مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 781 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 781

781 نتیجہ یہ ہو گا کہ خلافت کی برکات ختم ہو جائیں گی اور مسلمانوں کا شیرازہ بکھر کر رہ جائے گا۔اب دیکھ لو وہی ہوا جو حضرت عثمان نے فرمایا تھا۔حضرت عثمان کا شہید ہو نا تھا کہ مسلمان بکھر گئے اور آج تک وہ جمع نہیں ہوئے۔ایک زمانہ وہ تھا کہ جب روم کے بادشاہ نے حضرت علیؓ اور حضرت معاویہ میں اختلاف دیکھا تو اس نے چاہا کہ وہ مسلمانوں پر حملہ کرنے کے لئے ایک لشکر بھیجے۔اس وقت رومی سلطنت کی ایسی ہی طاقت تھی جیسی اس وقت امریکہ کی ہے۔اس کی لشکر کشی کا ارادہ دیکھ کر ایک پادری نے جو بڑا ہو شیار تھا کہا بادشاہ سلامت آپ میری بات سن لیں اور لشکر کشی کرنے سے اجتناب کریں۔یہ لوگ اگر چہ آپس میں اختلاف رکھتے ہیں لیکن آپ کے مقابلہ میں متحد ہو جائیں گے اور باہمی اختلاف کو بھول جائیں گے۔پھر اس نے کہا آپ دو کتے منگوا ئیں اور انہیں ایک عرصہ تک بھو کا ر کھیں پھر ان کے آگے گوشت ڈال دیں۔وہ آپس میں لڑنے لگ جائیں گے۔اگر آپ انہی کتوں پر شیر چھوڑ دیں تو وہ دونوں اپنے اختلاف کو بھول کر شیر پر جھپٹ پڑیں گے۔اس مثال سے اس نے یہ بتایا کہ تو چاہتا ہے کہ اس وقت حضرت علی اور معاویہ کے اختلاف سے فائدہ اٹھالے لیکن میں یہ بتا دیتا ہوں کہ جب بھی کسی بیرونی دشمن سے لڑنے کا سوال پیدا ہو گا، یہ دونوں اپنے باہمی اختلافات کو بھول جائیں گے اور دشمن کے مقابلہ میں متحد ہو جائیں گے اور ہوا بھی یہی۔جب حضرت معاویہ کو روم کے بادشاہ کے ارادہ کا علم ہوا تو آپ نے اسے پیغام بھیجا کہ تو چاہتا ہے کہ ہمارے اختلاف سے فائدہ اٹھا کر مسلمانوں پر حملہ کرے لیکن میں تمہیں بتا دینا چاہتا ہوں کہ میری حضرت علی کے ساتھ بے شک لڑائی ہے لیکن اگر تمہار الشکر حملہ آور ہوا تو حضرت علی کی طرف سے اس لشکر کا مقابلہ کرنے کے لئے جو سب سے پہلا جرنیل نکلے گا وہ میں ہوں گا۔اب دیکھ لو حضرت معاویہ حضرت علی سے اختلافات رکھتے تھے لیکن اس اختلاف کے باوجود انہوں نے رومی بادشاہ کو ایسا جواب دیا جو اس کی امیدوں پر پانی پھیر نے والا تھا لیکن حضرت خلیفتہ المسیح الاول کی اولاد کا یہ حال ہے کہ انہیں اتنی بھی توفیق نہ ملی کہ پیغامیوں سے کہتے کہ تم تو ساری عمر ہمارے باپ کو گالیاں دیتے رہے ہو پھر ہمارا تم سے کیا تعلق ہے۔انہیں وہ گالیاں بھول گئیں جو ان کے باپ کو دی گئی تھیں اور چپ کر کے بیٹھے رہے۔انہوں نے ان کی تردید نہ کی اور تردید بھی انہوں نے اس لئے نہ کی کہ اگر ہم نے ایسا کیا تو شاید پیغامی ہماری تائید نہ کریں حالانکہ اگر ان کے اندر ایمان تھا تو یہ لوگ کہتے ، ہمارا ان لوگوں سے کیا تعلق ہے۔حضرت خلیفتہ المسیح الاول کی دو نقار پر موجود ہیں جن میں آپ نے بیان فرمایا ہے کہ یہ لوگ مجھے خلافت سے دستبردار کرنا چاہتے ہیں لیکن یہ کون ہیں مجھے دستبردار کرنے والے۔مجھے خدا تعالیٰ نے خلیفہ بنایا ہے اس لئے وہی خلافت کی حفاظت کرے گا۔اگر یہ لوگ میری بات نہیں سنتے تو اپنے باپ کی بات تو سن لیتے۔وہ کہتا ہے کہ مجھے خدا تعالیٰ نے خلیفہ بنایا ہے۔اب کسی شخص یا جماعت کی طاقت نہیں کہ وہ مجھے معزول کر سکے اسی طرح میں بھی کہتا ہوں کہ مجھے خدا تعالیٰ نے خلیفہ بنایا ہے پھر یہ لوگ مجھے معزول کیسے کر سکتے ہیں۔خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے ایک جماعت کو پکڑ کر میرے ہاتھ پر جمع کر دیا تھا اور اس وقت جمع کر دیا تھا جب تمام بڑے بڑے احمدی میرے مخالف ہو گئے تھے اور کہتے تھے کہ اب خلافت ایک بچے کے