مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 694 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 694

694 ہے۔لاہور میں کئی ایسی جگہیں تھیں جہاں سردی سے بچاؤ کے لئے چھت کی ضرورت تھی۔یہ سب کام آرگنائزیشن سے ہو سکتے تھے۔ہمارے محکمہ خدمت خلق کا یہ کام ہے کہ نہ صرف وہ مجالس کو آرگنا ئز (organize) کرے بلکہ اس قسم کا انتظام کرے کہ اگر کسی جگہ کوئی خرابی پیدا ہو جائے تو کس طرح ساری جماعت کا زور اس طرف ڈالا جا سکے۔آئندہ میرے پاس رپورٹیں آتی رہنی چاہئیں کہ کس طرح خدمت خلق کے کام کو آر گنائز کیا گیا ہے۔یہ بھی ہو سکتا ہے کہ بعض حلقے بنادئیے جائیں اور ان کی آپس میں آرگنائزیشن کر دی جائے جیسے زونل سسٹم ہو تا ہے۔اس طرح صوبہ کے مختلف زون مقرر کر دیئے جائیں۔مثلاً یہ کیا جا سکتا ہے کہ ملتان کے اردگرد سوسو میل کا ایک زون بنا دیا جائے۔اس علاقہ میں آبادی کم ہے اس لئے اس سے بڑا زون بھی بنایا جاسکتا ہے۔پھر ہر زون میں خدمت خلق کا ایک افسر مقرر کیا جائے جو مصیبت آنے پر دوسری مجالس کو تار دیدے کہ فلاں جگہ پر مصیبت آئی ہے امدادی کاموں کے لئے خدام بھیج دیے جائیں۔اسی طرح یا درکھو کہ ہمارا ملک ایسے حالات سے گذر رہا ہے کہ اس میں نہ صرف بڑے بڑے طوفان آسکتے ہیں بلکہ طوفان لائے بھی جا سکتے ہیں۔ہم نچلے علاقہ میں ہیں اور ہندوستان کی حکومت اوپر کے علاقوں پر قابض ہے اور وہ پانی چھوڑ کر طوفان لا سکتی ہے۔پھر لاہور میں امدادی کاموں کے سلسلہ میں جو دقت پیش آئی تھی اس کے متعلق دریافت کرنے پر مجھے بتایا گیا کہ اس موقعہ پر بھٹہ والوں نے بد دیانتی کی۔ان لوگوں نے اس موقع پر اینٹ کو مہنگا کر دیا۔اگر اس قسم کی تحریک کی جاتی کہ جماعتیں مل کر ان کو توجہ دلائیں کہ ایسے مواقع پر آپ لوگوں کا بھی فرض ہے کہ مصیبت زدگان کی امداد کریں تو یقیناوہ کم قیمت پر اینٹ سپلائی کرتے۔میرے نزدیک آئندہ کے لئے ابھی سے لاہور کے بھٹہ والوں سے مل کر انہیں اس بات پر تیار کیا جائے کہ اگر ملک کو آئندہ ایسا حادثہ پیش آیا تو وہ اینٹ کم قیمت پر دیں گے اور دوسرے گاہکوں پر امدادی کاموں پر ترجیح دیں گے۔بے شک اس میں دقت پیش آئے گی اور پہلے ایک آدمی بھی مشکل سے مانے گا لیکن آہستہ آہستہ کئی لوگ مان لیں گے اور پھر جو لوگ آپ کی بات مان لیں۔ان کے نام محفوظ رکھ لئے جائیں۔اس طرح اس کام کو منظم کیا جائے۔میں نے اس دفعہ ایک شعبہ کو منسوخ کر دیا ہے اور وہ ایثار و استقلال کا شعبہ ہے کیونکہ میری سمجھ میں نہیں آیا کہ تربیت و اصلاح کے علاوہ ایثار و استقلال کا الگ شعبہ کس غرض کے لئے ہے۔جب تک اسکے متعلق کوئی نئی سکیم پیش نہ کی جائے میں اسے بحال نہیں کر سکتا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس عہدہ کو میں نے ہی قائم کیا تھا لیکن اب مجھے یاد نہیں رہا کہ اسے کس غرض سے قائم کیا گیا تھا۔پس جب تک مجھے یہ نہ بتایا جائے کہ تربیت واصلاح کے علاوہ ایثار و استقلال نے کیا کام کرنا ہے، یہ شعبہ تربیت واصلاح میں مدغم رہے گا۔ہاں اگر