مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 720
720 نہیں ہو تا۔جب تک تم یہ نہیں سمجھتے کہ بیمار ہم ہوں گے ، شفاخد اتعالیٰ دے گا۔جب تک تم یہ نہیں سمجھتے کہ جب بھی کوئی کمزوری آئے گی تو ہماری طرف سے ہوگی اور جب ہم میں قوت اور طاقت پیدا ہوگی تو وہ خدا تعالی کی طرف سے ہو گی ، اس وقت تک تم کامیاب نہیں ہو سکتے لیکن جب تم یہ احساس پیدا کر لو گے تو تمہارے اندر ایک زبر دست محرک پیدا ہو جائے گا وَاِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِینِی میں ایک نکتہ بیان ہوا ہے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس میں دو باتیں مد نظر ر کھی ہیں۔اگر آپ صرف اذا مرضت کہہ دیتے تو پھر مایوسی ہی مایوسی ہوتی اور اگر هُوَ يُسفینی کے دیتے تو امید ہی امید ہوتی اور یہ دونوں باتیں درست نہیں ہیں۔جب تک کسی کا ایمان خوف اور رجا کے درمیان نہ ہو ، اس کے کسی کام کا صحیح نتیجہ نہیں نکلتا۔اس لئے آپ نے فرمایا خدا تعالٰی نے مجھے اٹھنے کا موقع بھی دیا ہے اور گرنے کا موقعہ بھی دیا ہے۔اگر میں پوری محنت نہیں کروں گا تو میں گروں گا اور اگر میں پوری محنت کروں گا اور اس کے بعد خدا تعالیٰ پر توکل رکھوں گا تو میں جیتوں گا۔آپ نے یہ دونوں باتیں بیان کرکے واضح کر دیا ہے کہ انسان کے لئے محنت اور توکل کرنا ضروری ہے۔اگر ہم محنت نہیں کریں گے تو ہمارے کام خراب ہوں گے اور اگر ہم تو کل نہیں کریں گے تو کامیاب نہیں ہوں گے۔گویا خدا تعالٰی انسان کی محنت کی تکمیل کرتا ہے ، اس کا قائمقام نہیں ہوتا تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یہ بات اذا مرضت فَهُوَ يَشفِینی جھوٹی ہوتی۔آپ نے اذا مرضت کہہ کر تایا ہے کہ اگر میں بیمار ہونا چاہوں تو خدا تعالٰی مجھے بیمار ہونے سے نہیں روکتا اور فھو یشفینی کہہ کے بتایا کہ میں کامل شفا حاصل نہیں کر سکتا۔کامل شفا دینے والی خداتعالی ہی کی ذات ہے اور یہی ترقی اور کامیابی کی کلید ہے۔جب تک کوئی قوم اس گر کو نہیں سمجھتی وہ کامیابی حاصل نہیں کر سکتی۔یورپ اور امریکہ کیوں ترقی کر رہے ہیں۔وہ اس لئے ترقی کر رہے ہیں کہ انہوں نے اس اصول کا ایک حصہ پورا کر دیا ہے اور ہم ناکام اس لئے ہو رہے ہیں کہ ہم نے اس کے دونوں حصوں کو گرا دیا ہے۔اگر کسی زمیندار کے پاس ایک بیل ہو تو وہ ہل چلا لیتا ہے لیکن دونوں بیل ہی نہ ہوں تو پھر ہل نہیں چلا سکتا۔دنیا میں سینکڑوں ہزاروں زمیندار پائے جاتے ہیں جو ایک بیل سے ہل چلا لیتے ہیں۔اگر کسی کے پاس ایک گھوڑا ہو تو فٹن نہ سہی وہ ایکہ چلا سکتا ہے۔اسی طرح یورپ نے تو کل کرنا چھوڑ دیا ہے لیکن چونکہ اس نے محنت والا حصہ پورا کر دیا ہے اس لئے وہ ترقی کر رہا ہے۔ہم نے دونوں حصوں کو ترک کر دیا ہے اس لئے ہم ناکام رہتے ہیں۔پھر جب ہم کوئی کام کرتے ہیں اور اس میں ناکام ہوتے ہیں تو اس ناکامی کو ہم اپنی طرف منسوب نہیں کرتے بلکہ یہ کہتے ہیں کہ محنت تو کی تھی خدا تعالٰی نے کامیاب نہیں کیا تو ہم کیا کر سکتے ہیں اور اگر کچھ مل جاتا ہے تو ہم یہ تمام باتیں بھول جاتے ہیں اور اپنی کامیابی کو اپنی طرف منسوب کرتے ہیں۔قرآن کریم میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ بعض بیوقوف انسان ایسے بھی ہوتے ہیں کہ جب انہیں کوئی ترقی حاصل ہوتی ہے تو کہتے ہیں یہ ہمارے علم اور طاقت کی وجہ سے حاصل ہوئی ہے مگر ہم علم اور سمجھ والے نہ ہوتے تو یہ ترقی کس طرح حاصل ہوتی اور جب کوئی ناکامی ہوتی ہے تو اسے خدا تعالی کی طرف منسوب کر دیتے ہیں۔گویا وہ ہر عیب خدا تعالی کی طرف منسوب کرتے ہیں اور