خوب جانتے تھے۔وہ لڑائی کے اصول اور فن کے ماہر تھے۔وہ سارے اس نیت سے کھڑے ہو گئے کہ ہم مر جائیں گے مگر اس شخص کو محمد رسول اللہ میل تک پہنچنے نہیں دیں گے۔لیکن آپ نے فرمایا رستہ چھوڑ دو۔صحابہ نے آپ کے حکم کے ماتحت رستہ خالی کر دیا۔اس پر وہ جرنیل شیر کی طرح گر جتا ہوا آپ کے مقابلہ میں آیا۔آپ نے اپنا نیزہ بڑھا کر اس پر وار کیا اور اس کی گردن پر ایک معمولی ساز خم لگا دیا۔وہ اسی وقت چیخ مار کر واپس لوٹ گیا۔لوگوں نے اس سے کہا کہ تم نے یہ کیا کیا۔یا تو اس بہادری سے حملہ کرنے کے لئے گئے تھے اور یا اس بزدلی کے ساتھ واپس بھاگ آئے اور پھر تمہارا تو زخم بھی کوئی بڑا نہیں۔اس نے کہا بے شک یہ ایک چھوٹا سا زخم ہے۔لیکن مجھے ایسا محسوس ہو تا ہے کہ سارے جہنم کی آگ اس میں بھر دی گئی ہے جو مجھ سے برداشت نہیں ہو سکتی۔یہ ایک نشان تھا جو خدا تعالیٰ نے دکھایا۔لیکن محمد رسول اللہ میں اسلام کا یہ فرمانا کہ میرے لئے رستہ چھوڑ دو اس نے بتا دیا کہ مکہ میں کفار کے مظالم آپ کمزوری یا بزدلی کی وجہ سے برداشت نہیں کرتے تھے بلکہ بہادری اور طاقت کے ہوتے ہوئے برداشت کرتے تھے۔یہی وجہ تھی کہ آپ کی قربانیوں کو دیکھ کر لوگ ہدایت پا جاتے تھے۔قرآن آپ نے سنایا اور سالوں سنایا مگر حمزہ پر جو آپ کے چچا تھے، کوئی اثر نہ ہوا۔توحید کے وعظ آپ نے کئے اور سالوں کئے مگر حمزہ پر کوئی اثر نہ ہوا۔اصلاحی تعلیم آپ نے دی اور سالوں دی، مگر حمزہ پر کوئی اثر نہ ہوا۔نمازیں آپ نے پڑھیں اور پڑھائیں اور سالوں پڑھیں اور پڑھائیں ، مگر حمزہ" پر کوئی اثر نہ ہوا۔آپ نے صدقے دیئے اور دلائے اور سالوں صدقے دیئے اور دلائے مگر آپ کے چا حمزہ پر کوئی اثر نہ ہوا۔لیکن ایک دن آپ خانہ کعبہ سے باہر پتھر کی ایک چٹان پر بیٹھے ہوئے تھے کہ ابو جہل آگیا اور اس نے پہلے تو آپ کو گالیاں دینی شروع کر دیں اور پھر غصہ میں اس نے زور سے آپ کے منہ پر ایک تھپڑ مار دیا۔حمزہ کی ایک لونڈی اس وقت دروازہ میں کھڑی یہ نظارہ دیکھ رہی تھی۔وہ اس کو برداشت نہ کر سکی اور اندر ہی اندر سارا دن کڑھتی رہی۔حمزہ شکار کے بہت شوقین تھے اور وہ گھوڑے پر چڑھ کر شکار کے لئے حرم سے باہر نکل جایا کرتے تھے۔اس دن وہ شکار کر کے فخر سے گھر میں داخل ہونے لگے تو کیا دیکھتے ہیں کہ وہی لونڈی جو دیر سے ان کے گھر میں رہتی تھی اور جس نے رسول کریم ملی و یا لیلی کے بچپن کا زمانہ دیکھا ہوا تھا اور جو آپ سے آپ کے دادا کو محبت تھی ، اسے بھی جانتی تھی۔وہ بیٹھی ہوئی رو رہی ہے۔حمزہ نے پوچھا۔بی بی کیوں روتی ہو۔عرب کے لوگ گھر کی پرانی ماماؤں اور خادماؤں کی بڑی عزت کرتے تھے۔انہوں نے سمجھا کسی نے اس کی ہتک کی ہوگی اور اب میرا فرض ہے کہ میں اس ہتک کا بدلہ لوں۔لونڈی نے اپنا سر او پر اٹھایا اور کہا بڑے بہادر بنے پھرتے ہو۔حمزہ نے کہا کیوں کیا ہوا؟ کون سی شکایت پیدا ہو گئی ہے۔وہ کہنے لگی۔تم ہتھیار لگائے پھرتے ہو اور آج آمنہ کے بیٹے کو بغیر کسی قصور کے ابو جہل نے مارا ہے۔حمزہ وہیں سے پلٹے اور جہاں ابو جہل مکہ کے دوسرے سرداروں کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔وہاں پہنچے اور اس کے سر پر زور سے کمان مار کر کہا۔محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) نے صبر کیا اور تم نے اس پر ظلم کیا۔تم اگر اپنے آپ کو بہادر سمجھتے ہو اور تم میں