مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 160
160 ایسے معاملات میں سزا کے قائل ہی نہ تھے۔اس واقعہ سے تم سمجھ سکتے ہو کہ ایسے معاملات میں موقع کے مناسب حال سز اذہانت کو تیز کرتی ہے ہماری ذہنیتیں کسی قسم کی ہو رہی ہیں حالانکہ حق یہ ہے کہ سزا ذ ہن کو تیز کرتی ہے اور جس طرح دنیوی انتظامات میں سزا دینا ضروری ہے اور اس سے قوم میں ایسا احساس پیدا ہو جاتا ہے کہ لوگ غلطی سے حتی الوسع بچنے لگ جاتے ہیں اور ذہن تیز ہو جاتے ہیں۔ہمارے ملک میں عام طور یہ خیال کرتے ہیں کہ سزا دینا ایک ظلم ہے اور صرف اظهار ندامت کافی نہیں جن لوگوں سے غلطی ہوتی ہے خصوصاً جب کہ وہ اعزازی کارکن ہوں، وہ اور ان کے دوست خیال کرتے ہیں کہ ایسے موقعہ پر صرف اظہار ندامت کافی ہو نا چاہئے لیکن اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ ایسے کاموں میں اپنے دماغوں کو پوری طرح نہیں لڑاتے اور آہستہ آہستہ قوم کے ذہن کند ہوتے چلے جاتے ہیں۔اگر وہ ان کاموں میں سزا کو ضروری قرار دیتے تو ضرور احتیاط سے کام کرنے کے عادی ہو جاتے اور ذہن تیز ہوتے جاتے۔میں نے دیکھا ہے کہ جب کسی سے غلطی ہو اور اسے سزا دینے کی تجویز ہو تو بڑے بڑے لوگ فورا اس کی سفارشیں لے کر میرے پاس پہنچ جاتے ہیں اور یہ نہیں سوچتے کہ اللہ تعالی سے زیادہ کون رحیم ہے مگر وہ بھی ایسے موقعہ پر سزا دیتا ہے۔ذرا غور تو کرو اگر یہ اصول درست ہو اور قیامت کے دن بھی ایسا ہی ہو تو قرآن کریم میں جو کچھ آخرت کے متعلق آیا ہے وہ کس طرح مضحکہ انگیز طور پر ایک تماشہ بن جائے مثلاً اگر فرعون کی سزا ملنے لگے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھی کھڑے ہو کر کہیں کہ حضور اس سے غلطی ہو گئی ہے۔اب یہ معافی طلب کرتا ہے اسے اب معاف کر دیا جائے تو کیا خد اتعالیٰ اسے معاف کر دے گا اور کیا اس قسم کی معافی اس روحانیت کی تکمیل کا موجب ہو گی جو اللہ تعالی پیدا کرنا چاہتا ہے یا مثلا جب ابو جہل کو سزا ملنے لگے تو رقعوں کا ڈھیر خدا تعالیٰ کے سامنے لگ جائے اور پندرہ میں محضر نامے پیش ہو جائیں جن پر لوگوں کی طرف سے یہ درخواست ہو کہ اسے معاف کیا جائے تو کیا خد اتعالیٰ اسے معاف کر دے گا ؟ اگر اس قسم کے رقعے آنے لگیں تو پھر تو خداتعالی کے گا جب سب فیصلے تم نے خود ہی کرنے ہیں تو میں کس لئے یہاں بیٹھا ہوں۔اٹھاؤ دوزخ اور سب کو معاف کرو۔پس اگر خداتعالی کا کسی سز ابلا اور عذاب نہیں بلکہ بنی نوع انسان کے لئے رحمت کا خزانہ ہے کو سزا دینا ظلم نہیں اور کسی کا کوئی حق نہیں کہ اس کے سامنے سفارش کرے تو کیا میں یا تم خدا تعالٰی سے زیادہ رحم اپنے اندر رکھتے ہیں کہ ہم سزا کو ایک بلا اور عذاب تصور کرتے ہیں۔یہ یقینا دماغ کی کمزوری اور ذہانت کی کمی کی علامت ہے اور یہ یقینا اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم سمجھتے ہی نہیں کہ سزا کیوں مقرر کی گئی ہے۔سزا ایک بہت بڑے فائدہ کی چیز