مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 659
659 ہو گئے۔اس پر ادارے نے لکھا کہ اسکے بغیر ہمارا کام نہیں چل سکتا، اسے تبدیل نہ کیا جائے۔اعلیٰ افسروں نے لکھا کہ یہ عجیب بات ہے کہ اس کا ایک افسر تو کہتا ہے کہ یہ نا اہل ہے، اسے ملازمت سے بر طرف کر دیا جائے اور دوسرا افسر کہہ رہا ہے کہ اس نے آگر ہمارا کام سنبھالا ہے۔بہر حال چونکہ ہم نے فیصلہ کرنا ہے کہ یہ شخص اہل ہے یا نا اہل اس لئے اس کی تبدیلی کے احکام رک نہیں سکتے چنانچہ اسے وہاں سے تبدیل کر دیا گیا اور کچھ عرصہ کے بعد اس تیرے افسر سے اس کے متعلق رپورٹ طلب کی گئی۔اس نے لکھا کہ میں نے اپنی پاکستان کی پانچ سالہ سروس میں اس قابلیت اور ذہانت کا آدمی نہیں دیکھا۔چنانچہ اعلیٰ افسروں نے پہلے افسر کے ریمارک بدلے اور کہا کہ یہ شخص ترقی دیے جانے کے قابل ہے۔غرض یہ بالکل غلط ہے کہ احمدیوں کو رعایتی طور پر عہدے دئیے جاتے ہیں لیکن اگر تمہیں کسی نے اہل سمجھ کر بھرتی کر لیا ہے اور وہ بھرتی کرنے والا احمد کی ہے یا غیر احمدی اور اس پر الزام لگ رہا ہو کہ اس نے تمہاری نا جائز حمایت کی ہے تو کیا تم میں اتنی غیرت بھی نہیں کہ اس نے تم پر جو احسان کیا ہے تم اس کا بدلہ اتار واور اس کی عزت کو بچاؤ اس کا صرف ایک ہی ذریعہ ہے اور وہ یہ کہ تم ملک اور قوم کی اتنی خدمت کرو اتنی قربانی اور ابیار کرو کہ ہر ایک شخص یہی کہے کہ تم سے کوئی رعایت نہیں کی گئی بلکہ سفارش کرنے والے نے تمہاری سفارش کر کے اپنی دانائی کا ثبوت دیا ہے کیونکہ اس نے اس شخص کو چنا ہے جس کے سوا اور کوئی مستحق ہی نہیں تھا۔پھر میں کہوں گا کہ اگر تم خدمت خلق کرتے ہو تو تمہیں اس کے مفید طریق اختیار کرنے چاہئیں۔میں نے کراچی کی رپورٹ سنی ہے وہ نہایت معقول رپورٹ تھی۔میرے نزدیک وہ رپورت تمام مجالس تک پہنچانی چاہئے تاکہ وہ اس سے سبق حاصل کریں۔یہاں رپورٹوں میں عام طور پر یہ درج ہوتا ہے کہ اتنے لوگوں کو رستہ بنایا گیا حالانکہ یہ نہایت ادنی اور معمولی نیکی ہے اور ایسی ہی بات ہے جیسے کہتے ہیں کہ کسی نے اپنی ماں کو پنکھا جھالنے پر ایک ریچھ کو مقرر کیا۔اس کی ماں مار تھی۔مریضہ پر ایک مکھی بیٹھ گئی۔ریچھ نے ایک پتھر اٹھا کر اس مکھی پر دے مارا جس سے وہ مکھی تو شاید نہ مری لیکن اس کی ماں مرگئی۔یہ کوئی خدمت نہیں جسے بڑے فخر کے ساتھ خدمت خلق کا کام قرار دیا جاتا ہے۔تم وہ کام کرو جو ٹھوس اور نتیجہ خیز ہو اور اس کے لئے خدام الاحمدیہ کراچی کی رپورٹ بہترین رپورٹ ہے جو تمام مجالس میں پھیلانی چاہئے تا انہیں معلوم ہو کہ انہوں نے کس طرح خدمت خلق کا فریضہ سر انجام دیا۔میں تمہیں اس کا چھوٹا سا طریق بتاتا ہوں۔اگر تم میں جوش پایا جاتا ہے کہ تم ملک اور قوم کے مفید وجود بنو تو تم اس پر عمل کرو۔اس وقت جو خدام حاضہ ہیں ان میں سے جو لوگ تجارت کا کام کرتے ہیں وہ کھڑے ہو جائیں ( حضور کے اس ارشاد پر چالیس خدام کھڑے ہوئے) پھر فرمایا جو خدام صنعت و حرفت کا کام کرتے ہیں۔وہ کھڑے ہو جائیں ( حضور۔کترے ہوئے ) اس کے بعد حضور نے فرمایا