مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 79 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 79

79 میں کرتا ہے۔پھر کچھ کام ایسے ہوتے ہیں جو سال چاہتے ہیں جیسے گھوڑی کا بچہ ہے کہ وہ سال میں پیدا ہو تا ہے۔پھر کچھ کام ایسے ہوتے ہیں جو پانچ دس بلکہ بعض ہیں سال میں مکمل ہوتے ہیں۔جیسے پھلدار درخت ہیں کوئی ان میں سے تین چار سال میں پھل دیتا ہے۔کوئی سات سال میں پھل دیتا ہے۔کوئی دس سال میں پھل دیتا ہے۔کوئی پندرہ سال میں پھل دیتا ہے۔گویا یہ کام خدا تعالیٰ کئی سالوں میں جا کر کرتا ہے۔اسی طرح وہ اپنے اوقات کی لمبائی کو بڑھاتا چلا گیا ہے۔یہاں تک کہ بعض کام اللہ تعالیٰ لاکھوں سالوں میں کرتا ہے جیسے پتھر کا کو ئلہ ہے۔پہلے عام طور پر لوگ پتھر کے کو کلہ سے واقف نہیں ہوتے تھے۔مگر اب تو دیہات میں بھی مشینیں لگ جانے کی وجہ سے گاؤں کے لوگ بھی پتھر کے کو مکہ سے واقف ہو گئے ہیں اور چونکہ پتھر کے کوئلہ کے استعمال میں خرچ کی کفایت ہوتی ہے اس لئے کئی لوگ پتھر کا کو ئلہ استعمال کرنے لگ گئے ہیں۔اب یہ پتھر کا کو ئلہ انہی درختوں سے بنا ہے جن کی لکڑیاں کاٹ کاٹ کر جلائی جاتی ہیں۔مگر یونہی نہیں بلکہ کئی لاکھ سال تک یہ درخت زمین میں دفن رہے اور کئی لاکھ سال تک زمین میں دفن رہنے کے بعد یہ درخت پتھر کے کوئلہ کی شکل میں بدل گئے۔تو اللہ تعالیٰ نے پتھر کا کو ئلہ بنانے کیلئے کئی لاکھ سال لگا دیئے۔اس میں اللہ تعالیٰ نے در حقیقت یہی بتایا ہے کہ وقت کی لمبائی یا چھوٹائی بھی چیزوں کی خوبصورتی اور عمدگی کے لئے ضروری ہے۔طب ہی کو دیکھو۔بعض اعلیٰ ادویہ ایسی ہیں کہ ان کے اجزاء بالعموم وہی ہیں جو ہمیشہ استعمال میں آتے رہتے ہیں۔لیکن ان کو کچھ عرصہ تک دفن کرنے کی وجہ سے ان ادویہ کی حالت ہی بدل جاتی ہے۔مثلاً بر شعشا ایک دوائی ہے جو نزلہ کیلئے نہایت مفید ہے۔اب اگر برشعشا کے اجزاء کو ملا کر فوری طور پر استعمال کر لیا جائے تو وہ کوئی نفع نہیں دیں گے۔برشعشا کا پورا نفع انسان کو اسی صورت میں حاصل ہو گا جب کہ اسے چالیس دن تک غلہ میں دفن رکھا جائے۔اب دوائیں وہی ہونگی جو چالیس دن پہلے ہوں گی مگر جو نفع چالیس دن غلہ میں دفن کرنے کے بعد حاصل ہو گا وہ پہلے حاصل نہیں ہو گا۔ممکن ہے کوئی کہے کہ یہ کیا حماقت ہے۔جب دوائیں وہی ہیں تو مزید چالیس دن غلہ میں دبانے سے کیا فائد ہ۔سو اصل بات یہ ہے۔وقت اپنی ذات میں بعض چیزوں کا ضروری جزو ہے۔جب تک دواؤں کے ساتھ وقت کو نہ ملایا جائے دوا اچھی نہیں بنے گی۔پس صرف دوائیں نہیں بلکہ دوائیں مع وقت اس کا جزو بنتی ہیں۔پھر بعض دوائیں ایسی ہیں جنہیں چھ ماہ کے لئے دفن کرنا پڑتا ہے اور اگر انہیں چھ ماہ بند کر کے نہ رکھا جائے۔تو کبھی فائدہ نہیں دیتیں۔اسی طرح بعض دوائیں سال سال اور بعض دو دو سال کے بعد کھانے کے قابل بنتی ہیں۔وہی اجزاء اگر اسی وقت باہم ملا کر کھا لو تو کیا فائدہ نہیں دیں گے لیکن اگر دو سال کے بعد کھاؤ تو تریاق بن جائیں گے۔تو بعض دوائیں اکیلی فائدہ نہیں دیتیں۔بلکہ وقت بھی ان کے ساتھ شامل کیا جاتا ہے اور ایسی ایک دو نہیں بلکہ ہزاروں اشیاء ہیں جن کا وقت خود ایک اہم جزو ہوتا ہے۔کوئی نئی چیز ان میں داخل نہیں کی جاتی۔صرف وقت ان کے ساتھ شامل کر لیا جاتا ہے اور وہ کچھ سے کچھ ہو جاتی ہیں اور جب وقت شامل نہیں ہو تا تو وہ مفید نہیں ہو تیں۔یہی حال اللہ تعالی کی تعلیمات کا ہے۔اس کی بعض تعلیمیں بھی تبھی پختہ ہوتی ہیں اور تبھی ان کا قوام عمدہ اور اعلیٰ ہوتا ہے جب متواتر کئی