مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 622 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 622

622 اس کے بعد دوسرا روزہ رکھتا ہے۔پھر تیسرا روزہ رکھتا ہے۔جب وہ ایک دن روزہ رکھتا ہے اور اس کی شام قریب آتی ہے تو وہ دوسرے روزے کی نیت کرتا ہے اور جب دوسرے روزے کی شام قریب آتی ہے تو وہ تیسرے روزے کی نیت کرتا ہے اور جب تیسرے روزے کی شام قریب آتی ہے تو وہ چوتھا روزہ رکھتا ہے یا وہ ارادہ رکھتا ہے کہ کوئی دوسری نیکی کروں۔مثلا صدقہ دوں اور جب وہ صدقہ کرتا ہے تو کسی اور نیکی کی نیت کرلیتا ہے۔اس طرح اس کی نیت عمل پر سبقت لے جاتی ہے۔غرض انسان کا ارتقائی پروگرام ہونا چاہئے جو اونچے سے اونچا ہو تا چلا جائے۔خدا تعالی کی قدرت دیکھو کہ پہلے ایک چھوٹا پہاڑ ہوتا ہے پھر اس سے بڑا پہاڑ ہوتا ہے پھر اس سے بڑا پہاڑ ہوتا ہے اور آہستہ آہستہ انسان اس کی چوٹی پر چلا جاتا ہے۔تم کبھی یہ نہیں دیکھو گے کہ انسان ایک ہی دفعہ کسی پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ جائے۔یہی وہ انسان سے امید رکھتا ہے کہ جب وہ ایک نیکی کرے تو پھر اس سے بڑی نیکی کرے پھر اس سے بڑی نیکی کرے اور کامیاب وہی انسان ہوتا ہے جو ایک جگہ پر ساکن نہ ہو جائے بلکہ جب وہ ایک مقصد کو حاصل کرے تو اس سے بڑے مقصد کے حصول کے لئے کوشش کرنے لگ جائے۔وہ ایک چھوٹی نیکی کر کے ٹھر نہیں جاتا بلکہ وہ ہر روز ایک نیا پروگرام تیار کرتا ہے اور کوشش کرتا ہے کہ پہلے سے آگے نکل جاؤں اور جب کوئی انسان اس قسم کا پروگرام تیار کرتا ہے تو یقینا اس کا فکر ترقی کرتا ہے، اس کا عمل وسیع ہوتا ہے اور ہر کامیابی پر اس کا حوصلہ بھی وسیع ہوتا ہے۔اس وقت میں ان چار نصائح پر تقریر ختم کرتا ہوں۔نصائح تو اور بھی ہیں لیکن بہر حال میں نے اپنی تقریر ختم کرنی ہے۔چاہئے کہ تم یہ چاروں باتیں ہمیشہ اپنے مد نظر رکھو۔میں نے یہ نہیں کہا کہ تم سچ بولو بلکہ میں نے کہا ہے کہ تم ایسے دوست بناؤ جو ہمیشہ سچ بولیں۔میں نے کہا ہے کہ تم محنت کی عادت ڈالو۔اپنے اندر قربانی اور ایثار کا مادہ پیدا کرو۔اپنے مصلح نظر کو اونچار کھو یہاں تک کہ مطمح نظر ہمیشہ بلند سے بلند تر ہو تا چلا جائے۔" فرموده ۱۲ فروری ۱۹۵۱ء مطبوعه الفضل ۲۷-۲۸۔۲۹ اپریل ۱۹۶۱ء)