مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 117 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 117

117 ایک چیز کی ایک رقم معین کر کے اطلاع دے دیتے ہیں۔مثلا وہ بوٹ بناتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ اس کی قیمت ایک روپیہ فی جوڑا ہے۔اب اتنا سستا بوٹ دیکھ کر بڑے بڑے تاجرا نہیں آرڈر دے دیتے ہیں۔کوئی ایک لاکھ کا آرڈر دے دیتا ہے۔کوئی دولاکھ کا آرڈر دے دیتا ہے کوئی تین لاکھ کا آرڈر دے دیتا ہے اور کوئی چار لاکھ کا آرڈر دے دیتا ہے۔ابھی وہ مال پہنچتا نہیں کہ اطلاع آجاتی ہے اب اس بوٹ کے بارہ آنے ہو گئے ہیں۔یہ دیکھ کر وہ تاجر جنہوں نے پہلی دفعہ مال نہیں منگوایا تھا کئی لاکھ کا آرڈر دے دیتے ہیں مگر ان کا مال بھی ابھی ان تک نہیں پہنچتا که اطلاع آجاتی ہے کہ اس بوٹ کی قیمت آٹھ آنے ہو گئی ہے۔اس قدر ستا بوٹ دیکھ کر پھر اور لوگ انہیں آرڈر دے دیتے ہیں۔اب گو اس طرح ان کا مال زیادہ بک جاتا ہے مگر وہ پہلا تا جر جس نے پانچ لاکھ روپیہ کا مال منگوایا تھا اس کو اڑھائی لاکھ کا نقصان ہو جاتا ہے اور اس طرح آئندہ کے لئے وہ جاپانی تاجروں سے مال منگوانے میں بہت زیادہ احتیاط سے کام لینے لگتا ہے۔گو چیزوں کے زیادہ سستا ہونے اور ان کی زیادہ بکری ہو جانے کی وجہ سے جاپانی تاجروں کو ابھی یہ محسوس نہیں ہوا کہ وہ ایک غلط راستہ پر چل رہے ہیں مگر انجام کار ایسی عادت مفید ثابت نہیں ہوتی اور وہ نقصان پہنچا کر رہتی ہے۔گو جاپانی مال میں بددیانتی نہیں کرتے مگر چونکہ وہ قیمتوں کو بڑھاتے گھٹاتے رہتے ہیں اس لئے گو ابھی اپنی چیزوں کو زیادہ ستا فروخت کرنے کی وجہ سے انہیں نقصان نہیں پہنچا مگر جب بھی برابر کی قیمت کا سوال آجاتا ہے اس وقت واقف تاجر انگریزی مال کو جاپانی مال پر ترجیح دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جاپانی ٹھگی کر لیتے ہیں مگر انگریز ٹھگی نہیں کرتے۔انگریزوں سے اتر کر امریکہ اور جرمنی کے لوگ ہیں اور ان سے اتر کر اور ممالک کے لوگ۔مگر ہندوستانی تجارت میں اتنا خطرناک طور پر بد نام ہے کہ کوئی قوم اس پر اعتبار نہیں کرتی۔مکہ مکرمہ میں سب سے زیادہ حج کے لئے جانے والے ہندوستانی ہی ہوتے ہیں مگر جانتے ہو وہاں ہندوستانی کا کیا نام ہے ؟ وہاں ہندوستانی کو بطال کہا جاتا ہے یعنی وہ سخت جھوٹا اور بددیانت ہوتا ہے۔جب بھی کسی ہندوستانی کا ذکر ان کے سامنے آئے گا وہ کہیں گے ہندی بطال یعنی ہندوستانی سخت جھوٹا اور دھوکے باز اور چور ہوتا ہے۔وہ جاوی پر اعتبار کر لیں گے۔وہ چینی پر اعتبار کر لیں گے ، وہ افغان پر اعتبار کر لیں گے ، وہ مصری پر اعتبار کرلیں گے ، وہ ایرانی پر اعتبار کرلیں گے ، وہ روسی پر اعتبار کرلیں گے مگر جس وقت کسی ہندوستانی کا سوال ان کے سامنے آئے گاوہ کہیں گے ”ہندی بطال " ہندی بڑا جھوٹا اور چور ہوتا ہے۔ہندوستانی ہی سب سے زیادہ مکہ مکرمہ کی محبت کا دعوی کرتا ہے۔ہندوستانی ہی مقامات مقدسہ کی حفاظت میں سب سے زیادہ حصہ لیتا ہے اور ہندوستانی ہی سب کے آگے رہنے کی کوشش کرتا ہے۔مگر وہاں کے لوگوں پر اس نے کیا اثر ڈالا ہے۔یہی کلمہ ” ہندی بطال"۔اگر ان کے اخلاق اچھے ہوتے تو جس طرح انہوں نے باہر کے لوگوں کے لئے قربانیاں کی تھیں اسی طرح کوئی ان کے لئے بھی تو قربانی کرتا۔مگر کیا یہ عجیب بات نہیں کہ ترکوں کی خلافت پر حملہ ہوتا ہے تو ہندوستانی مسلمان اس کی حفاظت کے لئے آگے بڑھتے ہیں۔مصر پر انگریزوں کے دانت تیز ہوتے ہیں تو ہندوستان کے مسلمان اس کے مقابلہ کے لئے اپنے آپ کو پیش کر دیتے ہیں۔افغانستان پر حملہ ہو تا ہے تو ہندوستانی مسلمان