مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 72 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 72

72 موجب ہوتا ہے اور اس حقیقت سے کوئی بھی انکار نہیں کر سکتا۔میں غلط بیانی کروں گا اگر کہوں کہ مجھے ان بچوں کے آنے کی خوشی نہیں ہوئی۔دنیا میں کوئی شخص بھی ایسا نہیں جو ایسے موقع پر خوش نہ ہو۔باپ یا بھائی یا بیٹے کے آنے کے علاوہ کسی کا کوئی دوست بھی آئے تو میں نہیں کہہ سکتا کہ اس کے دل میں خوشی کے جذبات پیدا نہ ہوں۔لیکن جس غرض کے لئے اللہ تعالیٰ نے ہمیں کھڑا کیا ہے اس نے ہم میں ایسا ماحول پیدا کر دیا ہے کہ صرف جسمانی قرب ہمارے دلوں میں حقیقی راحت پیدا نہیں کر سکتا۔بے شک ایسے مواقع پر انسان کو خوشی ہوتی ہے اور بہت سا اطمینان بھی انسان حاصل کر لیتا ہے لیکن پھر بھی درمیان میں ایک پردہ حائل ہوتا ہے جو بعض دفعہ ہمارے قرب کو بعد میں تبدیل کر دیتا ہے۔پس حقیقی خوشی ہمیں اس وقت تک نہیں ہو سکتی جب تک کہ اس پردہ کو بھی دور نہ کیا جائے۔اس ایڈریس میں مظفر احمد سلمہ ربہ کی آمد اور اس کی کامیابی کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔میں اس موقعہ پر انہیں ان کے ہی ایک قول کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں جو انہوں نے کچھ عرصہ پہلے کہا تھا۔پہلے وہ زبانی تھا اور اب اس پر عمل کرنے کا وقت آگیا ہے۔مظفر احمد جب آئی۔سی۔ایس میں کامیاب ہوئے اور انہوں نے یہ محسوس کیا کہ نوکری انہیں پسند نہیں تو انہوں نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ استعفے دینے کے لئے تیار ہیں۔مگر انہیں یاد رکھنا چاہیئے کہ اسلامی تعلیم یہ نہیں کہ ہم دنیا کو چھوڑ کر بزدلی سے ایک طرف ہو جائیں۔ہم دنیا میں جس غرض کے لئے کھڑے ہوئے نہیں اس کے لئے بحیثیت جماعت ہم پر فرض ہے کہ ہم دنیوی طور پر بھی سلسلہ کے اصولوں کی خوبیاں ثابت کریں اور اگر ہم دنیا کو چھوڑ کر الگ ہو جائیں تو پھر ہم اپنے اصولوں کی خوبیاں ثابت نہیں کر سکتے۔پس ہمیں ایسے نوجوانوں کی ضرورت ہے جو اس رنگ میں بھی دنیا میں اپنے اصول کی خوبیاں ثابت کریں۔ملازمت کرنا کوئی معیوب امر نہیں بلکہ اگر کوئی شخص بلاوجہ ملازمت کو ترک کر دیتا ہے تو ایسے آدمی کی قربانی کوئی بڑی قربانی نہیں کہلا سکتی۔البتہ وہ شخص جسے سچ بولنے کی عادت ہو اور اس کا طریق کار انصاف پر مبنی ہو۔اگر اس سے ظلم کروانے اور جھوٹ بلوانے کی کوشش کی جائے اور ایسا شخص نوکری چھوڑ دے تو اس کی قربانی حقیقی قربانی ہو گی کیونکہ اس نے تقویٰ کو مد نظر رکھتے ہوئے ملازمت کو ترک کیا ہے۔ایک اور بات یہ بھی مد نظر رکھنی چاہیئے کہ جب کسی کو کوئی اعلی ملازمت ملتی ہے تو اس میں ایک قسم کا کبر پیدا ہو جاتا ہے۔مگر ایک احمدی کو ایسا نہیں ہونا چاہئے۔ہماری جماعت میں کمزور لوگ بھی ہیں اور غریب بھی ہیں۔ترقی ملنے سے بعض لوگوں میں کبر اور غرور پیدا ہو جاتا ہے اور وہ غریبوں سے ملنا عار سمجھنے لگ جاتے ہیں۔ایسے لوگ در حقیقت انسانیت سے بھی جاتے رہتے ہیں۔پس پہلی ذمہ داری جوان پر عائد ہوتی ہے وہ احمدیت کی ہے۔احمدیت کا کام ساری دنیا میں انصاف قائم کرنا ہے اور پھر ایک احمدی دوسرے احمدی کا روحانی رشتہ دار ہے۔اس لئے ہر احمدی سے محبت اور خوش خلقی سے پیش آنا چاہیے۔تم جب ایک احمدی سے ملو تو تمہیں ایسی ہی خوشی حاصل ہو جیسے اپنے