مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 88
بریکاری کے انسداد کیلئے اپنے اپنے حلقے میں ذی علم اصحاب سے لیکچر کروائے جائیں معاملہ میں محلوں کے پریذیڈنٹوں کے تعاون کی ضرورت ہے۔اگر محلوں کے پریذیڈنٹ مختلف مقررین سے اپنے اپنے محلہ میں وقتا فوقتا ایسے لیکچر دلاتے رہا کریں کہ نکما بیٹھ کر کھانا نہایت غلط طریق ہے۔کام کر کے کھانا چاہئے اور کسی کام کو اپنے لئے عار نہیں سمجھنا چاہئے تو امید ہے کہ لوگوں کی ذہنیت بہت کچھ تبدیل ہو جائے۔میں نے دیکھا ہے قادیان میں ابھی ایک اچھا خاصا طبقہ ایسے لوگوں کا ہے جنہیں جب کوئی کام دیا جاتا ہے تو کہتے ہیں کہ اس کام کے کرنے میں ہماری بنک ہے۔حالانکہ ہتک کام کرنے میں نہیں بلکہ نکما بیٹھ کر کھانے میں ہے۔رسول کریم صلی اللہ نے بھی فرمایا ہے کہ لوگوں سے مانگ کر کھانا ایک لعنت مانگ کر کھانا ایک لعنت ہے ہے۔ایک دفعہ ایک شخص نے رسول کریم سے کچھ مانگا بعض لوگ صلی اسی کہہ دیا کرتے ہیں کہ ہم کسی غیر سے تھو ڑا مانگتے ہیں۔ہم تو سلسلہ سے مانگتے ہیں اس کا جواب اسی واقعہ میں آجاتا ہے جو میں بیان کرنے لگا ہوں۔کیونکہ اس نے بھی کسی غیر سے نہیں بلکہ رسول کریم میں سے مانگا تھا) آپ نے ات کچھ دے دیا۔وہ لیکر کہنے لگا۔یا رسول اللہ اکچھ اور دیجئے۔آپ نے پھر اسے کچھ دے دیا۔وہ پھر کہنے لگا۔یا رسول اللہ کچھ اور دیجئے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ نے اسے فرمایا۔کیا میں تم کو کوئی ایسی بات نہ بتاؤں جو تمہارے اس مانگنے سے بہت زیادہ بہتر ہے۔اس نے کہا۔کیوں نہیں یا رسول اللہ ! فرمائیے کیا بات ہے؟ آپ نے فرمایا۔سوال کرنا خدا تعالیٰ کو پسند نہیں۔تم کوشش کرو کہ تمہیں کوئی کام مل جائے اور کام کر کے کھاؤ۔یہ دوسروں سے مانگنے اور سوال کرنے کی عادت چھوڑ دو۔اس نے کہا۔یا رسول اللہ ! میں نے آج سے یہ عادت چھوڑ دی۔چنانچہ واقعہ میں پھر اس نے اس عادت کو بالکل چھوڑ دیا۔اور یہاں تک اس نے استقلاں دکھایا کہ جب اسلامی فتوحات ہوئیں اور مسلمانوں کے پاس بہت سامان آیا اور سب کے وظائف مقرر کئے گئے تو حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسے بلوایا اور کہا یہ تمہارا حصہ ہے تم اسے لے لو۔وہ کہنے لگا۔میں نہیں لیتا۔میں نے رسوں کریم ملی لیلی سے یہ اقرار کیا تھا کہ میں ہمیشہ اپنے ہاتھ کی کمائی کھاؤں گا۔سو اس اقرار کی وجہ سے میں یہ مان نہیں لے سکتا۔کیونکہ یہ میرے ہاتھ کی کمائی نہیں۔حضرت ابو بکر نے کہا یہ تمہارا اللہ ہے۔اس کے لینے میں کوئی حرج نہیں۔وہ کہنے لگا۔خواہ کچھ ہو، میں نے رسون کریم میں ان سے اقرار کیا ہوا ہے کہ میں بغیر محنت کئے کوئی ماں نہیں لوں گا۔اب اس اقرار کو مرتے دم تک پورا کرنا چاہتا ہوں اور یہ ماں نہیں لے سکتا۔دو سرے سال حضرت ابو بکر رضی تعالیٰ عنہ نے پھر اسے بلایا اور فرمایا کہ یہ تمہار ا حصہ ہے ات لے لو۔مگر اس نے پھر کہا میں نہیں لوں گا۔میں نے رسول کریم میں سے اقرار کیا ہوا ہے کہ میں محنت کر کے ماں کھاؤں گا۔یونہی مفت میں کسی جگہ سے مال ہیں اوں گا۔تیسرے سال انہوں نے پھر اس کا حصہ دینا چاہا۔مگر اس نے پھر انکار کر دیا۔پھر حضرت ابو بکر رضی اللہ عالی عنہ فوت ہو گئے تو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ خلیفہ ہوئے۔انہوں نے بھی ایک دفعہ است بلایا اور کہا یہ