مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 660 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 660

660 وہ ذریعہ جو میں تمہیں بتانا چاہتا ہوں یہ ہے کہ تم ارادہ اور عزم کر لو کہ تم میں سے ہر ایک نے اس سال کسی ایک شخص کو تجارت پر لگانا ہے، چاہے وہ تمہارے رشتہ داروں میں سے ہو یا کوئی غیر ہو۔اسی طرح ہر صناع یہ عہد کرے کہ اس نے اس سال کسی نہ کسی شخص کو اپنا کام سکھانا ہے- ایک سال میں وہ شخص ماہر کاریگر تو نہیں بن سکتا۔اگر وہ کام میں لگ جائے گا تو اگلے سال مہارت حاصل کر لے گا۔لوہار کسی ایک شخص کو لوہار کا کام سکھا دے۔معمار کسی ایک شخص کو معماری کا کام سکھلا دے۔ترکھان کسی ایک شخص کو تر کھانے کا کام سکھادے۔وچی کسی ایک شخص کو موچی کا کام سکھا دے اسی طرح دوسرے لوگ اپنے اپنے فن ایک ایک شخص کو سکھادیں۔مرکزی ادارہ کو چاہئے کہ وہ ان خدام کے نام لے۔اگلے سال ان سے پوچھا جائے گا کہ انہوں نے اس ہدایت پر کس حد تک عمل کیا ہے۔اگر تم اس کام کو شروع کر دو تو دو چار (سال) میں تم دیکھو گے کہ اس طریق پر عمل کر کے تم مذہب ملک اور قوم کے لئے نہایت مفید ثابت ہو سکو گے۔مگر یاد رکھو تم یہ سوچنے میں نہ لگ جانا کہ جس کو کام پر لگایا جائے وہ تمہارا رشتہ دار ہی ہو۔چاہے وہ غیر ہی ہو تم نے بہر حال اسے کام سکھانا ہے۔دوسرے یہ بھی یا رکھو کہ بعد میں کسی صلہ کی امید نہ رکھنا۔احسان کرنے کے بعد اس کے صلہ کی امید رکھنا قرآن کریم کی تعلیم کے خلاف ہے۔قرآن کریم کہتا ہے کہ تم احسان کر کے بدلہ کی امید نہ رکھو تمہارا ایسی امید کرنا تمہارے اس کام کو باطل کر دے گا۔تم یہ نیت کر کے کام سکھاؤ کہ تم اس کے بدلہ کی کسی انسان سے خواہش نہیں رکھتے۔" فرموده ۱۲۴ اکتوبر ۱۹۵۳ء الفضل ۱۸ اکتوبر ۱۹۶۱ء)