مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 596
596 سے انسانی صحت اچھی رہتی ہے۔پس میں خدام الاحمدیہ کو ہدایت کرتا ہوں کہ وہ مہینہ میں ایک دفعہ اس کا امتحان لیا کریں جس کا طریق یہ ہے کہ ایک دوسرے کے ناک کے پاس آکر اپنا سانس چھوڑو تاکہ دوسرا بتائے کہ تمہارے تنفس سے بو آتی ہے یا نہیں۔گھریلو تعلقات پر اس چیز کا بڑا اثر ہوتا ہے۔قریب بدبو کاروحانی اور سماجی تعلقات پر تباہ کن اثر ترین تعلق میاں بیوی کا ہوتا ہے۔ان کے آپس میں کئی دفعہ جھگڑے ہوتے رہتے ہیں اور بالکل ممکن ہے کہ وہ اپنی ذات میں یہ سمجھتے ہوں کہ ان جھگڑوں کی فلاں فلاں وجوہ ہیں لیکن در حقیقت اس کی وجہ یہ ہو کہ مرد کے لئے عورت کے منہ کی بد بو نا قابل برداشت ہو۔وہ اس بات کو ظاہر نہیں کرے گا لیکن آہستہ آہستہ اس کے دل میں یہ خیالات پیدا ہونے شروع ہو جائیں گے کہ اگر میں اپنی بیوی کو چھوڑ دوں اور کسی اور سے شادی کرلوں تو اچھا ہے۔پس یہ ایک نہایت ہی اہم چیز ہے مگر اس کی طرف بہت کم توجہ کی جاتی ہے حالانکہ یہ زندگی کے اہم ترین امور میں سے ہے۔صحت کا اس سے تعلق ہے۔سوشل تعلقات پر اس کا اثر پڑتا ہے اور مذہب نے بھی اس کی اہمیت کی طرف توجہ دلائی ہے۔چنانچہ رسول کریم میایی نے اس پر اتنا زور دیا ہے کہ آپ فرماتے ہیں اگر کوئی شخص پیاز کھا کر مسجد میں آجاتا ہے یا لہسن کھا کر مسجد میں آجاتا ہے تو فرشتے اس کے پاس نہیں آتے۔اب فرشتے تو ہر جگہ ہیں۔پاخانہ میں انسان جاتا ہے تو اس وقت بھی فرشتے ساتھ ہوتے ہیں۔لہسن کے کھیت میں بھی فرشتے ہوتے ہیں۔پیاز کے کھیت میں بھی فرشتے ہوتے ہیں۔پھر اس حدیث کے معنے کیا ہوئے؟ در حقیقت اس جگہ فرشتہ سے مراد آسمان کا فرشتہ نہیں۔وہ تو پاخانہ میں جاتا ہے۔لہسن کے کھیت میں بھی جاتا ہے۔پیاز کے کھیت میں بھی جاتا ہے۔اس جگہ فرشتے سے شریف الطبع اور نازک مزاج انسان مراد ہیں جن کے لئے بو نا قابل برداشت ہوتی ہے اور جو اس سے دور بھاگتے ہیں۔اسی لئے رسول کریم می ان کی دیوی نے اس بات پر زور دیا ہے کہ مجالس میں آؤ تو عطر و غیرہ لگا کر آؤ تاکہ لوگوں کے اجتماع کی وجہ سے بو پیدا نہ الله صلی علی فرموده ۲۳ اکتوبر ۱۹۵۰ء مطبوعه الفضل یکم اگست ۱۹۶۲ء)