مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 693
693 حالانکہ اگر کوئی عمارت بنانی ہی ہے تو پہلے اس کا ایک حصہ بنالیا جائے۔کچھ کچے کمرے بنائے جائیں۔جماعت بڑھتی جائے گی تو چندہ بھی زیادہ آئے گا اور اس سے عمارت آہستہ آہستہ مکمل کی جاسکے گی۔پس اپنے بحث کا ایک حصہ خدمت خلق کے لئے وقف رکھو۔جیسے ہلال احمر اور ریڈ کر اس کی سوسائٹیاں کام کر رہی ہیں۔اگر تم آہستہ آہستہ ایسے فنڈز جمع کرتے رہو تو ہنگامی طور پر یہ رقوم کام آجائیں گی۔مثلا چگال میں سیلاب آیا تو جماعت کی طرف سے نہایت اچھا کام کیا گیا لیکن چونکہ چندہ دیر سے جمع ہوا۔اس لئے کام ابھی تک جاری ہے۔چندہ جب مانگا گیا تھا تو صرف مشرقی پاکستان کا نام لیا گیا تھا' پنجاب کا نام نہیں لیا گیا تا کہ مزید چندہ مانگنے پر جماعت پر مالی بوجھ نہ پڑے۔اگر اس قسم کی رقوم پہلے سے جمع ہو تیں تو جمع شدہ چندہ ہم مشرقی پاکستان پر خرچ کر دیتے اور ان رقوم میں سے ایک حصہ پنجاب میں خرچ کر دیا جاتا۔پس ہر سال بحث میں اس کے لئے بھی کچھ مار جن رکھ لیا جائے اور تھوڑی بہت رقم ضرور الگ رکھی جائے۔وہ رقم ریزور ہو گی جو قحط اور سیلاب وغیرہ مواقع پر صرف کی جائے گی۔تم اس کا کوئی نام رکھ لو۔ہماری غرض صرف یہ ہے کہ اس طرح ہر سال کچھ رقم جمع ہوتی رہے گی جو کسی حادثہ کے پیش آنے یا کسی بڑی آفت کے وقت خدمتِ خلق کے کاموں پر خرچ کی جا سکے۔جاپان میں زلزلے کثرت سے آتے ہیں۔فرض کر دوہاں کوئی ایسا زلزلہ آجائے۔جس قسم کا زلزلہ پچھلے دنوں آیا تھا اور اس کے نتیجہ میں دو تین ہزار آدمی مر گئے تھے تو ایسے مواقع پر اگر خدام الاحمدیہ کی طرف سے گورنمنٹ کے واسطہ سے کچھ رقم وہاں بھیج دی جائے تو خود بخود خدام الاحمدیہ کا نام لوگوں کے سامنے آجائے گا۔اس قسم کی مدد سے بین الا قوامی شہرت حاصل ہو جاتی ہے اور طبائع کے اندر شکریہ کا جذبہ پیدا کر دیتی ہیں۔اگر اس قسم کے مصائب کے وقت کچھ رقم تار کے ذریعہ بطور مدد بھیج دی جائے تو دوسرے دن ملک کے سب اخبارات میں مجلس کا نام چھپ جائے گا۔پچھلے طوفان میں ہی اگر خدام کے مختلف وفود بنائے جاتے اور تنظیم کے ذریعہ سے باہر کی مجالس سے آدمی منگوا لئے جاتے تو زیادہ سے زیادہ آدمی سیلاب زدہ لوگوں کی امداد کے لئے بھیجے جاسکتے تھے۔مثلا سیلاب کا زیادہ زور ملتان، سیالکوٹ اور لاہور کے اضلاع میں تھا۔اگر ان ضلعوں کی مجالس کو منظم کیا جاتا اور باقی مجالس سے مدد کے لئے مزید آدمی آجاتے اور انہیں بھی امدادی کاموں کے لئے مختلف جگہوں پر بھیجا جاتا تو پھر ان کا کام زیادہ نمایاں ہو جاتا۔پھر یہ بھی چاہئے کہ حالات کو دیکھ کر غور کیا جائے کہ کس رنگ میں کام کرنے کی ضرورت ہے۔لاہور میں میں نے دیکھا ہے کہ بعض جگہ چھپر ڈال کر لوگوں کو پناہ دی جاسکتی تھی۔اگر شہر کے ارد گرد تالابوں سے تنکے اور گھاس کاٹ کر لایا جاتا تو اس سے بڑی آسانی سے چھپر بنا کر چھت کا کام لیا جاسکتا تھا۔اس طرح لکڑی کے مہیا کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔اسی طرح اس قسم کے مواقع پر پکے مکانات کی ضرورت نہیں ہوتی۔پھسکے کی عمارت کی ضرورت ہوتی ہے اور لکڑی کی بجائے بانس اور تنکوں کا چھت بنا دیا جاتا