مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 626
626 اپنے چندہ کو منظم کرو اور ہر جگہ خدام کی مجالس قائم کرو خدام الاحمدیہ کے سالانہ اجتماع منعقدہ اکتوبر ۱۹۵۱ء میں ۱۳ اکتوبر رات کے سوا سات بجے سید نا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے ایک مختصری تقریر فرمائی تھی جو درج ذیل ہے۔(مرتب) چونکہ اس سال گرمی زیادہ پڑی ہے اور میری طبیعت کمزوری کی وجہ سے گرمی برداشت نہیں کر سکتی اس لئے میں خدام الاحمدیہ کے اجتماع میں گزشتہ سال جتنا حصہ نہیں لے بہ کا اس لئے میں نے چاہا کہ رات کے وقت ایک مختصری تقریر کر دوں تا آخری تقریر کو ساتھ ملا کر تین تقاریر ہو جائیں۔در حقیقت یہ وقت علمی مقابلوں کا ہے اور میں نے پروگرام پر غور کر کے سمجھا کر میں اس وقت میں سے کچھ وقت تقریر کے لئے لے سکتا ہوں کیونکہ علم کے ساتھ تربیت اور ہدایات کا تعلق ہے اس لئے علمی مقابلوں کے وقت سے تقریر کے لئے کچھ وقت بچانا درست ہو سکتا ہے چنانچہ میں کہلا بھیجا ر ہیں سات بجے آؤں گا اور تقریر بھی کروں گا۔میرے نزدیک کل جو شورٹی ہونے والی ہے ، اس میں اس امر پر بھی غور کر لیا جائے کہ آئندہ سالانہ اجتماع کن دنوں میں ہوا کرے۔کل جب میں تقریر کر رہا تھا تو میں نے دیکھا کہ تین چار نوجوان بے ہوش ہو گئے اور انہیں اس جگہ پہنچایا گیا جہاں طبی امداد کا انتظام ہے۔اس کی وجہ یہ تھی کہ اس سال اتنی گرمی پڑ رہی ہے کہ اس میں کھڑا ہونا مشکل ہوتا ہے اور ہر نوجوان اس کی برداشت نہیں کر سکتا۔حقیقت تو یہ ہے کہ جو قومیں اپنے وطن اور اس کے حالات کو یا د رکھتی ہیں وہ اپنے آپ کو اس کے مطابق بنانے کی کوشش کرتی ہیں لیکن بد قسمتی سے ہم گرم ملک والے ٹھنڈے ملک والے حاکموں کے ماتحت ایک لمبا عرصہ گزار چکے ہیں اور ان کو آسائش اور آرام کے لئے جو سامان کرتے ہم نے دیکھا اور اس میں بعض فوائد ہمیں نظر آئے ، ہم نے ان کی نقل شروع کر دی۔اب ہم واقعات سے اتنے مجبور ہو گئے ہیں کہ خواہ ان سے بچنے کی کتنی کوشش کریں ، ان سے بچ نہیں سکتے ورنہ عرب اور افریقہ کے لوگ جن کے ملک میں اتنی گرمی پڑتی ہے کہ ہمارے ملک کی گرمی اس کے مقابلہ میں کچھ بھی نہیں وہ دھوپ میں بہت اچھی طرح چلتے پھرتے ہیں اور گرمی کا انہیں احساس بھی نہیں ہوتا۔اس کی وجہ یہی ہے کہ انہوں نے اپنے ملک کے حالات کو دیکھا ہے وہ سمجھتے ہیں کہ جب انہوں نے عرب اور افریقہ جیسے گرم ممالک میں بودوباش اختیار کی ہے تو انہوں نے اپنی روزی بھی وہیں سے تلاش کرنی ہے۔اس لئے انہوں نے بچپن سے ہی ایسی عادات پیدا کر لی ہیں کہ وہ گرمی برداشت کر لیتے ہیں لیکن ہمارے ملک کے لوگوں نے ملکی حالات کے مطابق اپنے حالات نہیں بنائے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے ملک پر جو لوگ حاکم تھے انہوں نے جب اپنے آرام کے لئے پنکھوں کا انتظام کیا تو یہ خیال کیا کہ اگر انہوں نے اپنے ماتحت کلرکوں کے لئے ایسا انتظام نہ کیا اور ان کے کمروں میں بجلی کے پنکھے نہ لگوائے تو کام پوری طرح نہیں ہو گا۔اس لئے اگر چہ انہوں نے بجلیاں اپنے کام کے