مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 627 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 627

627 لئے چلا ئیں لیکن بجلی کے پنکھے انہوں نے کلرکوں کے کمروں میں بھی لگا دیئے حالانکہ پٹھانوں مغلوں اور دوسرے راجوں مہاراجوں کے زمانہ میں یہاں بجلیاں نہیں تھیں۔وہ انہی ملکوں میں رہتے تھے۔یہاں گرمی پڑتی تھی اور وہ لوگ اس میں رہنے کی مشق کرتے تھے اس وجہ سے انہیں گرمی محسوس نہیں ہوتی تھی۔آہستہ آہستہ جب ہم اپنے ملک کے حالات کو سدھاریں گے یا ہمار ا ملک سدھر جائے گا تو یہ دونوں باتیں ممکنات میں سے ہو جائیں گی یا تو انگریزوں کے جانے کے بعد لوگ آرام و آسائش کے خیال کو چھوڑ دیں گے اور وہ افریقہ اور عرب جیسے ٹیپیکل کنٹریز (Typical Countreis) کی طرح گرمی اپنا لیں گے اور اسے برداشت کرنے کی مشق کریں گے اور یا سائنس میں ترقی کر کے ملک کے حالات کو اپنے مطابق بنالیں گے جیسے یورپ نے ترقی کر کے کمروں کو گرم کرنے کا طریق نکال لیا ہے اور ایسی ایجادیں کرلی ہیں جن سے ان کی زندگی آرام اور آسائش والی ہو گئی ہے۔اسی طرح ہمارے ملک کے لوگ ترقی کر کے ایسی ایجادیں کرلیں گے جن سے فضا ٹھنڈی ہو جائے گی اور تمام لوگ اس ملک میں اس طرح رہیں گے جس طرح وہ ایک درمیانی گرمی والے ملک میں رہتے ہیں۔جس طرح لوگ پہاڑوں پر رہتے ہیں غرض جب ملک ترقی کرے گا تو ہمارے ملک کے لوگ اپنے حالات کو گرمی کے مطابق بنالیں گے یا ہمارے عالم اور سائنسدان گرمی کو ہمارے حالات کے مطابق بنا دیں گے۔بہر حال کچھ نہ کچھ ضرور ہو گا کیونکہ جب کوئی قوم ترقی کرتی ہے تو وہ ماحول کو اپنے مطابق بنالیا کرتی ہے لیکن جب تک یہ زمانہ نہیں آتا ہمیں یہ احتیاط کرنی چاہئے کہ ہم اپنے اجتماع کو ٹھنڈے موسم میں کریں۔ہمارے ملک میں بد قسمتی سے یہ خیال پیدا ہو گیا ہے کہ جو چیز انگریز نے پیدا کی ہے وہ تم نہ کرو اور یہ انگریزوں سے نفرت اور ان کی بد سلوکیوں کی وجہ سے ہے۔انگریز اپنے ایک خاص دن کی یاد میں دسمبر کے مہینہ میں سات آٹھ دن کی چھٹیاں دیا کرتا تھا۔۔اب ہندوستان اور پاکستان دونوں ممالک نے وہ چھٹیاں منسوخ کردی ہیں حالانکہ ہر قوم کو اجتماع کی کوئی نہ کوئی صورت پیدا کرنی چاہئے اور اس کے لئے بہترین دن سردی کے ہیں۔محرم نے چکر کھانا ہے ، اس سال اکتوبر میں آیا ہے تو دوسرے سال اس کے کچھ دن ستمبر میں آجائیں گے۔تیسرے سال محرم ستمبر کے درمیان آجائے گا چوتھے سال ستمبر کے شروع میں آجائے گا اور پانچویں سال اس کے کچھ دن اگست میں آجائیں گے اس طرح سولہ سترہ سال برابر بدلتا جائے گا گویا سترہ سال تک ہماری قوم کو ایسے معتد بہ دن نہیں ملیں گے جن میں لوگ اجتماع کر سکیں یا وہ مل کر باتیں کر سکیں۔انگریز کے زمانہ میں ہماری ساری ضروریات دسمبر کے مہینہ میں پوری ہو جاتی تھیں خواہ نام اس کا کر سمس رکھ لیں لیکن بہر حال وہ دن ایسے تھے کہ ہمارے اجتماع آرام سے گذر جاتے تھے۔اب اگر انگریز چلے گئے ہیں تو ان دنوں کا نام کرسمس نہ رکھو، نیشنل ہالیڈیز (National Holidays) رکھ لو تا قوم مو اجتماع وغیرہ کا موقعہ مل سکے۔انگریزوں نے اپنے رواج کے مطابق سال میں بعض دن ایسے رکھ لئے تھے جن میں وہ اکٹھے ہوتے تھے اور باتیں کرتے تھے۔ان کے جانے کے بعد اب کوئی بھی قومی تہوار کے دن نہیں جن میں اجتماع و غیرہ د سکے۔یورپ میں کرسمس اور ایسٹر کے نام سے سال میں بعض چھٹیاں آجاتی ہیں۔اسی طرح سال میں اور دن ہو