مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 91 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 91

91 ر مکمل کریں تو یہ بہت عمدہ نتیجہ پیدا کرے گا۔بہ نسبت اس کے کہ بغیر ایک معین پروگرام کے وہ کام کرتے جائیں۔مگر یہ بھی سمجھ لینا چاہئے کہ بھرتی کے کیا معنی ہیں۔گذشتہ سال جلسہ سالانہ پر چوہدری ظفر اللہ خان صاحب آئے تو انہوں نے مجلس خدام الاحمدیہ کے اراکین سے کہا کہ اب کی دفعہ جب کام کرو تو مجھے بھی بلا لینا چنانچہ انہوں نے انہیں بلالیا اور وہ بھی ہاتھ سے کام کرتے رہے۔مگر چوہدری صاحب نے مجھے بتایا کہ ان کے ساتھ مل کر کام کرنے میں مجھے معلوم ہوا کہ ان کے کام میں ایک نقص بھی ہے اور وہ یہ کہ سڑک پر جب وہ مٹی ڈال رہے تھے تو سڑک کے پاس ہی ایک گڑھا کھود کر وہاں سے مٹی لے آتے تھے۔میں نے انہیں کہا کہ اسکا تو یہ مطلب ہے کہ آج آپ سڑک کے گڑھے پر کریں اور کل آپ ان گڑھوں کو پر کرنے لگ جائیں جو اس سڑک پر مٹی ڈالنے کے لئے آپ نے کھود لیے ہیں۔تو یہ ایک نقص ہے جو خدام الاحمدیہ کے کام میں ہے اور اسے دور کرنا چاہئے۔مگر اس کے علاوہ ضروری بات یہ ہے کہ وہ ایک سڑک یا ایک گلی لے لیں اور اس کی صفائی اور مرمت اس حد تک کریں کہ اس سڑک یا گلی میں کوئی نقص نہ رہے۔مثلا وہ ایک سڑک کو درست کرنا چاہتے ہیں تو ان کا فرض ہے کہ وہ انجنیئروں سے مشورہ لیں اور ان سے پوچھیں کہ یہ سڑک کس طرح درست ہو سکتی ہے پھر جو طریق وہ بتائیں اور جو نقشہ انجنیئر تجویز کریں۔اس کے مطابق وہ اس سڑک کی درستی کریں اور چھ مہینے یا سال جتنا وقت بھی اس پر صرف ہو اتنا وقت اس پر صرف کیا جائے اور اس سڑک کو انجنیئر کے بتائے ہوئے نقشہ کے مطابق درست کیا جائے۔مگر اب یہ ہوتا ہے کہ چند مٹی کی ٹوکریاں ایک گڑھے میں ڈال دی جاتی ہیں اور چند دوسرے گڑھے میں اور کسی کو پتہ بھی نہیں لگتا کہ کوئی کام ہوا ہے۔پس پہلی ہدایت تو یہ ہے کہ کوئی ایک کام شروع کیا جائے اور اسے ایسا مکمل کیا جائے کہ کوئی انجنیئر بھی اس میں نقص نہ نکال سکے۔دوسری بات یہ ہے کہ میں نے دیکھا ہے کہ دوسرے آدمیوں سے کوئی کام نہیں لیا جاتا۔حالانکہ خدام الاحمدیہ کے کام کرنے کے یہ معنی نہیں کہ دوسروں کے لئے اس میں حصہ لینا ممنوع ہے۔شعبہ امور عامہ رفاہ عامہ کے کاموں میں خدام الاحمدیہ سے تعاون کرے جو لوگ میرے خطبات سنا کرتے ہیں ، وہ اس بات کو جانتے ہیں کہ میں نے امور عامہ کو بار بار ہاتھ سے کام کرنے کے پروگرام کی طرف توجہ دلائی ہے۔بلکہ بعض دفعہ میں نے اتنی سختی سے کام لیا ہے کہ میں سمجھتا ہوں کہ اگر ان میں ذرا بھی حس ہوتی تو وہ اس کام کی طرف ضرور توجہ کرتے مگر سال گزر گیا اور ابھی تک وہ ایسی نیند سوئے پڑے ہیں کہ اٹھنے کا نام ہی نہیں لیتے۔امور عامہ کی غفلت کا ہی یہ نتیجہ ہے کہ ہم لوگ جن کا دل چاہتا ہے کہ رفاہ عام کے کاموں میں حصہ لیں، اس سے محروم رہتے ہیں اور کوئی کام نہیں کر سکتے۔پس چونکہ امور عامہ سویا پڑا ہے اس لئے میں مجلس خدام الاحمدیہ کو توجہ دلا تا ہوں کہ وہ صرف ممبران سے ہی کام نہ لیا کریں بلکہ بعض دنوں میں وہ عام