مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 702
702 خریداری بڑھاؤ اور کم سے کم اپنے اندر یہ بیداری پیدا کرو کہ اس میں مضمون لکھا کرو۔میں سمجھتا ہوں کہ ہماری جماعت میں پندرہ ہیں ہزار نوجوان ایسا ہو گا جس کی مڈل سے اوپر تعلیم ہوگی اور اس قدر تعلیم رکھنے والے بھی اگر لکھنے کی مشق کریں تو بڑا اچھا لکھ سکتے ہیں بلکہ بعض مڈل پاس تو میٹرک پاس نوجوانوں سے بھی زیادہ کام کرنے والے ہوتے ہیں۔میں جب اسکول میں پڑھتا تھا تو مرزا برکت علی صاحب جو بھائی عبدالرحیم صاحب کے بڑے لڑکے ہیں وہ میٹرک والوں کو پڑھایا کرتے تھے حالانکہ وہ خود مڈل پاس تھے اور افسروں کو تسلی تھی کہ وہ اچھا پڑھاتے ہیں۔پھر اپنی زبان میں تو ہر انسان اپنے مافی الضمیر کا اظہار کر سکتا ہے خواہ اس کی تعلیم ہو یا نہ ہو۔اگر پہلے شاعروں اور مضمون نویسوں کو دیکھا جائے تو ان میں اتنی بھی لیاقت نہیں تھی جتنی ہمارے عام لکھے پڑھے نو جوانوں میں پائی جاتی ہے لیکن شوق اور مشق کی وجہ سے وہ آگے نکل گئے۔اگر ہماری جماعت کے نوجوان بھی مضمون نویسی کی مشق کریں تو آہستہ آہستہ وہ بڑے اچھے مضمون نگار بن سکتے ہیں۔اس کے لئے شروع میں وہ اتنا ہی کریں کہ کوئی چٹکلہ ذہن میں آجائے تو وہی لکھ کر ”خالد “ میں بھیجواد میں اس طرح اور بھی کئی اس بحث سے لطف اندوز ہوں گے۔حضرت خلیفہ اول کے زمانہ میں مولوی غلام رسول صاحب را جیکی کو ایک جگہ بحث کے لئے بلوایا گیا۔وہاں ایک سید خاندان کا فرد احمد کی ہو گیا تھا۔سارا خاندان اس کے پیچھے پڑ گیا کہ اس نے سید ہو کر مرزا کی بیعت کر لی ہے اور انہوں نے کوشش شروع کی کہ وہ کسی طرح مرتد ہو جائے۔آخر بحث کے لئے انہوں نے مولوی بلوایا۔مولوی غلام رسول صاحب را جیکی وہاں گئے تو مولوی نے کہا کہ میں ان سے بحث نہیں کرونگا۔جو شخص مرتد ہو گیا ہے تم اسے میرے سامنے لاؤ۔وہ مجھ سے بات کرے۔اس کے گھر والے ڈرتے تھے کہ لوگ اسے مارے پیٹیں نہ مگر جب اس مولوی نے اصرار کیا تو اس نے گھر والوں سے کہا مجھے جانے دو میں جا کر نپٹ لیتا ہوں۔چنانچہ وہ آیا اور وفات مسیح پر حط شروع ہوئی۔مولوی نے یہ آیت پیش کی کہ با عیسی اني متوفيك ورافعك التى اور پو چھا کہ رفع کے کیا معنے ہوتے ہیں ؟ اس نے کہا۔تے “ کہنے لگا بس فیصلہ ہو گیا اللہ تعالیٰ صاف فرما رہے ہیں کہ مسیح آتے گیا ہے “۔اب وہ نیچے کس طرح ہو سکتا ہے۔لوگوں نے بھی شور مچادیا کہ فیصلہ ہو گیا۔فیصلہ ہو گیا۔یہ آدمی تھا ہو شیار کہنے لگا مولوی صاحب ! یہ بتائیں کہ رافعک کیف کے نیچے کیا ہے ؟ اس نے کہا زیر۔کہنے لگا زیر کے کیا معنے ہوتے ہیں۔مولوی نے کہا زیر کے معنی ”ہیٹھاں“ کے ہوتے ہیں۔کہنے لگا بس یہ زیرا سے اوپر نہیں جانے دیتی۔زیر صاف بتارہی ہے کہ مسیح ہیٹھاں ہی ہے اتے نہیں گیا۔اس پر زمیندار حیران ہو گئے اور کہنے لگے کہ یہ تو علم کی باتیں ہیں جو عالم ہی سمجھ سکتے ہیں۔ہم ان جھگڑوں کا کچھ فیصلہ نہیں کر سکتے۔