مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 750 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 750

750 علوم کے بارہ میں بھی ہم میں یہی نقص پایا جاتا ہے۔ابن سینا اور ابن رشد نے جس حد تک ترقی کی تھی ہم نے اس پر دھرنا مار لیا ہے مگر یورپ نے انہی علوم کو ترقی دے کر دنیا میں علمی طور پر بلند مقام پیدا کر لیا ہے۔یورپ کے مصنفین مسلمانوں کے علوم کی ہی نقل کرتے ہیں اور خود اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ ہم نے مسلمانوں کے علوم کو ترقی دے کر اس مقام کو حاصل کیا ہے لیکن ہم نے بجائے ترقی کرنے کے یہ فیصلہ کرلیا کہ جو شخص ارسطو اور سقراط کے خلاف کوئی بات کہتا ہے وہ کافر ہے گویا ایک طرف تو ہم اپنے پرانے بزرگوں کے اس قدر قائل ہیں کہ ان کے خلاف رائے دینے والے کو گردن زدنی قرار دیتے ہیں اور دوسری طرف اپنے موجودہ بزرگوں کو گرانے کی کوشش کرتے ہیں پس تم اس کے متعلق غور کرو اور مجھ سے بھی مشورہ کرو۔طلباء کو مجھ سے ملاقات کرنے کا اسی طرح حق ہے جس طرح بڑوں کو ہے۔۔۔میں بھی طلباء سے یہی کہتا ہوں کہ وہ خود غور کرنے کی عادت ڈالیں اور جو باتیں میں نے بیان کی ہیں ان کے متعلق سوچیں پھر دوسرے لوگوں میں بھی انہیں پھیلانے کی کوشش کریں۔یاد رکھو صرف کتابیں پڑھنا ہی کافی نہیں بلکہ ان میں جو کمی تمہیں نظر آتی ہے اسے دور کرنا بھی تمہارا فرض ہے مثلاً تفسیر کبیر کو ہی لے لو اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے قرآن کریم کا بہت کچھ علم دیا ہے لیکن کئی باتیں ایسی بھی ہوں گی جن کا ذکر میری تفسیر میں نہیں آیا۔اس لئے اگر تمہیں کوئی بات تفسیر میں نظر نہ آئے تو تم خود اس بارہ میں غور کرو اور سمجھ لو کہ شاید اس کا ذکر کرنا مجھے یاد نہ رہا ہو اور اس وجہ سے میں نے نہ لکھی ہو یا ممکن ہے ، وہ میرے ذہن میں ہی نہ آئی ہو اور اس وجہ سے وہ رہ گئی ہو بہر حال اگر تمہیں اس میں کوئی کمی دکھائی دے تو تمہارا فرض ہے کہ تم خود قرآن کریم کی آیات پر غور کرو اور ان اعتراضات کو دور کرو جو ان پر وارد ہونے والے ہیں۔پھر تم اس بات کے متعلق بھی غور کرو کہ انگلینڈ اور امریکہ کو کیوں لائق آدمی مل جاتے ہیں ، ہمیں کیوں نہیں ملتے۔تم میں سے بعض سمجھتے ہوں گے کہ اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ انہیں تنخواہیں زیادہ ملتی ہیں حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ وہاں گورنمنٹ کی تنخواہوں اور فرموں کی تنخواہوں میں بہت زیادہ فرق ہے لیکن پھر بھی گورنمنٹ کو اچھے کارکن مل جاتے ہیں"۔" پھر ہم پر یہ کیا آفت ہے کہ ہمیں کسی کارکن کا قائمقام ملنا مشکل ہو جاتا ہے حالانکہ تمہاری تنخواہوں اور گورنمنٹ کی تنخواہوں میں اتنا فرق نہیں جتنا انگلینڈ اور امریکہ میں گورنمنٹ اور پرائیویٹ فرموں کی تنخواہ میں فرق ہے۔اسی طرح تمہارے علماء کو کتابیں تصنیف کرنے کا شوق نہیں لیکن انگلینڈ اور امریکہ میں ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جنہوں نے پچاس پچاس سال تک فاقہ میں رہ کر زندگی بسر کی لیکن اس کے باوجود انہوں نے کنی کتابیں لکھی ہیں۔انگلستان کا ایک مشہور مصنف ہے جس نے انگریزی زبان کی ڈکشنری لکھی ہے۔کئی دفعہ ایسا ہوا کہ اسے مالک مکان نے مکان سے نکال دیا اس لئے کہ اس نے کرایہ نہیں دیا تھا لیکن وہاں کے بڑے بڑے لوگ بھی جب اس کا نام لیتے ہیں تو بڑی عزت سے لیتے ہیں۔شیکسپیئر ہی کو لے لو جس کے ڈرامے تمام دنیا میں مشہور ہیں کہ بعض اوقات اس پر قرضہ ہو جاتا یا اسے فاقہ میں رہنا پڑتا تو وہ کسی امیر کے ہاں چلا جاتا اور اس سے