مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 141
141 ایک کے حصہ میں آئیں گے اور پھر اس خرچ کو پانچ سال پر لے جایا جائے تو سات پیسے فی سال کا خرچ ہو گا۔اگر اس خرچ سے صفائی کی حالت اچھی ہو جائے تو کتنا ستا ہے۔اس سے انسان آنحضرت مالی کی لعنت سے بھی بچ سکتا ہے۔اس قسم کی صفائی اگر سب جگہ جاری کی جائے تو یہ ایک بڑی نیکی ہوگی۔دیہات میں بھی اس کی طرف توجہ کی جانی چاہئے۔وہاں لوگ گندگی کو روڑی کے نام سے محفوظ رکھتے ہیں۔حالانکہ گو ر نمنٹ کی طرف سے بارہا اس حقیقت کا اعلان کیا گیا ہے کہ اس طرح کھاد کا مفید حصہ ضائع ہو جاتا ہے۔نوشادر وغیرہ کے جو اجزاء اس میں ہوتے ہیں وہ سب اڑ جاتے ہیں۔کھاد تبھی اچھی ہو سکتی ہے جب زمین میں دفن ہو۔نگی رہنے سے سورج کی شعاعوں کی وجہ سے اس کی طاقت کا مادہ اڑ جاتا ہے۔اس لئے اچھی کھاد وہ ہے جو زمین میں دفن رہے۔تو جو رو ڑیاں دیہات میں رکھی جاتی ہیں وہ گند ہوتا ہے ، کھاد نہیں۔گوبر اور دوسری غلاظت کو کھاد کی شکل میں تبدیل کر کے پیش بہا فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے پھر اس میں روڑی کے علاوہ زمینداروں کے مد نظر ایک اور سوال اپلوں کا ہوتا ہے جو وہ جلاتے ہیں حالانکہ یہ کتنی غلیظ بات ہے کہ پاخانہ سے روٹی پکائی جائے۔مانا کہ وہ پاخانہ جانور کا ہے مگر کیا جانور کا پاخانہ کھانے کے لئے کوئی تیار ہو سکتا ہے۔اسی پر رکھ کر پھلکے سینکتے ہیں اور پھر انہیں کھاتے ہیں۔بائبل میں یہود کی سزا کے متعلق آتا ہے۔تم انسان کے پاخانہ سے روٹی پکا کر کھاؤ گے۔( حز قیل ب ۴ آیت (۱۲) گو وہاں انسانی پاخانہ کا ذکر ہے مگر جانور کا پاخانہ بھی تو گندی شے ہے۔خواہ نسبتا کم ہو۔اس سے روٹی پکانی بھی یقیناً ایک سزا ہے۔مگر دیہات میں اس کی آگ جلائی جاتی ہے۔اس سے کھانا پکایا جاتا ہے۔حالا نکہ اگر درخت لگانے کی عادت ڈالی جائے تو یہ کئی لحاظ سے مفید ہو۔شجر کاری کے فوائد اور اہمیت جلانے کے لئے لکڑی بھی مل جائے سایہ بھی ہو اور پھر ایسے درخت لگائے جاسکتے ہیں جن کا فائدہ بھی ہو۔مثلاً شہتوت کے درخت ہیں۔ان پر اگر ریشم کے کیڑے چھوڑ دئے جائیں تو ایک ایک درخت پر دس روپیہ کاریشم تیار ہو سکتا ہے اور اگر دو چار درخت ہی اس کے لگا لئے جائیں تو گھر والوں کے کپڑے ہی اس کی آمد سے تیار ہو سکتے ہیں اور لکڑی بھی جلانے کے لئے کافی مل سکے گی۔پھر جس جگہ درخت ہوں وہاں بارشیں بھی زیادہ ہوتی ہیں اور جہاں درخت نہ ہوں وہاں بارش کم ہوتی ہے۔اور جب ہو تو مٹی بہہ بہہ کر وہ جگہ نشیب بن جاتی ہے۔غرضیکہ بیسیوں فوائد ہیں مگر اپلوں کے استعمال سے زمینداران محروم رہتے ہیں۔اس کی وجہ سے درخت کی ضرورت بہت کم محسوس کی جاتی ہے، اس لئے لوگ لگاتے ہی نہیں۔صرف ہل وغیرہ کے لئے لکڑی کی ضرورت ان کو پیش آتی ہے۔باقی کھانا وغیرہ گوبر سے پکا لیتے ہیں۔ہاتھ سے کام میں جو صفائی کا حصہ ہوتا ہے اس کے ضمن میں میں نے یہ مثال دی ہے۔اس تحریک