مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 173
173 ہو سکتی ہے۔اچھی ہوا سے تر و تازگی حاصل کر سکتے ہیں۔ذہنوں میں بھی روشنی پیدا ہو سکتی ہے اور پھر بڑے ہو کر یہی کھیل ان کے لئے ایک ہنر ثابت ہو سکتا ہے۔اسی طرح دوڑنا ہے جو اپنی ذات میں بہت دلچسپ کھیل ہے۔اس کے بھی مقابلے دوڑنا ایک مفید ورزش کرائے جاتے ہیں جن سے لاتوں کو بڑا فائدہ ہو تا ہے۔لوگ ایسی ورزشیں کرتے ہیں کہ جن سے جسم کا ایک حصہ تو مضبوط ہو تا ہے مگر باقی کمزور ہو جاتے ہیں لیکن دو ڑ نالاتوں کے لئے بھی مفید ہے اور پیٹ کے لئے بھی۔جو لوگ دوڑنے کے عادی ہوں ان کا پیٹ نہیں بڑھتا۔یہ کھیل بھی ہے اور آئندہ زندگی میں بھی بڑے کام کی چیز ہے۔اگر انسان سپاہی ہو تو دشمن کے تعاقب کے لئے یا اگر کسی وقت پیچھے ہٹنا پڑے تو اپنی جان بچانے کے کام آسکتا ہے۔آئے دن ایسے واقعات ہوتے رہتے ہیں کہ چور مال لے کر بھاگ جاتے ہیں کیونکہ ان کو بھاگنے کی مشق ہوتی ہے مگر گاؤں والے ہانپتے ہوئے پیچھے رہ جاتے ہیں کیونکہ ان کو مشق نہیں ہوتی۔اگر بھاگنے کی مشق ہو تو چوروں کو پکڑ سکتے ہیں۔اسی طرح بیسیوں مواقع زندگی میں ایسے آتے ہیں کہ اگر انسان کو بھاگنے کی مشق ہو تو کام سدھر جاتے ہیں۔اسی طرح اور بیسیوں ایسی کھیلیں ہیں جو مفید ہو سکتی ہیں۔دو تین روز ہوئے بورڈنگ ہائی سکول میں ایک جلسہ ہوا تھا جس میں میں نے ایسی کھیلیں تفصیل سے بیان کی تھیں جن سے ذہنی ترقی کا کام لیا جا سکتا ہے اور وہ کھیلوں کا کام بھی دے سکتی ہیں اور پھر آئندہ زندگی میں بھی مفید ہو سکتی ہیں۔اس وقت میں وہ ساری تو بیان نہیں کر سکتا صرف مثال کے طور پر چند ایک بیان کر دیتا ہوں مثلاً میں نے بتایا تھا کہ ہمارے ملک میں بعض ایسی کھیلیں ہیں جو ذہنی ترقی کے لئے مفید ہو سکتی ہیں مگر ان سے پورا فائدہ نہیں اٹھایا جاتا۔بچپن میں ایک کھیل یہ کھیلی جاتی ہے کہ ایک بچہ آنکھیں بند کر کے بیٹھ جاتا ہے۔بچپن کی بعض کھیلیں لاتیں لمبی کر لیتا ہے۔ایک اس کے پیچھے بیٹھ کر اس کی آنکھوں پر ہاتھ رکھ دیتا ہے۔پھر ایک ایک کر کے دو سرے لڑکے اس کی ٹانگوں پر سے گزرتے ہیں اور پیچھے بیٹھنے والا پوچھتا ہے کہ کون گزرا۔اسے اجازت نہیں ہوتی کہ گزرنے والے کے جسم کو ہاتھ لگائے۔صرف لباس کی آواز سے وہ پہچانتا ہے کہ کون گزرا۔اگر وہ ٹھیک بتادے تو کامیاب سمجھا جاتا ہے اور دوسرا ہار جاتا ہے۔اس کھیل سے شنوائی کی طاقت اور توجہ کا مادہ بڑھتا ہے۔یہ کھیل چھوٹے بچوں کی ہے مگر اسے بنانے والے نے اس میں بہت حکمت رکھی ہے۔جس کے کان عادی ہو جائیں کہ کپڑے کی آواز سے آدمی کو پہچان لے یا خیال سے معلوم کرے کہ کون گزرا ہے تو وہ پولیس اور سکاؤٹ میں کتنا مفید ثابت ہو سکتا ہے۔ایسا شخص اگر پولیس میں جائے گا تو یقینا بہت ترقی کرے گا۔پھر ایک کھیل یہ ہوتا ہے کہ پیچھے سے آکر نوجوان حواس خمسہ کی قوت کو مشق سے بڑھائیں آنکھوں پر ہاتھ رکھ دیا۔جس کی آنکھیں اس