مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 765
765 بعض باتیں نکلی ہیں ان سے تم اندازہ لگا سکتے ہو کہ ما تخفی صدورھم اکبر جو کچھ ان کے سینوں میں ہے ، وہ اس سے بہت بڑا ہے کیونکہ ہر انسان کوشش کرتا ہے کہ اس کے دل کے بغض کا علم کسی اور کو نہ ہو اس لئے جو کچھ اس کے دل میں ہے وہ اس سے بہت بڑا ہے جو ظاہر ہو چکا ہے۔غرض خداتعالی نے اس آیت میں جماعتی نظام کی مضبوطی کے لئے ایک اہم نصیحت بیان فرمائی ہے۔تمہیں یہ نصیحت ہمیشہ یاد رکھنی چاہئے اور اس کے مطابق اپنے طریق کو بدلنا چاہئے ورنہ احمدیت آئندہ تمہارے ہاتھوں میں محفوظ نہیں ہو سکتی۔تم ایک بہادر سپاہی کی طرح بنو۔ایسا سپاہی جو اپنی جان اپنا مال اپنی عزت اور اپنے خون کا ہر قطرہ احمدیت اور خلافت کی خاطر قربان کر دے اور کبھی بھی خلافت احمدیہ ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں نہ جانے دے جو پیغامیوں یا احراریوں وغیرہ کے زیر اثر ہوں۔جس طرح خدا تعالٰی نے بائیبل میں کہا تھا کہ سانپ کا سر ہمیشہ کچلا جائے گا اس طرح تمہیں بھی اپنی ساری عمر فتنہ و فساد کے سانپ کے سر پر ایڑی رکھنی ہوگی اور دنیا کے کسی گوشہ میں بھی اسے پنپنے کی اجازت نہیں دینی ہو گی۔اگر تم ایسا کرو گے تو قرآن کریم کہتا ہے کہ خداتعالی تمہاری مدد کرے گا اور خدا تعالیٰ سے زیادہ سچا اور کوئی نہیں۔دیکھو اس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات کے بعد جماعت کو کس قدر مدد دی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی میں جو آخری جلسہ سالانہ ہوا اس میں چھ سات سو آدمی آئے تھے اور حضرت خلیفتہ المسیح الاول کے عہد خلافت کے آخری جلسہ سالانہ پر گیارہ بارہ سو احمدی آئے تھے لیکن اب ہمارے معمولی جلسوں پر بھی دو اڑھائی ہزار احمدی آجاتے ہیں اور جلسہ سالانہ پر تو ساٹھ ستر ہزار لوگ آتے ہیں۔اس سے تم اندازہ کرلو کہ اللہ تعالی نے ہمیں کتنی طاقت دی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں لنگر خانہ پر پندرہ سو روپیہ ماہوار خرچ آجاتا تو آپ کو فکر پڑ جاتی اور فرماتے لنگر خانہ کا خرچ اس قدر بڑھ گیا ہے اب اتنا روپیہ کہاں سے آئے گا۔گویا جس شخص نے جماعت کی بنیاد رکھی تھی وہ کسی زمانہ میں پندرہ سو ماہوار کے اخراجات پر گھبرا تا تھا لیکن اب تمہارا صد را انجمن احمدیہ کا بجٹ بارہ تیرہ لاکھ کا ہوتا ہے اور صرف ضیافت پر پینتیس ، چھتیں ہزار روپیہ سالانہ خرچ ہو جاتا ہے۔پندرہ سو روپیہ ماہوار خرچ کے معنے یہ ہیں کہ سال میں صرف اٹھارہ ہزار روپیہ خرچ ہو تا تھا لیکن اب صرف جامعتہ المبشرین اور طلباء کے وظائف وغیرہ کے سالانہ اخراجات چھیاسٹھ ہزار روپے ہوتے ہیں گویا ساڑھے پانچ ہزار روپیہ ماہوار۔ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مقابلہ میں حیثیت ہی کیا رکھتے ہیں۔وہ مامور من اللہ تھے اور اس لئے آئے تھے کہ دنیا کو ہدایت کی طرف لائیں۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حکومت دنیا کے کونہ کونہ میں قائم کریں اور مسلمانوں کی غفلتوں اور ستیوں کو دور کر کے انہیں اسلامی رنگ میں رنگین کریں لیکن ان کی زندگی میں جماعتی اخراجات پندرہ سو روپیہ پر پہنچتے ہیں تو گھبرا جاتے ہیں اور خیال فرماتے ہیں کہ یہ اخراجات کہاں سے مہیا ہوں گے لیکن اس وقت ہم جو آپ کی جوتیاں جھاڑنے میں بھی فخر محسوس کرتے ہیں ، صرف ایک درس گاہ یعنی جامعتہ المبشرین پر ساڑھے پانچ ہزار روپے ماہوار