مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 710 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 710

710 الاٹ ہوا ہے۔لاہور کے ایک تاجر نے اس کا ٹھیکہ لیا تھا۔وہ مجھے ملے تو کہنے لگے کہ بے شک ہم نے بھی نفع اٹھایا ہے لیکن آپ دیکھیں کہ کیا اس باغ میں اب کہیں بھی کوئی طوطا نظر آتا ہے۔پہلے اس باغ میں ہزار ہا طوطے ہوا کرتے تھے۔مگر اب ایک طوطا بھی نظر نہیں آتا اور اگر کوئی غلطی سے ادھر کا رخ کرے تو چکر کاٹ کر بھاگ جاتا ہے۔اس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ پہلے سے کئی گنا زیادہ پھل پیدا ہوا اور ہم نے بھی فائدہ اٹھایا اور آپ کو بھی زیادہ پیسے دیئے۔تو پھل تو سب باغوں میں آتے ہیں۔باغبان کی خوبی یہ ہوتی ہے کہ وہ ان کی حفاظت کرے۔خدام الاحمدیہ کے قیام کی غرض و غایت نوجوان اسلام کے مقصد کو اپنے سامنے رکھیں۔خدام الاحمدیہ کا قیام بھی اسی لئے کیا گیا ہے کہ بچپن اور نوجوانی میں بعض لوگ بیر ونی اثرات کے ماتحت کمزور ہو جاتے ہیں اور ان میں کئی قسم کی خرابیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔بعض لوگ دوسری سوسائٹیوں سے بُرا اثر قبول کر لیتے ہیں اور بعض تربیت کے نقائص کی وجہ سے آوارگی میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔خدام الاحمدیہ کے قیام کی غرض یہ ہے کہ اس بیر ونی تغیر کو جماعت احمدیہ میں داخل نہ ہونے دیں اور اس مقصد کو ہمیشہ نوجوانوں کے سامنے رکھیں جس کو پورا کرنے کے لئے جماعت احمد یہ قائم کی گئی ہے۔اگر نوجوانوں میں یہ روح پیدا کر دی جائے تو پھر بے شک شرارت کرنے والے شرارت کرتے رہیں۔خواہ اپنے ہوں یا غیر سب کے سب ناکام رہیں گے۔دنیا میں بسا اوقات اپنے دوست اور عزیز بھی مختلف غلط فہمیوں کی بناء پر مخالفت پر اتر آتے ہیں۔جیسے آج کل مسلمانوں کی حالت ہے کہ ہم محمد رسول اللہ ﷺ کو مانتے ہیں، قرآن کو مانتے ہیں لیکن وہ اپنی نادانی سے سمجھتے ہیں کہ ہم اس راستہ سے ہٹ گئے ہیں حالانکہ وہ خود اس راستہ سے ہٹ چکے ہیں۔اسی طرح ہندو اور عیسائی وغیرہ بھی مخالفت کرتے ہیں پس خواہ اپنے لوگ مخالفت کریں یا غیر کریں، وہ اپنا کام کئے چلا جاتا ہے اور سمجھتا ہے کہ میرے کام اعلیٰ ہیں۔اگر میں اس راستہ سے ہٹ جاؤں گا تو ذلیل ہو جاؤں گا۔زوال امت کا ایک اہم سبب - گذشتہ زمانہ میں مسلمان کمزور ہوئے تو اسی وجہ سے کہ اسلام کے باغ میں جو ثمرات اور پھل لگے ان پھلوں کی انہوں نے حفاظت نہ کی اور وہ گرنے شروع ہو گئے۔انہوں نے اسلام میں حاصل ہونے والی عزت پر دنیوی عزتوں کو ترجیح دینی شروع کر دی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اسلام کی شوکت آہستہ آہستہ مٹ گئی۔اگر وہ سمجھتے کہ یورپین سوسائٹی میں شامل ہو نا یا ان سوسائٹیوں میں کسی عزت کے مقام کا مل جانا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی غلامی کے مقابلہ میں بالکل حقیر اور ذلیل چیز ہے تو وہ ادھر کبھی نہ جاتے۔