مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 246
246 کرایہ ہو تا تھا۔مگر آج کل چھ سات آنے میں بٹالے کا آنا جانا ہو جاتا ہے۔تو جو دقتیں مالی لحاظ سے پیش آسکتی تھیں یا وقت کے لحاظ سے پیش آسکتی تھیں ، وہ کم ہو گئی ہیں اور جو ضرور تیں قادیان آنے کے متعلق تھیں وہ ویسی ہی قائم ہیں۔پس میں ان خدام کے توجہ نہ کرنے کی وجہ سے جو اس اجتماع میں نہیں آئے۔افسوس اور تعجب کا اظہار کرنا چاہتا ہوں اور انہیں بتانا چاہتا ہوں کہ خدام الاحمدیہ کی غرض ان میں یہ احساس پیدا کرنا ہے کہ وہ احمدیت کے خادم ہیں اور خادم وہی ہوتا ہے جو آقا کے قریب رہے۔جو خادم اپنے آقا کے قریب نہیں رہتا۔وقت کے لحاظ سے یا کام کے لحاظ سے وہ خادم نہیں کہلا سکتا۔مگر جیسا کہ میں نے بتایا ہے باہر سے آنے والوں کی تعدا بہت کم ہے اور اگر گورداسپور کے دیہات کے افراد نہ آجاتے اور قادیان کے لوگ بھی اس جلسہ میں شامل نہ ہو جاتے تو یہ جلسہ اپنی ذات میں ایک نہایت ہی چھوٹا سا جلسہ ہوتا اور ایسا ہی ہو تا جیسے مدرسہ احمدیہ یا ہائی سکول میں طالب علموں کے جلسے ہوتے ہیں بلکہ ان سے بھی چھوٹا۔میں جماعت کے نوجوانوں کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ سلسلہ احمدیہ کے سپرد ایسے کام کئے گئے ہیں جو دنیا میں عظیم الشان روحانی انقلاب پیدا کرنے والے ہیں۔موجودہ دنیا کی کایا پلٹنے کے لئے اللہ تعالٰی نے حضرت مسیح موعود علیہ حضرت مسیح موعود کی بعثت کا مقصد الصلوۃ والسلام کو معبوث فرمایا ہے۔دنیا کی تہذیب اور دنیا کے تمدن کی وہ عمارت جو تمہیں اس وقت دکھائی دے رہی ہے ، اس کی صفائی کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نہیں بھیجے گئے۔اس کی لپائی کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نہیں بھیجے گئے۔اس کے پوچنے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نہیں بھیجے گئے۔اس پر رنگ و روغن کرنے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نہیں بھیجے گئے۔اس کا پلستر بدلنے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نہیں بھیجے گئے۔اس کی چھت پر مٹی ڈالنے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نہیں بھیجے گئے۔اس کی کانسوں کو درست کرنے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نہیں بھیجے گئے۔اس کے ٹوٹے ہوئے فرش کو بدلنے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نہیں بھیجے گئے۔بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالی نے اس لئے بھیجا ہے کہ اپنی زندگیوں میں اسلامی تعلیم کا کامل نمونہ پیش کر کے توڑ دو اس تهذیب و تمدن کی عمارت کو جو اس وقت دنیا میں اسلام کے خلاف کھڑی ہے۔ٹکڑے ٹکڑے کر دو اس قلعہ کو جو شیطان نے اس دنیا میں بنایا ہے۔اسے زمین کے ساتھ لگا دو بلکہ اس کی بنیادیں تک اکھیڑ کر پھینک دو اور اس کی جگہ وہ عمارت کھڑی کرو جس کا نقشہ محمد رسول اللہ لی لی نے دنیا کو دیا ہے۔یہ کام ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا تھا اور اس کام کی اہمیت بیان کرنے کے لئے کسی لمبی چوڑی تقریر کی ضرورت نہیں۔ہر انسان سمجھ سکتا ہے کہ دنیا کے جس گوشہ میں سے ہم جائیں۔دنیا کی جس گلی میں سے ہم گذریں دنیا کے جس گاؤں میں ہم اپنا