مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 65 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 65

65 کے ذہن نشین یہ بات کر دینی چاہیئے کہ اصل چیز جس کا قائم رہنا ضروری ہے وہ اسلام اور احمدیت ہے۔ہر احمدی قصر احمدیت کی اینٹ ہے اور اگر کسی وقت کسی اینٹ کو اس لئے توڑ کر پھینکنا پڑے کہ قصر احمدیت کے لئے میں مفید ہے تو اسے اپنی انتہائی خوش قسمتی سمجھنا چاہیئے۔دیکھو اینٹ جب تک مکان کی دیوار میں لگی رہے صرف اینٹ ہے لیکن مکان میں اگر کسی جگہ سوراخ ہو جائے جس میں سے پانی اندر آنے لگے اور اس وقت ایک اینٹ نکال کر اسے پیسا جائے اور اس طرح مسالہ بنا کر سوراخ کو بند کر دیا جائے تو وہ اینٹ مکان بن جائے گی۔اسی طرح جو شخص قوم کے لئے فنا ہو جاتا ہے وہ ثابت کر دیتا ہے کہ اس نے قوم کے لئے قربانی کی اور جو قوم کو فائدہ پہنچانے کے لئے اپنے آپ کو قربان کر دیتا ہے وہ خود نہیں رہتا بلکہ قوم بن جاتا ہے۔یہ ہے وہ روح جو ہر احمدی نوجوان کے دل میں پیدا کرنی چاہئے اور یاد رکھنا چاہئے کہ جن میں یہ روح پیدا ہو جاتی ہے وہ معمولی انسان نہیں رہتے۔ان کے چہروں سے ان کی باتوں سے اور ان کے اعمال سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ زند دانسان نہیں بلکہ مجسم موت ہیں۔بدر کے موقع پر جب کفار نے اسلامی لشکر کا جائزہ لینے کیلئے آدمی بھیجے تو انہوں نے آکر کہا کہ۔سواریوں پر ہمیں آدمی نظر نہیں آتے بلکہ موتیں نظر آتی ہیں۔ان سے نہیں لڑنا چاہئے ورنہ ہماری خیر نہیں۔جب نوجوانوں میں ہمیں یہ روح نظر آجائے گی اور ہم دیکھیں گے کہ وہ اسلام کے لئے قربان ہونے کے منتظر بیٹھے ہیں اور پر تولے ہوئے اس بات کے منتظر ہیں کہ کفر کی چڑیا آئے اور وہ اس پر جھپٹ پڑیں۔اس دن ہم سمجھیں گے کہ تحریک جدید کا بورڈنگ بنانے کا جو مقصد تھاوہ حاصل ہو گیا۔تقریر فرموده ۳ اگست ۱۹۳۸ء - الفضل ۱۳ اپریل ۱۹۶۱ء)