مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 161
161 ہے۔سزا بنی نوع انسان کے لئے ایک رحمت کا خزانہ ہے۔اگر یہ فائدہ کی چیز نہ ہوتی تو ہمارا خدا کبھی ملک یوم الدین نہ بنتا۔ہمارا خدا کبھی تہار نہ بنتا۔وہ صرف رحیم اور کریم ہی ہو تا مگر وہ رحیم اور کریم ہی نہیں بلکہ شدید العقاب اور شديد البطش بھی ہے۔پھر کیا تم سمجھتے ہو کہ صرف میں منصف ہوں یا تم منصف ہو لیکن ہمارا خد ا ظالم ہے کیونکہ وہ بنی نوع انسان کو سزا بھی دیتا ہے۔اس سے زیادہ بے حیائی کا عقیدہ اور کون سا ہو سکتا ہے اور اس سے زیادہ بے ہودہ بات اور کیا ہو سکتی ہے۔پس یقیناً مجرم کو سزا دینا ضروری ہے۔یقیناً سزا کے بعد قوم ترقی کرتی ہے اور یقینا سزا کے بغیر صحیح ذہانت پیدا نہیں ہوتی۔جب کسی کو علم ہو کہ اگر میں نے فلاں کام خراب کیا تو مجھے سزا ملے گی تو وہ اپنے دماغ پر زور ڈال کر ہوش سے کام کرے گا تاکہ اسے سزا نہ ملے اور جب وہ ہوش سے کام لے گا تو وہ سزا سے بچ جائے گا اور اس کا ذہن بھی تیز ہو جائے گا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ذہانت پیدا کرنے کا ذہانت پیدا کرنے کے دو اہم ذریعے (۱) محبت (۲) سزا پہلا ذریعہ محبت ہے چنانچہ دیکھ لو ماں کسی طرح ہر وقت اپنے بچہ کا فکر رکھتی ہے۔اس کا یہ فکر ہی اس کی ذہانت کا موجب ہے۔فرق صرف یہ ہے کہ اس کی ذہانت محدود ہوتی ہے اور ذہین شخص کی ذہانت وسیع ہوتی ہے ورنہ بیوقوف شخص بھی بعض دفعہ ایسے معاملہ میں آکر بڑا ذہین بن جاتا ہے جس میں اس کا ذاتی فائدہ ہوتا ہے لیکن وہ ذہین نہیں کہلا سکتا کیونکہ اس کی ذہانت محدود اور وقتی ہوتی ہے اسی طرح ماں بھی اپنے بچہ کے متعلق برای ذہانت سے کام لیتی ہے اور اس کی ہر ضرورت کا فکر رکھتی ہے لیکن اس کی یہ ذہانت محدود ہوتی ہے۔بہر حال ذہانت یا محبت سے پیدا ہوتی ہے یا خوف سے پیدا ہوتی ہے۔خوف کے وقت بھی انسانی ذہن خوب تیز ہو جاتا ہے یا پھر تجربہ سے انسانی ذہن تیز ہو جاتا ہے۔یہی چند امور جن کا ذہانت کے پیدا کرنے میں بہت بڑا دخل ہے مگر جو محدود ذہانت ہو اس کا کسی خاص پہلو میں تو فائدہ ہو سکتا ہے مگر باقی امور میں نہیں۔ایسا شخص کو اپنے فائدہ یا اپنے بچے کے فائدہ کے لئے بڑی ذہانت کا ثبوت دے گا مگر قوم کے لئے وہ مفید نہیں ہو گا کیونکہ اس کی ذہانت محدود ہے۔انہی محدود ذہینوں میں سے میں نے ماں کو پیش کیا ہے۔وہ عام طور پر اپنے بچہ کے متعلق ایسی ایسی فکر میں رکھتی ہے کہ دوسرے حالات میں ویسی فکر میں انسان کو نہیں سوجھ سکتیں۔وہ بعض دفعہ اپنے بچہ کے متعلق اتنا سوچتی ہے کہ کہتی ہے میں دس سال کے بعد یہ کروں گی اور وہ کروں گی تو اس ذہانت کی محرک محبت ہے۔اسی طرح کبھی خوف ذہانت کا محرک ہو جاتا ہے۔میں اس وقت جس ذہانت کی طرف توجہ دلا رہا ہوں وہ عام ذہانت ہے۔محبت بے شک پہلی چیز ہے جو ذہانت کو پیدا کرتی ہے مگر یہ محبت تو ایمان پہلے ہی پیدا کر رہا ہے اور خصوصاً جب قومی کاموں میں نوجوان حصہ لیں گے اور قومی روح اپنے اندر پیدا کریں گے جس کا پیدا کرنا میں ان کے مقاصد میں سے ایک مقصد قرار دے چکا ہوں تو لازماً محبت بھی پیدا ہوگی اور محبت کے نتیجہ میں جو ذہانت پیدا ہوتی ہے وہ بھی ان میں رونما ہو گی مگر دوسرا حصہ ذہانت کا سزا سے مکمل ہوتا ہے۔