مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 247 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 247

247 قدم رکھیں وہاں ہمیں جو کچھ اسلام کے خلاف نظر آتا ہے، اپنے نیک نمونہ سے اسے مٹاکر اس کی جگہ ایک ایسی عمارت بنانا جو قرآن کریم کے بتائے ہوئے نقشہ کے مطابق ہو ، ہمارا کام ہے۔پس تم سمجھ سکتے ہو کہ تمہارا چلن اور تمہار ا طور اور تمہارا طریق اسی وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے منشاء کو پورا کرنے والا ہو سکتا ہے۔اسی وقت محمد رسول اللهم ل ل ا ل لیلی کے منشاء کو پورا کرنے والا ہو سکتا ہے۔اسی وقت زمین و آسمان کے پیدا کرنے والے خدا کے منشاء کو پورا کرنے والا ہو سکتا ہے جبکہ تم دنیا میں ایک خدا نما و جو د بنو اور اسلام کی اشاعت کے لئے کفر کی ہر طاقت سے ٹکر لینے کے لئے تیار رہو۔یہ نہیں کہ دنیا تم کو اپنا سمجھتی ہو اور تم اس کو اپنا سمجھتے ہو۔بے شک انسان بحیثیت انسان ہونے کے تمہارا محبوب ہونا چاہئے کیونکہ اس کی اصلاح کے لئے تمہیں کھڑا کیا گیا ہے۔لیکن جہاں انسان بحیثیت انسان ہونے کے تمہارا محبوب ہونا چاہئے کیونکہ اسی کی درستی اور اصلاح کے لئے تم کھڑے کئے گئے ہو ، وہاں اس کے خلاف اسلام کردار سے تمہارا کوئی تعلق نہیں ہونا چاہئے۔کیونکہ تم اس کے پیچھے چلنے کے لئے نہیں ، اسے اپنے پیچھے چلانے کے لئے کھڑے کئے گئے ہو۔اگر تم ایسا نہیں کرتے ، اگر تم اس کی ہاں میں ہاں ملا دیتے ہو ، اگر تم اس کے ناجائز افعال کی اصلاح سے غافل رہتے ہو تو اس کے معنے یہ ہیں کہ تمہارے اند ر منافقت کی رگ پائی جاتی ہے اور تم اپنے فرائض کی بجا آوری سے غافل ہو۔مجھے ہمیشہ حیرت آتی ہے ان لوگوں پر جو میرے پاس شکایتیں لے کر آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ لوگ ہماری مخالفت کرتے ہیں ، ہم کیا کریں۔میں انہیں کہتا ہوں تم اس بات پر کیوں غور نہیں کرتے کہ لوگ تمہاری کیوں مخالفت کرتے ہیں۔اگر وہ اس لئے مخالفت کرتے ہیں کہ وہ تمہارے متعلق غلط فہمی کا شکار ہیں اور سمجھتے ہیں کہ تم اسلام کے دشمن ہو تو اس مخالفت کو دور کرنے اور ان کو اپنا دوست بنانے کے دو ہی طریق ہو سکتے ہیں۔یا تو تمہیں اپنے دعوئی احمدیت کو چھوڑنا پڑے گا اور تمہیں بھی ویسا ہی بننا پڑے گا جیسے تمہارا مخالف ہے۔پھر بے شک وہ تمہاری طرف محبت کا ہاتھ بڑھا کر کہے گا کہ ہم دونوں ایک جیسے ہیں اور یا پھر تمہیں کو شش کر کے اس کو بھی اپنے جیسا بنانا پڑے گا اور درست طریق یہی ہے کہ تم اسے بھی اپنے اندر شامل کرنے کی کوشش کرو۔اس صورت میں بھی وہ تمہاری طرف اپنا ہاتھ بڑھا کر کے گا کہ یہ میرا محسن ہے اور تمہاری آپس کی مخالفت ختم ہو جائے گی۔لیکن اگر تم اس طریق کو اختیار نہیں کرتے اور یہ شور مچاتے چلے جاتے ہو کہ لوگ ہمارے دشمن ہیں تو اس سے زیادہ بیوقوفی کی علامت اور کیا ہو سکتی ہے۔اگر تم نے احمدیت کو سمجھا ہے اور اگر تم نے احمدیت کے مغز کو حاصل کیا ہے تو تمہیں اس بات کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے کہ سوائے اس کے کہ کوئی شخص سچائی کی تحقیق کر رہا ہو اور اس پر ایک حد تک سچائی کھل چکی ہو۔یا سوائے ان کے جو مادر پدر آزاد ہوتے ہیں۔وہ مسلمان کہلاتے ہیں مگر مسلمان نہیں ہوتے۔عیسائی کہلاتے ہیں مگر عیسائی نہیں ہوتے۔یہودی کہلاتے ہیں مگر یہودی نہیں ہوتے۔ہندو کہلاتے ہیں مگر ہندو نہیں ہوتے۔باقی کسی انسان سے تمہارا یہ امید کرنا کہ جس عظیم الشان کام کے لئے تم کھڑے ہوئے ہو اس میں تمہاری کوئی مخالفت نہ کرے ایک بالکل احمقانہ اور مجنونانہ خیال ہے۔یہ مخالفت اسی صورت میں ختم ہو