مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 90 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 90

90 محروم کرنے کا ارادہ کر لیا ہے۔مگر جب یہ روپیہ میرے پاس نہیں آتا نہ میری ضروریات پر خرچ ہو تا ہے تو مجھے اس میں ذاتی دلچپسی کیا ہو سکتی ہے۔پس مجھے ذاتی دلچسپی اس میں کوئی نہیں۔ہاں اتنی دلچپسی ضرور ہے کہ میں چاہتا ہوں جماعت کے اخلاق بہت بلند ہوں اور وہ دوسروں سے مانگنے کی عادت ترک کر دیں۔پس پریذیڈنٹوں اور سیکرٹریوں کو چاہئے کہ وہ جماعت کے دوستوں کے سامنے یہ مسائل واضح کرتے رہا کریں۔میں نے دیکھا ہے اسی نقص کی وجہ سے کہ لوگوں کو مسائل بتائے نہیں جاتے قادیان میں مردوں اور عورتوں کو بلاوجہ سوال کرنے کی عادت ہے اور بجائے کام کرنے کے وہ مانگ کر کھا لینا زیادہ بہتر سمجھتے ہیں۔حالا نکہ ہمیشہ کام کر کے کھانے کی عادت ڈالنی چاہئے اور یہی کام کر کے کھانے کی عادت ڈالنی چاہئے عادت ہے جو اسلام پیدا کرنا چاہتا ہے۔ہاں جہاں کام نہ ملتا ہو وہاں کام مہیا کرنا پریذیڈنٹوں اور سیکرٹریوں کا کام ہے لیکن جب کام مل جائے تو پھر اس کے کرنے میں کوئی عذر نہیں ہونا چاہئے۔۔پس کام مہیا کر نا ہمارا کام ہے۔گو پھر حکومت افراد جماعت کو روزگار مہیا کرنے میں مدد دینی چاہئیے نہ ہونے کی وجہ سے ہم پوری طرح اس فرض کو سرانجام نہیں دے سکتے۔مگر پھر بھی ہمارا فرض ہے کہ جس حد تک ہم کام مہیا کر سکتے ہوں اس حد تک جماعت کے دوستوں کے لئے کام مہیا کریں۔میں نے بتایا ہے کہ لجنہ اس سلسلہ میں عورتوں کے متعلق مفید کام کر رہی ہے اور میں چاہتا ہوں کہ آہستہ آہستہ مجلس خدام الاحمدیہ بھی یہ کام اپنے لائحہ عمل میں شامل کرلے۔اور بے کار مردوں کے متعلق ان کا یہ فرض ہو کہ وہ ان کے لئے کام مہیا کریں۔بظاہر یہ کام مشکل ہے لیکن اگر وہ سمجھ سے کام لیں گے اور غور کرنے کی عادت ڈالیں گے تو وہ کئی ایسی سکیمیں بنا سکیں گے جن کے ماتحت بریکاروں کو کام پر لگایا جا سکے گا۔جب اس قسم کے بے کار لوگ کام پر لگ جائیں گے تو اس سے نہ صرف بے کاروں کو فائدہ پہنچے گا بلکہ سلسلہ کو بھی مالی لحاظ سے فائدہ پہنچے گا۔کیونکہ وہ چندے دیں گے اور اس طرح سلسلہ کو مضبوطی حاصل ہو گی۔پس یہ اس شخص کا ہی نہیں بلکہ سلسلہ کا بھی فائدہ ہے۔یہ ایک اہم کام ہے جس کی طرف جماعتوں کے پریذیڈنٹوں ، سیکرٹریوں اور مجلس خدام الاحمدیہ کے ممبران کو توجہ کرنی چاہئے۔اسی طرح مجلس خدام الاحمدیہ کے ممبران کو چاہئے کہ وہ ایک پروگرام بنا کر اس کے ماتحت کام کیا کریں۔یونہی بغیر سوچے سمجھے کام کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہو تا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ وہ اب بھی ہاتھ سے کام کرتے ہیں مگر وہ کام کسی پروگرام کے مطابق نہیں ہو تا۔حالانکہ جس طرح بجٹ تیار کئے جاتے ہیں اسی طرح انہیں اپنے کام کے پروگرام وضع کرنے چاہئیں۔مثلاً ہاتھ سے کام کرنے کی عادت ہے۔اس بارہ میں یونہی بغیر پروگرام کے ادھر ادھر کام کرتے پھرنے کی بجائے اگر وہ کسی ایک سڑک کو لے لیں اور اپنے پروگرام میں یہ بات شامل کر لیں کہ انہوں نے سڑک پر بھرتی ڈال کراسے ہموار کرنا اور اس کے گڑھوں کو پر کرنا ہے یا اسی طرح کا کوئی اور کام اپنے ذمہ لے لیں اور اسے وقت معین کے