مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 776 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 776

776 ہوتی ہیں " منصب خلافت صفحہ ۳۴)۔اس دفعہ میں نے یہ الہام لکھ کر قادیان والوں کو بھجوایا اور ان کو توجہ دلائی کہ تم اپنی ذمہ داریوں کو محسوس کرو اور دعائیں کرو کہ خدا تعالیٰ وہ برکتیں تم پر ہمیشہ نازل کرتا رہے۔اب خلافت کی برکات سے اس علاقہ والوں کو بھی حصہ ملنا شروع ہو گیا ہے چنانچہ اس علاقہ میں کسی زمانہ میں صرف چند احمدی تھے مگر اب ان کی تعداد ہزاروں تک پہنچ گئی ہے اور ہمیں امید ہے کہ اگر خد اتعالیٰ چاہے تو وہ ایک دو سال میں پندرہ بیس ہزار ہو جائیں گے۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے ' ایک دفعہ میں نے خدا تعالیٰ سے ایک لاکھ روپیہ مانگا تھا لیکن اب خدا تعالٰی سے اربوں مانگا کرتا ہوں۔میں سمجھتا ہوں کہ میں نے اس وقت ایک لاکھ روپیہ مانگ کر غلطی کی۔اس وقت یورپین اور دوسرے اہم ممالک کا شمار کیا جائے اور ان مقامات کا جائزہ لیا جائے جہاں مسجدوں کی ضرورت ہے تو ان کی تعداد ڈیڑھ سو کے قریب بن جاتی ہے اور اگر ان ڈیڑھ سو مقامات پر ایک ایک مسجد بھی بنائی جائے اور ہر ایک مسجد پر ایک ایک لاکھ روپیہ خرچ کیا جائے تو ان پر ڈیڑھ کروڑ روپیہ خرچ ہو جائے گا۔۔۔۔۔اور پھر بھی صرف مشہور ممالک میں ایک ایک مسجد بنے گی۔پھر ایک ایک لاکھ روپیہ سے ہمارا کیا بنتا ہے۔ہمارا صرف مبلغوں کا سالانہ خرچ سوالاکھ روپیہ کے قریب بنتا ہے اور اگر اس خرچ کو بھی شامل کیا جائے جو بیرونی جماعتیں کرتی ہیں تو یہ خرچ ڈیڑھ دولاکھ روپیہ سالانہ بن جاتا ہے۔غرض میں نے اس سے صرف ایک لاکھ روپیہ مانگا تھا مگر اس نے مجھے اس سے بہت زیادہ دیا۔اب ہماری صدر انجمن احمدیہ کا سالانہ بجٹ تیرہ لاکھ روپیہ کا ہے اور اگر تحریک جدید کے سالانہ بجٹ کو بھی ملا لیا جائے تو ہمار ا سالانہ بجٹ بائیں ، تئیس لاکھ روپے سالانہ بن جاتا ہے۔پس اگر خداتعالی میری اس بیوقوفی کی دعا کو قبول کر لیتا تو ہمارا سارا کام ختم ہو جا تا مگر اللہ تعالیٰ نے کہا ہم تیری اس دعا کو قبول نہیں کرتے جس میں تو نے ایک لاکھ مانگا ہے۔ہم تجھے اس سے بہت زیادہ دیں گے تاکہ سلسلہ کے کام چل سکیں۔اب اللہ تعالی کے اس انعام کو دیکھ کر میں نے ایک لاکھ مانگا تھا مگر اس نے بائیس لاکھ سالانہ دیا میں سمجھتا ہوں کہ اگر میں ایک کروڑ مانگتا تو بائیس کروڑ سالانہ ملتا۔ایک ارب مانگتا تو بائیس ارب سالانہ ملتا۔ایک کھرب مانگتا تو با ئیس کھرب سالانہ ملتا اور اگر ایک پرم مانگتا تو بائیں پدم سالانہ ملتا اور اس طرح ہماری جماعت کی آمد امریکہ اور انگلینڈ دونوں کی مجموعی آمد سے بھی بڑھ جاتی۔پس خلافت کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے بہت سی برکات وابستہ کی ہوئی ہیں۔تم ابھی بچے ہو۔تم اپنے باپ دادوں سے پوچھو کہ قادیان کی حیثیت جو شروع زمانہ خلافت میں تھی ، وہ کیا تھی اور پھر قادیان کو اللہ تعالٰی نے کس قدر ترقی بخشی تھی۔جب میں خلیفہ ہوا تو پیغامیوں نے اس خیال سے کہ جماعت کے لوگ خلافت کو کسی طرح نہیں چھوڑ سکتے یہ تجویز کی کوئی اور خلیفہ بنالیا جائے۔ان دنوں ضلع سیالکوٹ کے ایک دوست میر عابد علی عابد صاحب تھے۔وہ صوفی منش آدمی تھے لیکن بعد میں پاگل ہو گئے تھے۔ایک دفعہ انہیں خیال آیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے جو خدا تعالیٰ نے وعدے کئے تھے ' : میرے ساتھ بھی ہیں اور چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام نے فرمایا تھا کہ قادیان میں طاعون نہیں آئے گی اس لئے میں جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کے برابر ہوں تو خدا تعالیٰ کا یہی وعدہ میرے ساتھ بھی