مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 102
102 طرح ذہن نشین ہو جاتی ہے لیکن ان کی یہ بات جب میں پڑھتا ہوں تو مجھے حیرت ہوتی ہے کہ کس طرح آج سے چودہ سو سال قبل اسلام نے اسی بات کو پیش کیا ہے۔اسلام ہی ہے جس نے نہایت مختصر الفاظ میں مذہب کا خلاصہ پیش کر دیا ہے۔لا الہ الا الله محمدٌ رَسُولُ اللہ کیا ہے ؟ یہ اسلامی تعلیم کا خلاصہ ہے اور جب میں علم النفس کا یہ مسئلہ پڑھتا ہوں تو حیران ہو تا ہوں کہ یہ لوگ آج تحقیقا تیں کر رہے ہیں۔ہٹلر آج کہتا ہے ، لیکن محمد رسول اللہ لی لی نے چودہ سو سال قبل یہ نکتہ بتا دیا تھا۔ہٹلر نے اپنی تصنیف میں لکھا ہے کہ میں نے قومی ترقی کے ذرائع پر بڑا غور کیا اور آخر میں اس نتیجہ پر پہنچا کہ قومی ترقی کے اسباب کو تھوڑے سے تھوڑے لفظوں میں بیان کرنا چاہئے جو بار بار لوگوں کے سامنے آتے رہیں اور وہ انہیں بار بار دہراتے رہیں اس طرح وہ انسانی دماغ میں جذب ہو جائیں گے۔لیکن اسلام میں یہ بات پہلے ہی سے موجود ہے۔لا اله الا الله محمد رسول اللہ کیا ہے؟ یہ اسلام کی تعلیم کا خلاصہ ہے۔اسے نمازوں میں اذانوں میں اسلام لانے کے وقت، غرضیکہ بار بار دہرانے کا حکم ہے اور اس طرح بار بار جو چیز دہرائی جائے وہ زیادہ سے زیادہ پختہ ہو جاتی ہے۔پس خدام الاحمدیہ کو بھی چاہئے کہ ان کو چھوٹے سے چھوٹے فقروں میں لائیں اور پھر ہر میٹنگ کے موقع پر بار بار ان کو دہرایا جائے۔مثلا یہ فقرہ ہو سکتا ہے کہ میں اپنی جان کی اسلامی اور ملی فوائد کے مقابلہ میں کوئی پروا نہیں کروں گا۔جب کوئی مجلس ہو ، ہر شخص باری باری پہلے اسے دہرائے اور پھر کام شروع ہو۔اسی طرح جب ختم ہو تو بھی اسے دہرایا جائے اور اس طریق سے یہ بات دماغ میں جذب ہو سکتی ہے۔قومی روح سے نوجوانوں کو سرشار کرنے کے لئے ضروری ہے کہ بار بار ان کے سامنے بعض نادان خیال کر لیتے ہیں کہ قواعد میں کوئی بات رکھ دینا ہی کافی ہو تا ہے اور اس اسے واضح کیا جائے طرح وہ دل میں داخل ہو جاتی ہے حالانکہ یہ بات فطرت انسانی کے بالکل خلاف ہے۔اگر ایسا ہو سکتا تو اسلام کی تعلیم کے خلاصہ کے بار بار دہرائے جانے کا حکم دینے کی کیا ضرورت تھی ؟ پس اس قسم کا کوئی فقرہ بنایا جائے اور ایسا انتظام کیا جائے کہ وہ بار بار دہرایا جاتا رہے مثلا یہ کہ میں جماعتی اور ملی ضرورتوں کے مقابلے میں اپنی جان و مال اور کسی چیز کی کوئی پروا نہیں کروں گا اور پھر ایسا انتظام ہو کہ اسے بار بار دہرایا جائے۔ایسے فقروں کو بار بار دہرانے سے ایک فائدہ یہ بھی ہو گا کہ ذہنیتوں میں ایسی تبدیلی ہو جائے گی کہ بعض اوقات مخلصوں میں بھی بغاوت کا جو مادہ پیدا ہو جاتا ہے، اس کا احتمال نہیں رہے گا۔دیکھو اسلام نے لا الہ الا الله محمد رسول الله کو بار بار دوہرانے کا جو حکم دیا ہے اس کا نتیجہ یہ ہے کہ کبھی کوئی مسلمان یہ نہیں کہے گا کہ میں خدا کو نہیں مانت یا محمد رسول اللہ مال یا ای میل کو نہیں مانتا۔آپ کو کئی ایسے مسلمان ملیں گے جو کہ دیں گے کہ جاؤ میں روزہ نہیں رکھتا۔میں نماز نہیں پڑھتا مگر ایسا کوئی شخص جو اپنے آپ کو مسلمان بھی سمجھتا ہو نہیں ملے گاجو کسے گا