مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 104
104 پس خدام الاحمدیہ کا اہم فرض خدام الاحمدیہ قرآن کریم با ترجمہ پڑھنے پڑھانے کا انتظام کریں یہ ہے کہ اپنے ممبروں میں قرآن کریم با ترجمہ پڑھنے اور پڑھانے کا انتظام کریں اور چونکہ وہ خدام الاحمدیہ ہیں صرف اپنی خدمت کے لئے ان کا وجود نہیں اس لئے جماعت کے اندر قرآن کریم کی تعلیم کو رائج کرنا ان کے پروگرام کا خاص حصہ ہونا چاہئے۔خدام الاحمدیہ آوارگی کے انسداد کیلئے کوشاں رہے۔والدین اور اساتذہ تعاون کریں تیسری بات جو ان کے پروگرام میں ہونی چاہئے وہ آوارگی کا مٹانا ہے۔آوارگی بچپن میں پیدا ہوتی ہے اور یہ سب بیماریوں کی جڑھ ہوتی ہے۔اس کی بڑی ذمہ داری والدین اور استادوں پر ہوتی ہے۔وہ چونکہ احتیاط نہیں کرتے ، اس لئے بچے اس میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔دیکھو رسول کریم میں ہم نے اس کے مٹانے کے لئے کتنا انتظام کیا ہے کہ فرمایا بچے کے پیدا ہوتے ہی اس کے کان میں اذان اور تکبیر کہی جائے اور اس طرح عمل سے بتا دیا کہ بچہ کی تربیت چھوٹی عمر سے شروع ہونی چاہئے۔آپ نے فرمایا ہے کہ بچوں کو مساجد اور عید گاہوں میں ساتھ لے کر جانا چاہئے۔خود آپ کا اپنا طریق بھی یہی تھا۔آج کل تو یہ حالت ہے کہ سترہ اٹھارہ سال کے نوجوان بھی بے ہودہ حرکت کرے تو والدین کہ دیتے ہیں کہ ابھی ”نیانا" یعنی کم عمر ہے۔لیکن ادھر ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت عباس حدیثیں سناتے ہیں جبکہ ان کی عمر صرف تیرہ سال کی ہے۔امام مالک کے درس میں امام شافعی شریک ہونے کے لئے گئے۔ان کے درس میں بیٹھنے کے لئے یہ ضروری شرط تھی کہ طالب علم قلم دوات لے کر بیٹھے اور جو کچھ وہ بتا ئیں ، نوٹ کرتا جائے۔امام شافعی کی عمر اس وقت صرف نو سال کی تھی۔امام مالک نے انہیں بیٹھے دیکھا تو کہا بچے تم کیوں بیٹھے ہو ؟ امام شافعی نے جواب دیا کہ درس میں شامل ہونے کے لئے آیا ہوں۔آپ نے پوچھا کہ اب تک کیا پڑھا ہے ؟ انہوں نے بتایا کہ یہ یہ پڑھ چکا ہوں۔اس پر امام مالک نے کہا تم بہت کچھ پڑھ چکے ہو مگر میرے درس میں بیٹھنے کا یہ طریق نہیں۔یہاں تو قلم دوات لے کر بیٹھنا چاہئے۔امام شافعی نے کہا کہ میں کل بھی بیٹھا تھا۔آپ دوسرے طلباء سے مقابلہ کرالیں۔امام صاحب نے سوال کیا اور انہوں نے ٹھیک جواب دیا۔امام صاحب کی عادت تھی کہ اگلے روز نوٹوں کو سنتے اور کوئی غلطی ہوتی تو اس کی اصلاح کر دیتے تھے۔اس دن جو انہوں نے گزشتہ نوٹ سننے شروع کئے تو جب پڑھنے والا غلطی کر تا امام شافعی ”جھٹ اس کو ٹوک دیتے کہ امام صاحب نے یوں نہیں بلکہ یوں فرمایا تھا۔چنانچہ امام مالک نے ان کو بغیر قلم دوات کے اپنے درس میں بیٹھنے کی اجازت دے دی حالانکہ اور کسی کو اس کی اجازت نہ تھی۔یہ بات کیوں تھی اس لئے کہ ماں باپ نے شروع میں ہی ان کو علم کے حصول میں لگا دیا تھا۔مگر ہمارا " نیا نا پن " یعنی بچپن اٹھارہ میں سال تک نہیں جا تا۔بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے ملک میں عمر کے دو ہی حصے سمجھے جاتے ہیں۔ایک وہ جب بچہ سمجھا جاتا ہے اور ایک وہ