مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 655 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 655

655 ہے کہ سوزش یا خرابی زہریلی طرف جارہی ہے یا شفا کی طرف جارہی ہے۔غرض اعداد و شمار نہایت ہی اہم چیز ہیں جس کی طرف خدام الاحمدیہ نے کبھی توجہ نہیں کی اور مجھے ہر سال ہی اسے تنبیہ کرنی پڑتی ہے حالانکہ ان کے پاس ہر سال کا نہیں ایک ایک دن کا بلائحہ ہر صبح و شام کے اعداد و شمار کا ریکارڈ ہونا چاہئے کیونکہ اعداد و شمار ہی تفصیلی نمپر یچر ہیں کسی قوم یا جماعت کی صحت و تندرستی کا۔اس کے بغیر کسی قوم کی مرض یا صحت کا اندازہ نہیں لگایا جاسکتا۔میں نے خدام الاحمدیہ کو پہلے بھی کئی بار اس طرف توجہ دلائی ہے اور اب پھر توجہ دلاتا ہوں کہ اس اجتماع کا مقصد خالی کھیل کو د نہیں بلکہ اس کی غرض نوجوانوں کے اندروہ قربانی اور اخلاص پیدا کرنا ہے جس کے ساتھ وہ اپنے فرض کو صحیح طور پر ادا کر سکیں۔مجھے نہایت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ خدام الاحمدیہ نے ابھی تک اپنے فرض کو صحیح طور پر ادا نہیں کیا بلکہ میں نے دیکھا ہے کہ بعض جگہوں پر نوجوانوں کی اس الگ تنظیم کی وجہ سے ان میں اعتراض کرنے کی عادت پیدا ہو گئی ہے۔آج ہی ایک خادم مجھے ملنے آئے تو وہ کہنے لگے ہماری جماعت میں یہ یہ خرابی ہے - وہ ایک ایسے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں جس نے ایک وقت میں سلسلہ کی اعلیٰ خدمت کی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ اگر ان کی روایات اعلیٰ تھیں تو انہوں نے اپنے آپ کو کیوں اس رنگ میں منظم نہ کیا کہ جماعت انہیں آگے لے آتی اور جب لوگ امیر بناتے تو انہی میں سے کسی کو بناتے۔اگر جماعت کے لوگوں نے ان میں سے کسی کو امیر نہیں بنایا تو اس کے کی معنے ہیں کہ اب ان کے سلسلہ کے ساتھ پہلے کی طرح اچھے تعلقات نہیں ورنہ جماعت کے لوگوں کو ان سے کوئی دشمنی تھی کہ وہ انہیں نظر انداز کر دے۔اگر مقامی جماعت نے انہیں آگے نہیں آنے دیا تو ان میں کوئی خرابی ضرور تھی۔خالی شکایات کرنے سے کوئی نتیجہ نہیں نکلتا۔اس کے تو یہ معنے ہیں کہ کام کرنے والوں کو بنا دیا جائے اور محموں کو آگے لایا جائے اور جماعت کو آوارہ چھوڑ دیا جائے۔یہ بات قطعی طور پر غلط ہے۔ابھی تھوڑے ہی دن ہوئے۔ایک غیر ملک سے مجھے شکایت آئی کہ جماعت فلاں شخص سے کام لے رہی ہے حالانکہ وہ منافق ہے۔میں نے اسے جواب میں یہی لکھا کہ آپ کے نزدیک جماعت کا کچھ حصہ تو منافق ہے اور کچھ حصہ جماعت میں شامل تو ہے لیکن کام سے غافل ہے اور جماعت کی کوئی خدمت نہیں کرنا چاہتا۔آپ کے نزدیک جو لوگ غافل ہیں اور جماعت کی کوئی خدمت نہیں کرنا چاہتے وہ تو مومن ہیں اور جو خدمت کر رہے ہیں وہ منافق ہیں۔اب ظاہر ہے کہ سلسلہ ان لوگوں سے کام نہیں لے سکتا جو کام نہیں کرتے۔اس لئے اب سوائے اس کے اور کیا چارہ ہے کہ وہ ان لوگوں سے کام لے جو کام کرنا چاہتے ہیں۔آپ لوگ تو سلسلہ سے بے غرض ہوئے۔وہ آپ سے کام کیسے لے۔اگر کسی نے کام کرنا ہے تو اسے انگلی بلانی پڑے گی۔بغیر انگلی بلانے کے کوئی کام نہیں ہو سکتا۔بہر حال ہم اس سے کام کرنے کے لئے کہیں گے جو کام کرے اللہ تعالیٰ کراچی کی جماعت کو ہر نظر بد سے بچائے۔انہوں نے فسادات کے ایام میں نہایت اعلیٰ درجہ کا نمونہ دکھایا۔ایسی قابلیت کا مظاہرہ کیا کہ وہ نائب مرکز بن گئے۔یہی وجہ تھی کہ تیں