مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 118 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 118

118 طرب ہو جاتے ہیں۔ایران خطرہ میں ہوتا ہے تو ہندوستانی مسلمان چیخ اٹھتے ہیں۔گویا دنیا جہان کا در دہندوستان کے مسلمان کے سینہ میں ہے اور جہاں کہیں کسی مسلمان کو تکلیف پہنچتی ہے وہ اس کے اثر سے مضطرب اور بے چین ہو جاتا ہے۔مگر جب ہندوستان کے مسلمانوں پر کوئی مصیبت آتی ہے تو مصر کے لیڈر بھی کہتے ہیں کہ ہندوستان کے مسلمان بڑے احمق ہیں۔جب! انہیں آزادی مل رہی ہے تو وہ ہندوؤں کے ساتھ مل کر کام کیوں نہیں کرتے۔ترک بھی کہتے ہیں کہ ہندوستانی مسلمان بڑے احمق ہیں۔انہیں عظمندی کے ساتھ کام کرنا نہیں آتا۔ایرانی بھی کہتے ہیں کہ ہندوستانی مسلمان بیوقوف ہیں اور افغانی بھی کہتے ہیں کہ ہندوستان کے مسلمان عقل اور سمجھ سے عاری ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے کیریکٹر کا برا اثر ان لوگوں کے دلوں پر ہے اور اسی کیریکٹر کے بداثر کی وجہ سے وہ ان کی قربانی کی بھی قدر نہیں کرتے۔وہ سمجھتے ہیں کہ ان کی قربانی بھی ان کی کمزوری کی علامت ہے۔جس طرح ایک کمزور انسان بعض دفعہ جوش میں آجاتا ہے مگر اس کا جوش کسی نیکی کی وجہ سے نہیں بلکہ طبیعت کی کمزوری کی وجہ سے ہوتا ہے اسی طرح وہ خیال کرتے ہیں کہ ہندوستان کے مسلمانوں کی قربانی بھی کسی نیکی کی وجہ سے نہیں بلکہ کمزوری کی وجہ سے ہے۔اگر یہاں کے آٹھ کروڑ مسلمانوں کے اندر صحیح اخلاق ہوتے تو یہ آٹھ کروڑ مسلمان بھی ہندوستان کو بچا سکتا تھا۔بلکہ آٹھ کروڑ کیا۔اگر چار کروڑ با اخلاق مسلمان بھی ہندوستان میں موجود ہو تا تو کوئی غیر حکومت اس ملک کی طرف اپنی آنکھ نہیں اٹھا سکتی تھی۔بھلا چار کروڑ مسلمانوں کے مقابلہ میں کیا حیثیت رکھتے تھے چند ہزار انگریز یا چند ہزار فرانسیسی یا پرتگیزی۔پھر چار کروڑ ہی نہیں اگر دو کروڑ دیانت دار مسلمان بھی ہندوستان میں موجود ہوتے تب بھی یہ ملک دوسروں کا غلام نہیں ہو سکتا تھا۔اگر اس وقت مسلمانوں کی حکومت میں دو کروڑ ایسے مسلمان موجود ہوتے جو اپنی جانیں قربان کرنے کے لئے تیار ہوتے تو کس کی طاقت تھی کہ وہ ہندوستان کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھ سکتا۔بلکہ میں کہتا ہوں اگر ایک کروڑ بھی دیانتدار مسلمان ہو تا۔ایک کروڑ نہیں پچاس لاکھ ہی ہوتے۔پچاس لاکھ نہیں پچیس لاکھ ہی ہوتے پچیس لاکھ نہیں بارہ لاکھ ہی دیانتدار مسلمان موجود ہوتے تو بھی آج ہمارے ملک کی وہ حالت نہ ہوتی جو نظر آ رہی ہے۔بارہ لاکھ دیانتدار مسلمانوں کی موجودگی کے معنے یہ تھے کہ ایک لاکھ جان نثار سپاہی میسر آسکتا تھا اور اگر ایک لاکھ جان نثار سپاہی اس وقت موجود ہو تا تو انگریزوں اور فرانسیسیوں کی مجموعی طاقت بھی ان کا مقابلہ نہ کر سکتی۔کسی ملک کی آبادی کے آٹھ فیصدی حصہ کا سپاہی ہونا معمولی بات ہے۔جو جنگی قو میں ہوتی ہیں ان میں بعض دفعہ سولہ فیصدی تک سپاہی ہوتے ہیں اور جب انتہائی خطرہ کا وقت آتا ہے تو تمہیں بلکہ چالیس فیصدی آبادی بھی لڑائی کے لئے تیار ہو جاتی ہے۔بہر حال کسی ملک کا جو ادنیٰ سے ادنی فوجی معیار ہے اگر وہی ہمارے ملک میں قائم ہو تا تو بارہ لاکھ مسلمانوں میں سے ایک لاکھ سپاہی ضرور مل جاتا اور اعلیٰ معیار کے رو سے پونے پانچ لاکھ مسلمان انگریزوں کے مقابلہ کے لئے تیار ہوتے۔اب اگر اتنی بڑی تعداد ہندوستان میں موجود ہوتی تو کون سی قوم تھی جو ہندوستان کو فتح کر سکتی۔یقینا نہ انگریز ہندوستان کو فتح کر سکتے نہ فرانسیسی اسے فتح کرنے کی طاقت رکھتے اور نہ