مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 174
174 طرح بند کر دی جائیں اس کا حق ہوتا ہے کہ پہچانے اور ہاتھ کو ہاتھ لگا کر پہچانے۔اس طرح ہاتھوں کے لمس سے پہچانے کی مشق ہوتی ہے۔یہ کھیل رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے بھی ثابت ہے۔حدیث میں آتا ہے کہ ایک صحابی بہت بد صورت اور کریہہ المنظر تھے۔قد چھوٹا تھا اور جسم پر بال بڑے بڑے تھے۔ایک دفعہ وہ بازار میں مزدوری کر رہے تھے۔پسینہ بہہ رہا تھا اور گرمی کی وجہ سے سخت گھبرائے ہوئے تھے اور ایسا معلوم ہو تا تھا کہ ابھی لڑ پڑیں گے۔پیچھے سے رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آئے۔آپ کو ان کی حالت پر رحم آیا اور ان کی دلجوئی کرنا چاہی اور ان کی آنکھوں پر ہاتھ رکھ دیئے جس کے معنے یہ تھے کہ بتاؤ کون ہے۔انہوں نے ہاتھ پر ہاتھ پھیرا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا جسم بہت نرم تھا اس لئے وہ پہچان گئے اور مذاق کے لئے آپ کے جسم مبارک کے ساتھ اپنا پسینہ والا جسم ملنے لگے اور کہا یا رسول اللہ ! میں نے پہچان لیا ہے۔یہ کھیل بھی در حقیقت اپنے اندر ایک عمدہ مشق رکھتی ہے بشرطیکہ بچوں کو عمد گما کے ساتھ کھلائی جائے اور کوشش کی جائے کہ پورا پورا فائدہ حاصل ہو۔یہ کھیلیں ایسی ہیں کہ ان سے اتنی مشق ہو جاتی ہے کہ انسان بڑے بڑے کمالات ظاہر کر سکتا ہے۔میں نے پہلے بھی کئی بار بتایا ہے کہ امریکہ کی ایک قوم ہے جسے ریڈ انڈین یعنی سرخ ہندوستانی کہا جاتا ہے کیونکہ جب یورپ والے پہلے پہل امریکہ گئے تو ان کا خیال تھا کہ ہندوستان یہی ہے بعد میں معلوم ہوا کہ ہندوستان اور ہے۔ان لوگوں کا رنگ سرخی مائل ہوتا ہے اس لئے ان کو ریڈ انڈین کہتے ہیں۔انہوں نے کانوں کی مشق میں بہت کمال حاصل کیا ہو تا تھا۔لوگ پہلے زمانہ میں ان کو مزدوری پر جنگلوں میں راہنمائی کے لئے لے جاتے تھے یا جب چور یا ڈا کو لوٹ مار کر کے بھاگتے تھے تو ان میں سے کسی کو لالچ دے کر ساتھ لے جاتے تھے اور جنگل میں چھپ جاتے تھے۔کہا جاتا ہے کہ وہ لوگ زمین پر کان لگا کر دو تین میل کے فاصلہ پر سے بتادیتے تھے کہ گھوڑے فلاں جہت سے دوڑے آ رہے ہیں اور یہ کوئی معجزہ نہیں نہ ہی وہ کوئی غیر معمولی انسان ہوتے ہیں بلکہ یہ صرف مشق کی بات ہے۔اس قوم نے کانوں کی مشق سے ایسے اصول دریافت کرلئے ہیں کہ ایسی باتیں معلوم کر لیتے ہیں جو دو سروں کو معلوم نہیں ہو سکتیں اور اس طرح چوریا ڈاکو ان کی اطلاع پر وہاں سے بھاگ کر دو سری جگہ جا چھپتے۔اگر آنکھوں سے دیکھ کر چھپنے کی کوشش کی جائے تو بچنا محال ہو جاتا ہے کیونکہ سوار پکڑ سکتے ہیں مگر جب دو تین میل کے فاصلہ پر سے ہی اطلاع مل جائے تو ان کے وہاں پہنچنے تک وہ آگے نکل کر جاسکتے ہیں۔اس طرح زبان ، ناک ہاتھ اور کان کی مشق بہت کام آنے والی چیزیں ہیں۔ان سے ذہانت میں بھی ترقی ہوتی ہے۔ذہانت حواس خمسہ کی تیزی کا نام ہے اور جو اس کی تیزی کے لئے ایسی کھیلیں ایجاد کی جاسکتی ہیں بلکہ ہمارے بزرگوں نے ایجاد کی ہوئی ہیں جو کھیل کی کھیل ہیں اور آئندہ زندگی کے فوائد بھی ان میں مخفی ہیں۔خدام الاحمدیہ کو چاہئے کہ اس بات کو اپنی سکیم میں شامل کریں اور جماعت میں ان کو رائج کریں۔میں نے جلسہ سالانہ کے موقع پر بھی کہا تھا کہ جماعت ورزش جسمانی کی طرف خاص طور پر زور دے اور اب میں یہ کام بھی خدام الاحمدیہ کے سپرد کرتا ہوں کیونکہ یہ نوجوانوں سے تعلق رکھتا ہے۔پس خدام الاحمدیہ اسے