مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 64 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 64

64 ۳ اگست ۱۹۳۸ء بعد نماز عصر طلباء و کارکنان تحریک جدید نے بورڈنگ تحریک جدید میں بعض مبلغین کے اعزاز میں ایک دعوت چائے دی۔جس میں سیدنا حضرت خلیفہ الثانی نے بھی شمولیت فرمائی۔اس موقعہ پر حضور نے جو تقریر فرمائی اس میں خدام الاحمدیہ سے متعلق حصہ درج ذیل ہے خدا تعالیٰ کی یہ سنت ہے کہ ایک مومن کے ساتھی جب تک زندہ رہتے ہیں اور دین کی خدمات سر انجام دیتے ہیں مرنے والے کو اس حیثیت سے جس میں وہ مرا ثواب ملتا رہتا ہے۔اس میں اللہ تعالیٰ نے یہ سبق دیا ہے کہ ایسے موقعہ پر جو شہادت پا جائیں ان کو زندہ رکھنا ضروری ہوتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصوة والسلام نے شہید کی یہ تعریف کی ہے کہ وہ بہت جلد اعلیٰ مدارج حاصل کر لیتا ہے۔اس لئے نہیں کہ تھوڑی خدمت کے بدلہ میں اسے اعلیٰ مدارج حاصل ہو جاتے ہیں بلکہ اس لئے کہ تھوڑے دن خدمت کر کے وہ اسی راہ میں جان دے دیتا ہے۔اگر وہ زندہ رہتا تو اس کے نیک اعمال کا تسلسل جاری رہتا۔مگر خدا تعالیٰ نے اپنے منشاء کے ماتحت اسے توڑا اور اسے شہادت دے دی تاکہ بعد کے آنے والے زندہ رہیں۔اس وجہ سے خدا تعالیٰ کی راہ میں جان دینے والوں کے اعمال جاری رہتے ہیں۔وہ جن کے ساتھ زندگی میں مل کر کام کرتے تھے ان کے اعمال جس قدر ثواب کے مستحق ہوں گے اس قدر ثواب شہادت پانے والوں کو بھی ملے گا۔یعنی جس درجہ اور جس درجہ کی قربانی کرنے والا کوئی شہید ہو گا۔اسی درجہ کے مطابق اسے انعام ملیں گے اور موت اس سے اس کو محروم نہیں کر سکے گی۔دیکھو بعض صحابہ ایسے تھے کہ انہیں اسلام لائے دو چار ہی دن گزرے تھے کہ لڑائی میں شہادت پاگئے۔کیا ان کے اعمال ختم ہو جائیں گے ؟ ہر گز نہیں، بلکہ ان کو اس وقت تک وسعت دی جائے گی جب تک کہ ان کے ساتھ صحابہ زندہ ہیں۔غرض دین کی راہ میں قربانی بہترین چیز ہے اور جنہیں یہ حاصل ہو ان کی قدر دوسروں کی نسبت بہت زیادہ ہونی چاہئے۔قرآن کریم نے ایسا ہی کیا ہے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے متعلق آتا ہے کہ آپ دعا کیا کرتے تھے کہ مجھے شہادت حاصل ہو اور مدینہ میں ہی ہو۔آخر انہیں حاصل ہو گئی اور مدینہ میں ہی حاصل ہوئی۔مگر تعجب ہے ان جیسے انسان نے یہ دعا کس طرح کی۔مدینہ میں انہیں شہادت ملنے کے یہ معنی تھے کہ دشمن مدینہ پر حملہ کرے اور وہ اس قدر غلبہ پالے کہ مسلمانوں کے خلیفہ کو قتل کر دے مگر باوجود اس کے حضرت عمر شہادت کے لئے دعا کیا کرتے تھے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایسا درجہ ہے کہ بڑے بڑے جلیل القدر صحابہؓ اس کی تمنا کیا کرت تھے۔یہ روح اور یہ ولولہ ہر احمدی کو اور خاص کر ہر احمدی نوجوان کو اپنے اندر پیدا کرنا چاہیئے اور ایک ایک طالب علم