مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 159 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 159

159 اس امر پر زور دینا شروع کیا کہ اس شخص کو سخت سزا دینی چاہئے کیونکہ اس نے بد دیانتی کی ہے اور اسے بد دیانتی کے جرم میں علیحدہ کر دینا چاہئے۔میں نے اس کے مقابلہ میں کہا اس میں کوئی شبہ نہیں ، اس شخص سے قانونی بد دیانتی ضرور ہوئی ہے لیکن فیصلہ کرتے وقت ہمیں یہ بھی غور کرنا چاہئے کہ اس شخص کا ماحول کیا ہے اور آیا اس سے جو بد دیانتی سرزد ہوئی ہے یہ نا سمجھی کی وجہ سے سرزد ہوئی ہے یا شرارت کی وجہ سے سرزد ہوئی ہے۔اگر یہ ثابت ہو جائے کہ یہ بد دیانتی اس نے شرارت کے طور پر کی اور انجمن کو نقصان پہنچانے کے لئے کی ہے تو اسے واقعہ میں سخت سزا ملنی چاہئے لیکن اگر یہ ثابت ہو کہ اس نے شرار تا ایسا نہیں کیا محض غفلت کی وجہ سے اس نے ایسا کیا ہے اور یہ خیال کر کے کچھ روپیہ خرچ کر لیا ہے کہ اگلی تنخواہ میں سے دے دوں گا تو کو بد دیانتی یہ بھی ہے مگر یہ شرارت والی بد دیانتی سے مختلف ہے اور ہمیں سزا میں نرمی کرنی چاہئے چنانچہ میں نے کہا اس شخص نے ہماری خاطر ایک اچھی نوکری چھوڑی اور یقینا وہ نوکری جو ہماری ہے ، یہ اس کی پہلی نوکری کا قائم مقام نہیں ہو سکتی۔پس جب اس کی ہماری خاطر قربانی ثابت ہے تو گو اس کا فعل بد دیانتی ہی قرار دیا جائے گا مگر یقیناوہ اس حد تک نہیں جس حد تک شرارتی بد دیانتی ہوتی ہے۔ہمارے ساتھیوں میں سے ایک دوست یہ تمام تقریریں سنتے رہے اور خاموشی سے بیٹھے رہے اور انہوں نے اس میں کوئی دخل نہ دیا مگر جب بحث لمبی ہو گئی تو وہ جوش سے کھڑے ہو گئے اور کہنے لگے میری سمجھ میں نہیں آتا کہ آپ لوگ کیا بیوقوفی کی باتیں کر رہے ہیں۔نہ کالج والوں کی بات میری سمجھ میں آتی ہے اور نہ (میری طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا) ان کی۔یہ دونوں کہتے ہیں کہ اس شخص نے بد دیانتی کی۔فرق صرف یہ ہے کہ ایک فریق کہتا ہے اس نے شرارت والی بد دیانتی کی اور دوسرا کہتا ہے یہ نادانی کی بد دیانتی ہے۔ایک کہتا ہے سزا دینی چاہئے اور دوسرا کہتا ہے سزا نرم دینی چاہئے مگر دونوں اس کو بد دیانت قرار دیتے ہیں اور اس کے فعل کو قابل سزا قرار دیتے ہیں حالانکہ بات دونوں کی غلط ہے اور خواہ مخواہ اس مجلس میں بلا کر ہمارا وقت ضائع کیا گیا ہے۔آپ لوگ مجھے یہ بتائیں کہ یہ جو مجلس تشحیذ الاذہان کا روپیہ ہے یہ آپ کا ہے یا خدا کا۔ہم نے کہا خدا کا۔وہ کہنے لگے جب خدا کا ہے تو اگر خدا کے بندے نے کچھ روپیہ لے لیا تو تم ہو کون جو اسے بد دیانت اور خائن قرار دو۔ہم نے اس پر انہیں بہتیرا سمجھایا اور دلیلیں دیں کہ آپ کی یہ بات درست نہیں مگروہ یہی کہتے چلے گئے کہ مال بھی خدا کا اور بندہ بھی خدا کا۔میری سمجھ میں تو اور کوئی بات آتی ہی نہیں۔ہم نے کہا اس کا تو یہ مطلب ہے کہ دینی خزانہ میں سے جو روپیہ کسی کے ہاتھ آئے وہ اٹھا کر چلتا بنے مثلا صد را انجمن احمدیہ میں مال آتا ہے تو محاسب صاحب سیف اٹھا کر گھر لے جائیں اور کہیں خدا کا مال اور خدا کا بندہ۔جب مال خدا کا ہے تو میرا اسے اپنے نفس پر خرچ کرنا کہاں گناہ ہوا اور جب ہم انہیں پکڑیں تو وہ کہیں اچھا تاؤ تم نے خدا کی خاطر مال دیا تھایا نہیں اور جب ہم کہیں کہ ہاں دیا تھا تو وہ کہیں کہ بس پھر میں بھی اس کا بندہ ہوں اور خدا کا بندہ خدا کا مال لے جارہا ہے۔وہ کہنے لگے اگر کوئی لے جاتا ہے تو لے جائے ہمیں اس میں دخل نہیں دینا چاہئے۔ہم نے انہیں بہت ہی سمجھایا مگر یہ مسئلہ کچھ اس طرح ان کے دماغ میں مرکوز تھا کہ آخر تک ہماری بات ان کی سمجھ میں نہ آئی کیونکہ وہ