مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 692
692 تم دیکھتے ہو کہ خوردبین سے بھی کوئی انصار اللہ کا ممبر نظر نہیں آتا۔پس ناصر احمد کو میں انصار اللہ کا صدر مقرر کرتا ہوں۔وہ فوراً انصار اللہ کا اجلاس طلب کریں اور عہدیداروں کا انتخاب کر کے میرے سامنے پیش کریں۔( تین ماہ کے عرصہ میں خدام سے انصار اللہ میں جا کر ناصر احمد نے بھی کوئی کام نہیں کیا۔معلوم ہوتا ہے وہاں کی ہوا لگ گئی ہے ) اور پھر میرا مشورہ لے کر انہیں از سر نو منظم کریں۔پھر خدام الاحمدیہ کے سالانہ اجتماع کی طرح انصار اللہ کا بھی سالانہ اجتماع کیا کریں لیکن ان کا انتظام اور قسم کا ہو گا۔اس جتماع میں کھیلوں پر زیادہ زور دیا جاتا ہے۔کبڈی اور دوسری کھیلیں ہوتی ہیں۔انصار اللہ کے اجتماع میں درس القرآن کی طرف زیادہ توجہ دی جائے اور زیادہ وقت تعلیم و تدریس پر صرف کیا جائے۔خدام الاحمدیہ کی تنظیم اب روز بروز بڑھ رہی ہے اس لئے ان کے کاموں میں پہلے سے زیادہ چستی پیدا ہونی چاہئے۔پچھلے دنوں لاہور والوں نے جو کام کیا ہے، وہ نہایت قیمتی تھا لیکن اگر لاہور کی مجلس زیادہ منظم ہوتی تو یقینا ان کا کام زیادہ مفید ہو سکتا تھا اور اگر لاہور والوں کو منتظم ہونے کا احساس ہو تا تو اسکا قاعدہ یہ تھا کہ لاہور والے مرکز کو لکھتے کہ وہ اپنا ایک نمائندہ یہاں بھیج دیں۔پھر وہ نمائندہ دوسری مجالس کو تارمیں دیتا کہ تم لوگ یہاں آکر کام کرو۔اس طرح لاہور میں خدمت خلق کا کام وسیع ہو سکتا تھا۔جب میں نے ربوہ سے معمار بھجوائے تو لاہور میں اتنا کام نہیں ہو سکا جس کی ہمیں امید تھی اور اس کی زیادہ وجہ یہی تھی کہ سامان بہت کم تھا۔معماروں کو وقت پر سامان میسر نہیں آیا۔اگر لاہو روالے اس کے متعلق پہلے غور کر لیتے اور ہمیں سامان کا اندازہ لگا کر بھیج دیتے تو یہاں سے معمار کام کا اندازہ کر کے بھیجے جاتے۔اب انہوں نے خدمت بھی کی لیکن کام زیادہ نہیں ہوا۔اگر سامان کم تھا تو ہم کچھ معمار اس وقت بھیج دیتے اور باقی معماروں سے کسی اور موقعہ پر کام لے لیتے۔انسان آنریری خدمت ہر وقت نہیں کر سکتا۔آخر اس نے اپنا اور بیوی بچوں کا پیٹ بھی پالنا ہوتا ہے۔بہر حال اس قسم کے تمام کام اسی وقت عمدگی سے سر انجام دیئے جا سکتے ہیں جب مجالس ایک دوسرے سے تعاون کریں۔سیلاب کے دنوں میں باقی مجالس نے بھی کام کیا ہے لیکن لاہور کی جماعت نے جس قسم کا کام کیا ہے اس سے انہیں ایک خاص معیار حاصل ہو گیا ہے۔موجودہ قائد خدام الاحمدیہ کے اندر وقت کا احساس ہے۔میں جب لاہور گیا اور میں نے ربوہ کے معماروں کے بنائے ہوئے مکانوں کو خود دیکھا تو ایک جگہ پر ایک کمرہ تعمیر کرنے کے لئے میں نے انہیں اندازہ بھیجوانے کی ہدایت کی۔غور کرنے والے تو شاید اس پر کئی دن لگا دیتے لیکن انہوں نے اندازہ گھنٹوں میں پہنچا دیا اور پھر اس کی تفصیل بھی ساتھ آئی۔پس تم خدمت خلق کے کام کو نمایاں کرو اور اپنے بجٹ کو ایسے طور پر بناؤ کہ وقت آنے پر کچھ حصہ اس کا خدمت خلق کے کاموں میں صرف کیا جا سکے۔قادیان میں یہ ہوتا تھا کہ زیادہ زور عمارتوں پر رہتا تھا