مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 752
752 جس کے ذریعے جماعت میں قومی خدمت کا جذبہ قیامت تک قائم رہے۔اسی طرح جامعتہ المبشرین کے وہ طلباء جو آئندہ شاہد بننے والے ہیں ، انہیں چاہئے کہ دوسرے کالجوں کے طلباء سے بھی دوستی پیدا کریں تاکہ ان کے خیالات میں تنوع پیدا ہو۔کیمبرج ، آکسفورڈ اور قرطبہ کے کالجوں کو پادریوں اور مولویوں نے ہی شروع کیا تھا اور وہی ابتداء میں پڑھایا کرتے تھے لیکن اب ہمارے علماء یونیورسٹیاں اور کالج بنانے کی طرف توجہ نہیں کرتے۔اب وہ لوگ کالج بنا رہے ہیں جن کا صرف تنظیم سے تعلق ہے علم سے تعلق نہیں۔اگر علماء اپنے فرائض کی طرف توجہ کرتے تو یہ ان کا کام تھا کہ کالج بناتے اور لوگوں میں تحریک کر کے ان میں جوش پیدا کرتے۔یہ کوئی بات نہیں جو میں اس وقت کہہ رہا ہوں ،مسلمانوں میں ایسے علماء گزرے ہیں جنہوں نے با قاعدہ کالج چلائے اور قوم میں ایسے نوجوان تیار کئے جنہوں نے بعد میں اسلام کی بڑی خدمت کی۔ایران کے ایک عالم نے اپنے شاگردوں میں سے چھ سو مبلغ ہندوستان میں تبلیغ کے لئے بھجوائے تھے پھر خواجہ معین الدین چشتی (علیہ الرحمتہ) نے سینکڑوں آدمی تبلیغ اسلام کے لئے تیار کئے جنہوں نے ہندوستان میں اسلام کی اشاعت کی۔آخر کیا وجہ ہے کہ تم میں یہ روح نہیں پائی جاتی اور کیا وجہ ہے کہ تم اس روح کو دائمی طور پر قائم رکھنے کے لئے ایسے شاگر د پیدا نہیں کرتے جو دین کی خدمت کے لئے آگے آئیں حالانکہ تمہارا بھی فرض تھا کہ تم ایسے بزرگوں کے نقش قدم پر چل کر ایسے شاگر دنیار کرتے جو اسلام کا جھنڈا اکناف عالم میں بلند کرتے اور اشاعت علوم کا فریضہ بجالاتے۔یاد رکھو جماعت میں علوم کو جاری رکھنا اور علمی کتب کی تصنیف کا سلسلہ جاری رکھنا تمہارا فرض ہے۔دو۔۔۔پس میں نوجوانوں سے کہتا ہوں کہ وہ جماعت میں اشاعت علوم کی روایت کو قائم رکھیں اور سوچیں کہ ہماری کمزوری دور کرنے کے کیا ذرائع ہیں اور ایسی سکیمیں تیار کریں جن پر عمل پیرا ہو کر جماعت کے کاموں کو ترقی دی جاسکتی ہو۔کل کو وہ بھی بڑے بننے والے ہیں۔اگر آج ان کا استاد پچاس سال کا ہے اور وہ تمیں سال کے نوجوان ہیں تو میں سال گزرنے کے بعد وہ بھی پچاس سال کے ہو جائیں گے اور ان کے کندھوں پر بھی جماعت کا بوجھ آپڑے گا۔اگر آج سے انہوں نے اس کام کے لئے تیاری شروع نہ کی تو پچاس سال کی عمر میں ان کے دل بھی ویسے ہی کڑھیں گے جیسے اب میرا دل کڑھ رہا ہے۔پھر اس کام کے لئے دنیوی تدابیر اور دعاؤں کی بھی ضرورت ہے اس کی طرف بھی تمہیں توجہ کرنی چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے ایک دفعہ الہاما فرمایا کہ "اگر تمام لوگ منہ پھیر لیں تو میں زمین کے نیچے سے یا آسمان کے اوپر سے مدد کر سکتا ہوں" ( تذکرہ صفحہ ۱۱۵) مگر یہ مدددعا کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتی۔اگر تم بھی دعائیں کرو اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے خواب یا الہام کے ذریعہ تمہیں اطمینان دلایا جائے تو تم کامیاب ہو گئے تو تمہارے دل کتنے خوش ہوں گے۔۔۔۔۔"۔" تم بھی دعائیں کرو اور اپنے طور پر کوششیں جاری رکھو اور مجھ سے بھی اپنی کوششوں کا ذکر کرتے رہو اور مجھے بتاتے رہو کہ تم نے میری اس نصیحت سے کیا فائدہ اٹھایا ہے"۔