مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 105 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 105

105 1 جب وہ بیکار بوڑھا ہوتا ہے اور اس طرح کام کا کوئی وقت آتا ہی نہیں۔ایک دفعہ ایک عورت جس کی عمر کوئی پینسٹھ سال کی ہو گی مجھ سے کوئی بات کر رہی تھی اور بار بار کہتی تھی کہ " ساڑے یتیماں تے رحم کرو " یعنی ہم قیموں پر رحم کریں۔یہ کوئی پانچ سات سال کی بات ہے اور اس وقت اس کی عمر پینسٹھ سال کی ہوگی تو گویا ہمارے ہاں یا تو آدمی بچہ ہوتا ہے اور یا پیر فرتوت جسے پنجابی میں سترا بترا کہتے ہیں۔یہ بہت حماقت کی بات ہے کہ بچوں کو چھوٹا سمجھ کر انہیں آوارہ ہونے دیا جائے۔اگر بچوں سے صحیح طور پر کام لیا جائے تو وہ کبھی آوارہ ہو ہی نہیں ہو سکتے۔اگر انہیں گلیوں اور بازاروں میں آوارہ پھرنے کی بجائے مجلسوں میں بٹھایا جائے تو بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔میری تعلیم تو کچھ بھی نہ تھی لیکن یہ بات تھی کہ حضرت مسیح علم آوارگی کو دور کرنے سے بڑھتا ہے موعود علیہ السلام کی مجلس میں جابیٹھتا تھا۔حضرت خلیفہ اول کی مجلس میں چلا جاتا تھا۔کھیلا بھی کرتا تھا۔مجھے شکار کا شوق تھا۔فٹ بال بھی کھیل لیتا تھا۔لیکن گلیوں میں بیکار نہیں پھرتا تھا بلکہ اس وقت مجلسوں میں بیٹھتا تھا اور اس کا نتیجہ یہ تھا کہ بڑی بڑی کتابیں پڑھنے والوں سے میرا علم خدا تعالی کے فضل سے زیادہ تھا۔علم گدھوں کی طرح کتابیں لاد لینے سے نہیں آجا تا۔آوارگی کو دور کرنے سے علم بڑھتا ہے اور ذہن میں تیزی پیدا ہوتی ہے۔پس اساتذہ افسران تعلیم اور خدام الاحمدیہ کا یہ فرض ہے کہ بچوں سے آوارگی کو دور کریں۔یہ آوارگی کا ہی اثر ہے کہ ہم ادھر نماز پڑھ رہے ہوتے ہیں اور ادھر گلی میں بچے گالیاں بک رہے ہوتے ہیں۔اگر تو وہ نماز ہی نہیں پڑھتے تو دو ہرے مجرم ہیں۔نہیں تو یہی جرم کافی ہے۔فحش گالیاں ماں بہن کی وہ سکتے ہیں اور کسی شریف آدمی کو خیال نہیں آتا کہ ان کو روکے۔(بیت) مبارک کے سامنے کھیلنے والے بچے نوے پچانوے فی صدی احمدیوں کے بچے ہی ہو سکتے ہیں۔تھوڑے سے غیروں کے بھی ہوتے ہوں گے مگر میں نے اپنے کانوں سے بنا ہے احمدیوں کے بچے گالیاں دے رہے ہوتے ہیں اور ان کے ماں باپ اور اساتذہ کو احساس تک نہیں ہو تاکہ ان کی اصلاح کریں۔گلیوں سے گاتے ہوئے اور ایک دوسرے کی گردن میں باہیں ڈال کر گزر ناو قار کے پھر میں نے دیکھا ہے مدرسہ احمدیہ کے طلباء گلیوں میں سے گزرتے ہیں تو گاتے جاتے ہیں حالانکہ یہ خلاف ہے وقار کے سخت خلاف ہے اور اس کے یہ معنے ہیں کہ شرم و حیا جو دین کا حصہ ہے بالکل جاتی رہی ہے۔پھر میں نے دیکھا ہے نوجوان ایک دوسروں کی گردن میں با ہیں اور ہاتھ میں ہاتھ ڈالے چلے جارہے ہیں حالانکہ یہ سب باتیں وقار کے خلاف ہیں۔مجھے یاد ہے میرا ایک دوست تھا۔بچپن میں ایک دفعہ ہم دونوں ہاتھ