مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 774
774 دینے والا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے ایک دفعہ الهاماً فرمایا تھا کہ اگر ساری دنیا بھی تجھ سے منہ موڑلے تو میں آسمان سے اتار سکتا ہوں اور زمین سے نکال سکتا ہوں۔تو حقیقت یہ ہے کہ ہم نے خلافت حقہ کی برکات اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کی ہیں۔ہم ایک پیسہ کے بھی مالک نہیں تھے پھر اللہ تعالیٰ نے جماعت دی جس نے چندے دیئے اور سلسلہ کے کام اب تک چلتے گئے اور چل رہے ہیں اور اب تک تو جماعت خداتعالی کے فضل سے پہلے سے کئی گنا زیادہ ہے۔مجھے یاد ہے کہ ایک دفعہ میں نے دینی ضرورتوں کے لئے خدا تعالٰی سے کہا کہ اے اللہ تو مجھے ایک لاکھ روپیہ دے دے تو سلسلے کے کاموں کو چلاؤں لیکن اب کل ہی میں حساب کر رہا تھا کہ میں نے خود چھ لاکھ ستر ہزار روپیہ سلسلہ کو بطور چندہ دیا ہے۔میں خیال کرتا ہوں کہ میں کتنا بیوقوف تھا کہ خدا تعالیٰ سے سلسلہ کی ضرورتوں کے لئے صرف ایک لاکھ روپیہ مانگا۔مجھے تو اس سے ایک ارب روپیہ مانگنا چاہئے تھا۔مانگنے والا خدا تعالی کا خلیفہ ہو اور جس سے مانگا جائے وہ خود خدا کی ذات ہو تو پھر ایک لاکھ روپیہ مانگنے کے کیا معنے ہیں۔مجھے تو یہ دعا کرنی چاہئے تھی کہ اے خدا تو مجھے ایک ارب روپیہ دے ایک کھرب روپیہ دے یا ایک پدم روپیہ دے۔میں نے بتایا ہے کہ اگر چہ میں نے خدا تعالیٰ سے صرف ایک لاکھ روپیہ مانگا تھا لیکن خدا تعالیٰ نے اتنا فضل کیا کہ صرف میں نے پیچھے سالوں میں چھ لاکھ ستر ہزار روپیہ سلسلہ کو چندہ کے طور پر دیا ہے۔بے شک وہ روپیہ سالانہ نقدی کی صورت میں نہ تھا۔کچھ زمین تھی جو میں نے سلسلہ کو دی مگر وہ زمین بھی خدا تعالیٰ نے ہی دی تھی۔میرے پاس تو زمین ہی نہیں تھی۔ہم تو اپنی ساری زمین قادیان چھوڑ آئے تھے۔اپنے باغات اور مکانات بھی قادیان چھوڑ آئے تھے۔قادیان میں میری جائیداد کافی تھی مگر اس کے باوجو د سلسلہ کو میں نے اتار و پیہ نہیں دیا تھا جتنا قادیان سے نکلنے کے بعد دیا تھا۔۴۷ء میں ہم قادیان سے آئے ہیں اور تحریک جدید ۳۴ء میں شروع ہوئی تھی گویا اس وقت تحریک جدید کو جاری ہوئے بارہ سال کا عرصہ گزر چکا تھا اور اس بارہ سال کے عرصہ میں میرا تحریک جدید کا چندہ قریباً چھ ہزار روپیہ تھا لیکن بعد کے دس سال ملا کر میرا چندہ تحریک جدید دو لاکھ میں ہزار روپیہ بن جاتا ہے۔اس کے علاوہ ڈیڑھ لاکھ روپیہ کی زمین میں نے تحریک جدید کو دی ہے۔یہ زمین مجھے چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے بطور نذرانہ دی تھی۔میں نے خیال کیا کہ اتنا بڑا نذرانہ اپنے پاس رکھنا درست نہیں چنانچہ میں نے وہ ساری زمین سلسلہ کو دے دی۔اس طرح تین لاکھ ستر ہزار روپیہ میں نے صرف تحریک جدید کو ادا کیا۔اسی طرح خلافت جو بلی کے موقعہ پر چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کی تحریک پر جب جماعت نے مجھے روپیہ پیش کیا تو میر محمد اسحاق صاحب کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی اولاد کے متعلق جو دعائیں کی ہیں، ان میں یہ دعا بھی ہے کہ ”دے اس کو عمر و دولت کر دور ہر اندھیرا " پس اس کے ذریعہ آپ کی یہ دعا پوری ہوگی۔اس طرح یہ پیشگوئی بھی پوری ہوگی کہ " وہ صاحب شکوہ اور عظمت اور دولت ہو گا۔اس پر میں نے کہا