مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 130
130 خدام الاحمدیہ کے مقاصد میں سے چار ہاتھ سے کام کرنے کی عادت اور اس کی اہمیت و افادیت کے متعلق میں اس وقت تک توجہ دلا چکا ہوں اور آج پانچویں امر کے متعلق توجہ دلاتا ہوں اور وہ ہاتھ سے کام کرنے کی عادت ہے۔یہ معاملہ بظاہر چھوٹا سا نظر آتا ہے لیکن دراصل یہ اپنے اندر اتنے فوائد اور اتنی اہمیت رکھتا ہے کہ اس کا اندازہ الفاظ میں نہیں کیا جاسکتا۔در اصل دنیا کی اقتصادی حالت اور اخلاقی حالت اور اس کے نتیجہ میں مذہبی حالت جو ہے اس پر علاوہ دینی مسائل کے جو چیزیں اثر انداز ہوتی ہیں ان میں سے یہ مسئلہ بہت ہی اہمیت رکھتا ہے۔اقتصادی اور اخلاقی حالت کی تباہی بہت کچھ مبنی ہے ان دو باتوں پر کہ دنیا میں بعض لوگ کام کرنا چاہتے ہیں اور ان کو کام ملتا نہیں اور بعض ایسے لوگ ہیں کہ انہیں کام کرنے کے مواقع میسر ہیں مگر وہ کام کرتے نہیں۔یہ تمام آج کل کی لڑائیاں، یہ بالشوازم یہ فیسی ازم کی تحریکیں ، سوشلزم اور کیپٹلزم کے دنیا پر حملے۔یہ سب در حقیقت اس چھوٹے سے نقطہ کے ارد گرد گھوم رہے ہیں۔لاکھوں کروڑوں انسان ایسے ہیں جو چاہتے ہیں کہ کام کریں مگر انہیں کام میسر نہیں آتا اور لاکھوں کروڑوں انسان ایسے ہیں جو کام کر سکتے ہیں مگر کرتے نہیں۔جو لوگ کام کرنا چاہتے ہیں مگر انہیں ملتا نہیں اس کی بنیاد بھی در حقیقت اسی مسئلہ پر ہے کہ کچھ لوگ دنیا میں ایسے ہیں کہ جو کام کر سکتے ہیں انہیں مواقع میسر ہیں مگر وہ کرتے نہیں۔یہ لوگ آگے پھر دو گروہوں میں تقسیم شدہ ہیں۔ایک وہ جن کے پاس اتنی دولت ہے کہ وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ باقی دنیا کو ہماری خدمت کرنی چاہئے اور ہم گویا ایک ایسا وجود ہیں جو دنیا سے خدمت لینے کے لئے پیدا کئے گئے ہیں۔یہ گردہ فطرتی طور پر اس ہتھیار کو زیادہ سے زیادہ مضبوط کرنے کی کوشش کرتا ہے جواتے لوگوں سے زیادہ سے زیادہ خدمت لینے کے قابل کر دے اور وہ دولت ہے۔جب انسان یہ سمجھے کہ اس کی عزت اور امن و راحت کا انحصار دولت پر ہے تو وہ لازمی طور پر اپنی دولت کو بڑھانے کی کوشش کرتا ہے۔یہ ایک طبعی چیز ہے۔ہم اس اصول کو غلط کہہ سکتے ہیں کہ دنیا میں دولت سے عزت اور راحت حاصل ہوتی ہے۔مگر یہ ہم نہیں کہہ سکتے کہ جو شخص یہ سمجھتا ہے وہ اسے بڑھانے میں غلطی کرتا ہے۔وہ اپنے نقطہ نگاہ سے بالکل صحیح کرتا ہے۔مومن یہ سمجھتا ہے کہ اس کی ساری عزت خداتعالی کے ساتھ تعلق میں ہے اور کیا ہم اسے روکیں گے کہ یہ تعلق نہ بڑھا۔یا اگر وہ یہ کو شش کرے تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ وہ غیر طبعی فعل کرتا ہے۔جب اس کا یہ عقیدہ ہے کہ تمام عزتیں اور راحتیں خدا تعالی سے تعلق کے ساتھ وابستہ ہیں تو وہ قدرتی طور پر کوشش کرے گا کہ اس تعلق کو بڑھائے۔اسی طرح جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ اس کی ساری عزت اور راحت و امن دولت میں ہے تو ضرور ہے کہ وہ دولت بڑھانے کی کوشش کرے گا اور اس کی اس کوشش پر ہم کوئی اعتراض نہیں کر سکتے کیونکہ یہ طبعی تقاضا ہے۔ہم یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ اس کا یہ خیال غلط ہے کہ ساری عزت اور راحت دولت سے وابستہ ہے لیکن یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ عقیدہ رکھتے ہوئے دولت میں اضافہ کی کوشش کرنا غیر طبعی فعل ہے۔جس طرح ہم اس شخص کو جو یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ عزت اور راحت تعلق باللہ میں ہے، اس سے باز نہیں رکھ سکتے کہ وہ خدا تعالی سے تعلق