مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 721 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 721

721 ہر خوبی اپنی طرف منسوب کرتے ہیں۔اگر تم اپنا رویہ بدل لو تو دیکھو گے کہ تم میں چستی پیدا ہو جائے گی۔ہمارا ایک طالب علم فیل ہو جاتا ہے تو وہ کیا کرتا ہے۔وہ جانتا ہے کہ اگر میں نے اپنی ناکامی کو اپنی ستی کی طرف منسوب کیا تو ماں باپ ناراض ہو جائیں گے اس لئے وہ کہتا ہے استاد کو مجھ سے ضد تھی۔میں چونکہ گھر سے اس کے لئے شکر اور گڑ نہیں لایا تھا اس لئے اس نے مجھے فیل کر دیا اور ماں باپ سمجھتے ہیں کہ جو کچھ یہ کہہ رہا ہے ٹھیک ہے۔یونیورسٹی کا امتحان ہو تو ہمارے ہاں عام محاورہ ہے کہ یہاں سارے کام سفارش سے چلتے ہیں۔امتحانوں میں کامیابی یا ناکامی بھی یا عدم سفارش کی وجہ سے ہوتی ہے حالانکہ اس میں نوے فی صد جھوٹ ہو تا ہے۔اگر کوئی لڑکا فیل ہو جاتا ہے تو وہ کہتا ہے ابا تم کسی کے پاس سفارش لے کر نہیں گئے تھے اس لئے میں فیل ہو گیا ہوں۔اگر تم کسی کے پاس سفارش لے کر چلے جاتے تو میں ضرور کامیاب ہو جاتا۔اس پر باپ سمجھ لیتا ہے کہ جو کچھ یہ کہہ رہا ہے درست ہے۔ایک دفعہ ایک احمدی دوست کی طرف سے یہ شکایت آئی کہ میرا لڑکا بڑا لا ئق اور محنتی ہے۔اسلام کے احکام کا پابند ہے لیکن استاد نے ضد کی وجہ سے اسے عربی کے پرچہ میں فیل کر دیا ہے۔وہ کسی اور مضمون میں فیل ہو جاتا تو میں سمجھ لیتا کہ اس کا قصور ہے لیکن فیل بھی وہ عربی کے پرچہ میں کیا گیا ہے جس میں وہ خوب ہو شیار تھا۔میں سکول کے عام معاملات میں تو دخل نہیں دیتا لیکن یہ معاملہ چونکہ کافی دلچسپ تھا اس لئے میں نے ہیڈ ماسٹر صاحب کو لکھا کہ فلاں لڑکے کے پرچے میرے پاس بھیج دو۔انہوں نے پرچے بھجوا دیئے۔میں نے دیکھا کہ استاد نے عربی کے پرچے میں اسے ۱۰۰ / ۵ نمبر دیے ہیں لیکن وہ اتنے نمبروں کا بھی حق نہیں رکھتا تھا۔میں نے اس کے باپ کو لکھا کہ ہیڈ ماسٹر پر آپ بھی خفا ہیں اور میں بھی خفا ہوں۔آپ تو اس لئے خفا ہیں کہ انہوں نے آپ کے بیٹے کو فیل کر دیا اور میں اس لئے خفا ہوں کہ انہوں نے ۵/۱۰۰ نمبر بھی کیوں دیئے۔شاید استاد نے لڑکے سے رشوت لے لی تھی کہ اسے پانچ نمبر دے دیئے حالانکہ وہ جاہل مطلق ہے۔وہ اتنے نمبروں کا بھی حق نہیں رکھتا تھا کجا یہ کہ وہ امتحان میں پاس کیا جاتا۔استاد نے اس سے رعایت کی تھی مثلاً اگر اس نے ضرب کی گردان پوچھی تھی تو اس نے ضرب ضرب ضربا لکھ دیا تو استاد نے یہ دیکھ کر کہ اس نے ضرب تو صحیح لکھ دیا ہے اسے نمبر دے دیئے۔اب دیکھ لو اس کی وجہ یہی تھی کہ بیٹے نے اسے لکھ دیا تھا کہ استاد نے ضد کی وجہ سے مجھے فیل کر دیا ہے۔یہ چیز قوم کی بربادی کی علامت ہوتی ہے۔ایک دفعہ میں حضرت خلیفتہ المسیح الاول کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔آپ ایک خط پڑھ رہے تھے۔آپ خط پڑھتے پڑھتے ہنس پڑے اور فرمایا میاں ذرا یہ خط پڑھو اور خط میرے ہاتھ میں دے دیا۔میں نے خط پڑھا تو دیکھا کہ وہ واقعہ میں ایک لطیفہ تھا۔وہ خط ایک طالب علم کی نانی کی طرف سے لکھا ہوا تھا۔لڑکا بورڈنگ میں رہتا تھا۔اس نے خیال کیا کہ میرے والد قادیان سے محبت رکھتے ہیں اس لئے انہوں نے مجھے یہاں داخل کیا ہے۔اگر میں نے اپنے باپ کو قادیان کے ماحول کے خلاف کوئی بات لکھی تو وہ یقین نہیں کریں گے۔نانی کو مجھ سے زیادہ محبت ہے