مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 211 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 211

211 آج سے چھ سال پہلے مئی ۳۴ء میں سردار کھڑک سنگھ صاحب جو سکھوں کے بے تاج بادشاہ کہلایا کرتے تھے ، یہاں آئے اور انہوں نے بسراواں میں ایک تقریر کرتے ہوئے کہا قادیان میں احمدی سکھوں پر سخت ظلم کر رہے ہیں۔اگر احمدی اس ظلم سے باز نہ آئے تو قادیان کی اینٹ سے اینٹ بجادی جائے گی۔بلکہ ان کے ایک ساتھی نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ قادیان کی اینٹیں سمندر میں پھینک دی جائیں گی۔مجھے جب یہ رپورٹ پہنچی تو میں نے ایک اشتہار لکھا۔جس میں میں نے انہیں مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ احمدیوں کے مظالم کی داستان بالکل غلط ہے۔اگر آپ اس علاقہ کے سکھوں کو قسم دے کر پوچھیں تو ان میں سے ننانوے فیصدی آپ کو یہ بتائیں گے کہ میں اور میرا خاندان اور میرے ساتھ تعلق رکھنے والے ہمیشہ سکھوں سے محبت کا برتاؤ کرتے چلے آئے ہیں۔چنانچہ میں نے اپنے حسن سلوک کے کئی واقعات تفصیل کے ساتھ ان کے سامنے پیش کئے۔اسی ضمن میں مجھے یہ رپورٹ بھی ملی کہ ایک احراری نے ان کے جلسہ میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ سکھ بڑے بے غیرت ہیں کہ احمدی ان کے گرو کو مسلمان کہہ کر ان کی بنک کرتے ہیں اور پھر بھی ان کو جوش نہیں آتا۔میں نے ان کو سمجھایا کہ رسول کریم میں اللہ کی بعثت کے بعد مسلمانوں کے نزدیک دنیا میں دوہی گروہ ہیں۔یا مسلمان یا کافر۔اس احراری کے نزدیک باو ا صاحب کو مسلمان کہنے سے ان کی بہک ہوتی ہے تو اس سے پوچھیں کہ وہ باو اصاحب کو کیا سمجھتا ہے۔اگر تو وہ مسلمان ولی اللہ سے بڑھ کر باو ا صاحب کو کوئی درجہ دے تو آپ سمجھ لیں کہ وہ آپ کا خیر خواہ ہے اور اگر اس کا یہ مطلب ہو کہ باوا صاحب چونکہ بانی اسلام میں لی لی لیلی کے منکر تھے اس لئے کافر تھے۔تو آپ بتائیں کہ بادا صاحب کی ہتک کرنے والا وہ ہوا یا ہم۔ہم تو انہیں مسلمان ولی اللہ کے معنوں میں کہتے ہیں اور مسلمان ولی اللہ سے مسلمانوں کے نزدیک صرف رسول اور پیغمبر ہی ہوتے ہیں۔پس ہمارا ان کو مسلمان کہنا کسی تحقیر کی وجہ سے نہیں ہو تا بلکہ اس وجہ سے ہوتا ہے کہ ہم ان کو ویسا ہی قابل عزت سمجھتے ہیں۔جیسے ہمارے نزدیک مسلمان اولیاء قابل عزت ہوتے ہیں۔ہمارا انہیں مسلمان کہنے سے یہ مقصد نہیں ہو تا کہ وہ نعوذ باللہ ان ادنے لوگوں کی طرح تھے جو سکھوں کے گاؤں میں بستے ہیں اور گو مسلمان کہلاتے ہیں مگر اسلام سے انہیں کوئی دور کا بھی تعلق نہیں ہو تا۔کیونکہ ہم ان کی دنیوی حیثیت سے ان کو مسلمان نہیں کہتے بلکہ ان کو دینی لحاظ سے مسلمان کہتے ہیں اور دینی لحاظ سے مسلمان کے معنے ولی اللہ کے ہوا کرتے ہیں۔مگر عام طور پر چونکہ سکھوں کے گاؤں میں مسلمان کمین ہوا کرتے ہیں اور دنیا داروں کی نگاہ میں کمین حقیر خیان کئے جاتے ہیں۔اس لئے وہ خیاں کر لیتے ہیں کہ جیسے ہمارے گاؤں کے کمین مسلمان ہیں ویسا ہی مسلمان یہ ہمارے باو اصاحب کو سمجھتے ہیں۔حالانکہ ہم اس نقطہ نگاہ سے انہیں مسلمان نہیں کہتے بلکہ مسلمان کا لفظ ان کے ولی اللہ ہونے کے معنوں میں استعمال کرتے ہیں۔اگر آپ کو یہ لفظ برا محسوس ہو تا ہے تو آپ ہی بتائیں کہ ہم انہیں کیا کہیں۔ہمارے نزدیک تو مسلمانوں کے سوا جتنے لوگ ہیں ،سب کافر ہیں اور دو ہی اصطلاحیں مسلمانوں میں رائج ہیں۔یا کافر کی اصطلاح یا مسلمان کی اصلاح۔اگر بادا صاحب مسلمان معنے ولی اللہ نہیں تو دوسرے لفظوں میں وہ نعوذ باللہ کا فر اور خدا سے دور تھے۔اب آپ ہی سوچ لیں کہ اوپر