مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 171
171 بھی فائدہ پہنچانے والی ہوں اور آئندہ زندگی میں بھی بچہ ان سے فائدہ اٹھا سکے۔ان میں تین باتوں کا خیال رکھا جائے۔ایک تو جسم کو فائدہ پہنچے۔دوسرے ذہن کو فائدہ پہنچے اور تیسرے وہ آئندہ زندگی میں ان کے کام آسکیں۔جس کھیل میں یہ تینوں باتیں ہوں گی وہ کھیل کھیل ہی نہیں بلکہ اعلیٰ درجہ کی تعلیم بھی ہوگی اور وہ طالب علم کے لئے ایسی ہی ضروری ہوں گی جیسی کتابیں۔جب میں کہتا ہوں کہ کھیلیں ایسی ہوں جو ذہنی تربیت کے لئے مفید ہوں تو میرا مطلب یہ ہے کہ ان کے ساتھ بچوں کی دلچسپی بھی قائم رہے۔یہ نہیں ہونا چاہئے کہ وہ ایک فلسفہ بن جائے اور بچوں کو زبر دستی کھلانی پڑیں۔ایسی کھیل ذہنی نشو و نما کا موجب نہیں ہو سکتی اور نہ ہی جسم اس سے پورا فائدہ اٹھا سکتا ہے۔میں نے بارہا اس امر کی طرف توجہ دلائی ہے اور بتایا ہے کہ یہ کام نہایت آسانی سے کیا جا سکتا ہے اور ورزش کے شعبہ کو مفید بلکہ مفید ترین بنایا جاسکتا ہے بشرطیکہ اس میں تین باتوں کا خیال رکھا جائے۔ایک تو یہ کہ وہ آئندہ زندگی میں بھی مفید ثابت ہونے والی ہوں۔نہ صرف بچپن میں بلکہ بڑے ہو کر بھی فائدہ دینے والی ہوں۔بچپن میں کھیل کا جو فائدہ ہوتا ہے وہ بھی حاصل ہو۔جسم بھی مضبوط ہو اور ذہن بھی ترقی کرے۔بچپن میں جو کہانیاں بچوں کو سنائی جاتی ہیں ان کا مقصد ایک تو یہ ہو تا ہے کہ بچہ شور نہ کرے اور ماں باپ کا وقت ضائع نہ کرے لیکن اگر وہ کہانیاں ایسی ہوں جو آئندہ زندگی میں بھی فائدہ دیں تو یہ کتنی اچھی بات ہے جیسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہمیں کہانیاں سنایا کرتے تھے۔کہانیاں سنانے کا جو فائدہ اس وقت ہو تا ہے وہ بھی ان سے حاصل ہو تا تھا۔اگر اس وقت آپ وہ کہانیاں نہ سناتے تو پھر ہم شور مچاتے اور آپ کام نہ کر سکتے۔پس یہ ضروری ہو تاکہ ہمیں کہانیاں سنا کر چپ کرایا جاتا اور یہی وجہ تھی کہ رات کے وقت ہماری دلچسپی کو قائم رکھنے کے لئے آپ بھی جب فارغ ہوں، کہانیاں سنایا کرتے تھے تاہم سو جائیں اور آپ کام کر سکیں۔بچہ کو کیا پتہ ہو تا ہے کہ اس کے ماں باپ کتنا بڑا کام کر رہے ہیں۔اسے تو اگر دلچسپی کا سامان مہیانہ کیا جائے تو وہ شور کرتا ہے اور کہانی سنانے کا مقصد یہ ہو تا ہے کہ بچے سو جاتے ہیں اور ماں باپ عمدگی سے کام کر سکتے ہیں اور کہانیوں کی یہ ضرورت ایسی ہے جسے سب نے تسلیم کیا ہے گو وہ عارضی ضرورت ہوتی ہے۔اس وقت اس کافائدہ صرف اتنا ہو تا ہے کہ بچہ کو ایسی دلچسپی پیدا ہو جاتی ہے کہ وہ محو ہو کر سو جاتا ہے۔ماں باپ کا مقصد یہ ہو تا ہے کہ ہمارا اوقت ضائع نہ ہو اس لئے وہ اسے لٹا کر کہانیاں سناتے ہیں یا ان میں سے ایک اسے ملاتا ہے اور دوسرا کام میں لگا رہتا ہے یا پھر ایک سناتا ہے اور باقی خاندان آرام سے کام کرتا ہے۔اگر اس وقت فضول اور لغو کہانیاں بھی سنائی جائیں تو یہ مقصد حاصل ہو جاتا ہے مگر ہم اس پر خوش نہیں ہوتے بلکہ چاہتے ہیں کہ ایسی کہانیاں اسے سنائیں کہ اس وقت بھی فائدہ ہو یعنی ہمارا وقت بچ جائے اور پھر وہ آئندہ عمر میں بھی اسے فائدہ پہنچائیں اور جب کہانیوں کے متعلق یہ کوشش کرتے ہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ کھیل کے معاملہ میں بچوں کو یونہی چھوڑ دیں کہ جس طرح چاہیں ، کھیلیں۔اگر یہ طریق کھیلوں کے متعلق درست ہے تو کہانیوں کے متعلق کیوں اسے اختیار نہیں کیا جاتا اور کیوں نہیں بچوں کو چھوڑ دیا جاتا کہ جیسی کہانیاں ہوں سن لیں۔جب کہانیوں کے متعلق ہمارا یہ نظریہ ہے کہ وہ ایسی ہوں جو اسے