مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 751
751 کہتا کہ وہ اسے کچھ دے تاوہ اپنا قرضہ اتار سکے یا فاقہ سے نجات حاصل کر سکے۔غرض وہ لوگ فاقوں کی پرواہ نہیں کرتے اور علم کو بڑھاتے چلے جاتے ہیں۔پھر کیا وجہ ہے کہ یہاں علم کو بڑھانے کی طرف کوئی رغبت نہیں۔یہاں جو بھی عالم ہوتا ہے اس کی قلم کو زنگ لگ جاتا ہے اور پھر اگر کوئی کتاب لکھتا ہے تو ساتھ ہی مجھے درخواست پہنچ جاتی ہے کہ حضور جماعت کے پاس میری سفارش کریں کہ وہ میری یہ کتاب خریدے لیکن انگلستان اور امریکہ میں یہ رواج نہیں وہاں لوگ کتابیں لکھتے ہیں اور کسی مطبع یا فرم کو دے دیتے ہیں کہ تم اسے شائع کر دو ، نفع اور نقصان تمہارا تم اسے بیچو۔مجھے یہی فائدہ کافی ہے کہ دنیا تک میرا علم پہنچ جائے گا۔اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو تم ایسا کیوں نہیں کرتے۔تمہیں بھی چاہئے تھا کہ کتابیں تصنیف کرتے اور کسی ادارہ کو دے دیتے کہ وہ انہیں شائع کر دے اور سمجھتے کہ میرے لئے یہی معاوضہ کافی ہے کہ میں اپنے ملک اور قوم میں علم کی اشاعت کا موجب بنا ہوں۔پس تم ان امور پر غور کرو اور جس نتیجہ پر تم پہنچو اس سے مجھے بھی اطلاع دو۔آخر اس جماعت نے قیامت تک چلنا ہے اور اگر اسے کام کرنے والے نہ ملے تو یہ قیامت تک چلے گی کیسے ؟ ہمارے ہاں تو چاہئے تھا کہ اگر ایک کار کن ریٹائر ہو تا یا فوت ہو تا تو اس کی جگہ ہیں میں کام کرنے والے مل جاتے اور اس طرح کام جاری رہتا لیکن اب یہ حالت ہے کہ ایک ناظر مرتا ہے تو دو دو نسل تک اس کا قائمقام نظر نہیں آتا۔آخر تم سوچو کہ اس کی کیا وجہ ہے۔وہ کون سا گناہ ہے جو ہم نے کیا ہے اور عیسائیوں نے نہیں کیا۔وہ کون سی کو تاہی ہے جو ہم سے سرزد ہوئی ہے لیکن عیسائیوں سے وہ سرزد نہیں ہوئی۔ان کے ہاں جب کوئی کارکن ریٹائرڈ ہوتا ہے یا مرتا ہے تو قوم کے بیسیوں نوجوان اس کی جگہ لینے کے لئے آجاتے ہیں مگر ہماری جماعت میں ایسا نہیں یہاں بیسیوں سال تک قائمقام نہیں _" "۔۔۔۔ہمارے ہاں بھی ایسے امیر لوگ ہیں جو اپنی اولاد کو قومی خدمت میں لگا سکتے ہیں اور پھر ان کے اخراجات بھی مہیا کر سکتے ہیں لیکن یہاں امراء کو وقف کی طرف توجہ ہی نہیں ہوتی اور اگر کوئی غریب خاندان میں سے زندگی وقف کر کے آجاتا ہے تو امراء اس کی عزت نہیں کرتے۔وہ یہ نہیں سمجھتے کہ یہ تو قابل فخر بات تھی کہ جب کوئی کام کرنے والا موجود نہ تھا تو یہ لوگ آگے آگئے اور انہوں نے دین کا کام سنبھال لیا۔پس میں نوجوانوں کو کہتا ہوں کہ وہ ان باتوں پر غور کریں اور نہ صرف اپنی اصلاح کریں بلکہ اپنے دوستوں کی بھی اصلاح کریں۔یورپ میں یہ قاعدہ ہے کہ نوجوان کسی ایک خیال کو لے لیتے ہیں اور پھر اس کی تحریک دو سرے نوجوانوں میں کر کے ایک سوسائٹی بنالیتے ہیں۔اسی طرح یہاں بھی ہونا چاہئے۔انصار اللہ اور خدام الاحمدیہ کے سپرد تو اور بھی کئی اہم کام ہیں۔یہ تمہارا فرض ہے کہ تم غور کرو اور سوچو اور اس کے بعد کسی ایک خیال کو لے کر اپنی سوسائٹی بنالو اور اس خیال کو دوسرے نوجوانوں میں رائج کرنے کی کوشش کرو اور انہیں بتاؤ کہ تمہارا فرض ہے کہ تم جماعت کے کاموں کو رکنے نہ دو بلکہ انہیں پوری طرح جاری رکھنے کی کوشش کرو۔۔۔۔۔۔پس تم ان باتوں پر غور کرو اور مجھے یہ بتاؤ کہ تم نے غور کرنے کے بعد کون سی صورت نکالی ہے کہ