مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 170
170 انتظام کے لئے جو کھیل کا زمانہ ہے اور جس میں کھیل کے ذریعہ علم کا سکھانا ضروری ہوتا ہے اور اس عمر کے لئے جب بچہ علم کی سب سے مضبوط بنیاد قائم کر رہا ہوتا ہے، ایسے جاہلوں پر بچوں کو چھوڑ دیا جاتا ہے جو انسانی فطرت کا مطالعہ کرنے کی قابلیت ہی نہیں رکھتے۔یہ ایسی ہی بات ہے کہ جیسے کوئی شخص اپنے بچہ کے لئے جب وہ بہت چھوٹی عمر کا ہو اعلیٰ درجہ کے درزی سے سوٹ سلوائے مگر جب وہ بڑا ہو کر سوسائٹی میں ملنے جلنے لگے تو اس کے لئے کپڑے کسی گاؤں کی در زن سے سلوائے حالانکہ چھوٹا بچہ تو جیسے بھی کپڑے پہن لے کوئی حرج نہیں ہو تا لیکن بڑا ہو کر کپڑوں کا خاص خیال رکھنا پڑتا ہے۔بعض پابندیاں بڑے آدمیوں کے لباس کے لئے قانون کی طرف سے ہوتی ہے۔بعض اصول صحت کی طرف سے اور بعض سوسائٹی کی طرف سے اور وہ ان کا خیال رکھنے کے لئے مجبور ہوتا ہے مگر کس قدر عجیب بات ہو گی کہ اس زمانہ کا لباس تو کسی اناڑی کے سپرد کر دیا جائے مگر جب وہ بہت چھوٹا بچہ ہو تو اس کے لئے اعلیٰ درجہ کے درزی سے سوٹ سلوائے جائیں۔بچپن کے زمانہ میں پہلا زمانہ وہ ہوتا ہے جب بچے کو کہانیوں کے ذریعہ دلچسپی پیدا کی جاتی اور تعلیم دی جاتی ہے۔اس زمانہ کے متعلق دنیا کا متفقہ فیصلہ ہے کہ اعلیٰ درجہ کی دماغی قابلیت رکھنے والوں کے سپرد یہ کام ہونا چاہئے اور اس بات کو ہم نظر انداز نہیں کر سکتے اور اس بات کو نہایت ضروری اور مناسب سمجھتے ہیں کہ کہانیوں کو ایسے رنگ میں بچہ کے سامنے پیش کیا جائے کہ جس سے وہ زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھا سکے۔اسے ایسی کہانیاں سنائی جائیں جو اس کے اخلاق کو بلند ، نظر کو وسیع اور اس کے اندر ہمت پیدا کرنے والی ہوں اور اس کے اندر قومی ہمدردی کا مادہ پیدا کریں مگر اس کے بعد کا زمانہ جو زیادہ اہم ہوتا ہے اور جو کھیل کود کا زمانہ ہے، حیرت ہے کہ بنی نوع نے اس کی ضرورت اور اہمیت کو محسوس ہی نہیں کیا کہ وہ بھی اسی طرح اعلیٰ درجہ کے لوگوں کی نگرانی میں ہونا چاہئے۔کہانیوں کے متعلق تو یہ خیال رکھا جاتا ہے کہ وہ اعلیٰ درجہ کے بچوں کی زندگی میں کھیل کود کی اہمیت دماغوں اور فاضل لوگوں کی تیار کردہ ہوں اور ایسے رنگ کی ہوں کہ جس سے بچوں کو فائدہ پہنچے مگر کھیل کے زمانہ کا کوئی خیال ہی نہیں رکھا جا تا اور یہ کہ دیا جاتا ہے کہ یہ کھیل کو د بچوں کا کام ہے ، بڑوں کا اس میں دلچسپی لینا مناسب نہیں حالانکہ اگر کھیل کو د بچوں کا کام ہے تو کہانیاں بھی تو بچوں سے ہی تعلق رکھتی ہیں۔پھر جب ابتدائی عمر کی کھیل یعنی کہانیوں کے متعلق احتیاط کی جاتی ہے تو کیوں بڑی عمر کی کھیل میں اس سے زیادہ احتیاط نہ برتی جائے۔اس زمانہ میں جو تعلیم دی جاتی ہے وہ تو کہانیوں کے زمانہ سے بہت زیادہ اہم ہوتی ہے۔پس میں خدام الاحمدیہ کو نصیحت کرتا ہوں کہ بچوں کسی قسم کی کھیل اعلیٰ تعلیم بن جاتی ہے کے کھیل کود کے زمانہ کو وہ زیادہ سے زیادہ مفید بنانے کی کوشش کریں اور کوشش کریں کہ کھیلیں ایسی ہوں کہ جو نہ صرف جسمانی قوتوں کو بلکہ ذہنی قوتوں کو