مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 140
140 جب تک یہ شروع نہیں ہوتا وہ یہ دیکھیں کہ لوگ سڑکوں اور گلیوں کو صاف ستھرارکھنے کی مہم گلیوں میں گند نہ پھینکیں اور اگر کوئی پھینکے تو سب مل کر اسے اٹھا ئیں۔تھوڑی سی محنت سے صفائی کی حالت اچھی ہو سکتی ہے۔گاؤں میں رہنے والے احمدیوں کو بھی صفائی کی طرف خاص توجہ چاہئے۔میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ وہ صفائی کا خیال نہیں رکھتے۔میں نے دیکھا ہے بعض زمیندار عورتیں بیعت کے لئے آتی ہیں۔کسی کے بچہ نے فرش پر پاخانہ کر دیا تو اس نے ہاتھ سے اٹھا کر جھولی میں ڈال لیا اور سمجھ لیا کہ بس صفائی ہو گئی۔ان کے جانے کے بعد ہم اسے دھوتے ہیں۔لیکن وہ اپنی طرف سے سمجھ لیتی ہیں کہ بس صفائی ہو چکی۔یہ حالت میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھی ہے اور ایک دفعہ نہیں بیسیوں دفعہ۔اب غور تو کرو۔محمد رسول اللہ لا لا لا لیا جو فرماتے ہیں کہ رستہ میں پاخانہ کرنے والے پر خدا کی لعنت ہوتی ہے کیا وہ اس نظارہ کو برداشت کر سکتے تھے۔پھر یہی نہیں میں نے بعض زمیندار عورتوں کو اپنے دوپٹہ سے بچہ کی طہارت کرتے دیکھا ہے۔وہ یہ سمجھ لیتی ہیں کہ بس بچہ کی صفائی ہو گئی اور یہ خیال بھی نہیں کرتیں کہ بچہ کا پاخانہ اپنے سر پر رکھ رہی ہیں۔ہمارے ملک میں گندگی کا مفہوم بالکل بدل گیا ہے اور یہ ہاتھ سے کام نہ کرنے کا ہی نتیجہ ہے۔یہ سب کسل اور سستی ہے کہ کون اٹھے اور کون دھوئے ؟ اور کون صفائی کرتا پھرے۔میں نے خدام الاحمدیہ کو توجہ دلائی تھی کہ وہ اس کام کو خاص طور پر شروع کریں اور اب بھی جب تک وہ سکیم نہ بنے ہر محلہ کے ممبر ذمہ دار سمجھے جائیں اس محلہ کی صفائی کے۔پہلے لوگوں کو منع کرو اور سمجھاؤ کہ گلی میں گند نہ پھینکیں اور اگر وہ پھر بھی باز نہ آئیں تو پھر خود جا کر اٹھا ئیں۔جب وہ خود اٹھا ئیں گے تو پھینکنے والوں کو بھی شرم آئے گی اور جب عورتیں دیکھیں گی کہ وہ جو گند گلی میں پھینکتی ہیں وہ ان کے باپ یا بھائی یا بیٹے کو اٹھانی پڑتی ہے تو وہ سمجھیں گی یہ برا کام ہے اور وہ اس سے باز رہیں گی۔لوگ ہزار یا پانچ سو یا کم و سڑکوں اور گلیوں کے کنارے موزوں جگہ پر گڑھا بنایا جائے بیش روپیہ لگا کر مکان بنا لیتے ہیں مگر یہ نہیں کرتے کہ چند فٹ کا ایک چھوٹا سا گڑھا گلی میں بنوالیں اور اس گلی کے سنہ مکانوں والے اس میں گندی چیزیں پھینکیں اور پھر صفائی کرنے والے آکر وہیں سے لے جائیں۔یورپ میں میں نے دیکھا ہے سب سڑکوں پر ایسے گڑھے ہوتے ہیں جن کے اوپر ڈھکنے پڑے رہتے ہیں لوگ اس میں گندی چیزیں پھینک جاتے ہیں اور سرکاری آدمی آکر اٹھاتے جاتے ہیں۔اگر یہ طریق یہاں بھی اختیار کر لیا جائے تو بہت مفید ہو گا۔اگر ہر گلی والے صفائی کے خیال سے ایسا گڑھا بنوا ئیں تو اس پر زیادہ سے زیادہ چار پانچ روپیہ خرچ ہو گا اور میرے نزدیک وہ پانچ چھ سال تک کام دے سکتا ہے۔اس کے بعد بھی اگر مرمت کی ضرورت پیش آئے تو اس پر روپیہ دور د پیر سے زیادہ خرچ نہ ہو گا اور اگر گلی میں دس گھر ہوں تو آٹھ آٹھ آنہ ہر