مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 89 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 89

89 تمہارا حصہ ہے ، لے لو۔وہ کہنے لگا میں نے رسول کریم میں لیا اور ہم سے عہد کیا تھا کہ میں کبھی سوالی نہیں کروں گا اور ہمیشہ اپنے ہاتھ کی کمائی کھاؤں گا۔یہ مال میرے ہاتھ کی کمائی نہیں۔اس لئے میں اسے نہیں لے سکتا اور میں ارادہ رکھتا ہوں کہ اپنی موت تک اس اقرار کو نباہتا چلا جاؤں۔حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بہت اصرار کیا مگر وہ انکار کرتا چلا گیا۔آخر حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے تمام مسلمانوں کو مخاطب کر کے کہا۔اے مسلمانو! میں خدا کے حضور بری الذمہ ہوں۔میں اسکا حصہ اسے دیتا ہوں مگر یہ خود نہیں لیتا۔اسی صحابی کے متعلق یہ ذکر آتا ہے کہ ایک جنگ میں یہ گھوڑے پر سوار تھے کہ اچانک ان کا کوڑا ان کے ہاتھ سے گر گیا۔ایک اور شخص جو پیادہ تھا اس نے جلدی سے کوڑا اٹھا کر انہیں دینا چاہا تو انہوں نے کہا۔اے شخص میں تجھے خدا کی قسم دیتا ہوں کہ تو اس کوڑے کو ہاتھ نہ لگا ئیو۔کیونکہ میں نے رسول کریم میلی لیلی اقرار کیا ہوا ہے کہ میں کسی سے سوال نہیں کروں گا اور خود اپنا کام کروں گا۔چنانچہ عین جنگ کی حالت میں وہ اپنے گھوڑے سے اترے اور کوڑے کو اٹھا کر پھر اس پر سوار ہو گئے۔ے یہ تو لوگوں کو بتانا چاہئے کہ مانگ کر کھانا ایک بہت بڑا عیب ہے تاکہ اس نقص کی اصلاح ہو۔بعض نادان اس موقعہ پر کہہ دیا کرتے ہیں کہ ہم غرباء کی مدد سے گریز کرتے ہیں۔حالانکہ یہاں گریز کا کوئی سوال ہی نہیں۔ہمارے پاس حکومت تو ہے نہیں کہ جبرا لوگوں پر ٹیکس عائد کر کے اپنے خزانے بھر لیں اور پھر انہیں لوگوں میں تقسیم کر دیں۔یہی وجہ ہے کہ جو ذمہ داریاں خلفائے اول پر عائد تھیں وہ ہم پر نہیں۔ان کے پاس اموال قانونی طور پر آتے تھے مگر ہمارے پاس اس رنگ میں اموال نہیں آتے بلکہ ایسے اموال حکومت ہند کے خزانہ میں جاتے ہیں۔پس ہم مجبور ہیں کہ مال کی تقسیم میں احتیاط سے کام لیں۔لیکن اگر بالفرض اس رنگ میں اموال آتے بھی ہوں تو سوال یہ ہے کہ کیا میں نے وہ مال کھا لینا ہے۔اس مال نے تو بہر حال سلسلہ پر خرچ ہونا ہے تو مجھے اس بات کا کیا شوق ہے کہ میں زید کو دوں اور بکر کو نہ دوں۔یا مجھے اس سے کیا ہے کہ وہ روپیہ ریویو آف ریلیجز پر خرچ ہوتا ہے یا کسی غریب شخص پر خرچ ہوتا ہے۔اگر اسلام کا فائدہ اس میں ہے کہ سلسلہ کا روپیہ ایک غریب کو مل جائے تو اس میں مجھے کیا اعتراض ہو سکتا ہے۔میری غرض تو اس قسم کی نصائح سے یہ ہے کہ ہماری جماعت میں عزت نفس کا مادہ پیدا کرنا چاہئے جماعت کے اخلاق بلند ہو جائیں اور اس میں عزت نفس کا مادہ پیدا ہو جائے اور لوگ یہ سمجھیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے نفس کو بھی کوئی شرف بخشا ہوا ہے اور ان کا فرض ہے کہ وہ اس کی قدروقیمت کو سمجھتے ہوئے بلاوجہ اس کی تحقیر نہ کریں۔یہ روح ہے جو میں جماعت میں پیدا کرنا چاہتا ہوں اور یہی وہ تعلیم ہے جو رسول کریم اللہ نے دی۔پس یہ روپیہ مجھے تو نہیں ملتا کہ مجھے یہ فکر ہو کہ فلاں کو نہ ملے اور فلاں کو مل جائے۔اگر یہ روپیہ مجھے ملتاتو کسی کو بد ظنی کا موقعہ مل سکتا تھا اور وہ خیال کر سکتا تھا کہ شاید میں نے اپنے ذاتی فائدہ کے لئے دوسروں کو اس سے