مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 595
595 ہو جائیں۔(اس پر ستر فی صد خدام کھڑے ہوئے) حضور نے فرمایا کو شش کرو کہ یہ ستر فی صد سوفی صد بن جائے۔گو اس تعداد کو دیکھ کر یہ پتہ نہیں لگتا کہ یہ ستر فی صد کتنا تیرنا جانتے ہیں۔ممکن ہے پانچ پانچ ہاتھ تیر کر ہی یہ سترفی صدی ختم ہو جائیں۔۔غرض لمبے تیرنے کی بھی مشق کرنی چاہئے۔" ایک اور بات جس کی طرف میں نے پہلے بھی کئی دفعہ توجہ ہنر سیکھنے کی طرف متوجہ ہونے کی ہدایت دلاتی ہے مگر اب تک توجہ نہیں کی گئی یہ ہے کہ ہر خادم کو کوئی نہ کوئی ہنر آنا چاہئے۔پڑھنا لکھنا غیر طبعی چیز ہے اور ہنر ایک طبعی چیز ہے جو ہر جگہ کام آسکتی ہے۔مثلاً معماری ہے۔لوہاری ہے۔نجاری ہے یا اسی قسم کے اور پیشے ہیں۔پیشہ ور ہر جگہ اپنے گزارے کی صورت پیدا کر لیتا ہے اور لوگ اسے قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔آپ کو اگر اچھی عربی آتی ہے اور آپ افغانستان چلے جائیں تو آپ کی کوئی قیمت نہیں لیکن اگر آپ لوہارا کا یا نجار کا کام جانتے ہیں یا آپ درزی ہیں یا آپ جو تا بنانا جانتے ہیں تو آپ کی بڑی قیمت ہے۔اسی طرح آپ کو اچھی انگریزی آتی ہے اور آپ آزاد علاقے میں چلے جائیں تو آپ کی کوئی قیمت نہیں لیکن آپ لوہار کا کام جانتے ہیں یا اچھے بڑھتی ہیں تو وہ آپ کو سر پر اٹھا لیں گے۔یہی حال جرمنی اور فرانس وغیرہ کا ہے۔وہاں بھی محض علم کی کوئی قیمت نہیں لیکن اگر آپ کو کوئی پیشہ آتا ہے تو آپ کی بڑی قیمت ہے۔اسی طرح آپ وحشی قبائل میں چلے جائیں تو وہاں بھی پیشے کی بڑی قدر ہوتی ہے لیکن فلسفہ کسی کام نہیں آسکتا۔میں نے کہا تھا کہ ایسی جماعتیں جن کو ہر وقت خطرات درپیش ہوں ان کو اس بات کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے کہ وہ مختلف قسم کے پیشے اور ہنر سیکھیں۔مگر مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ خدام نے اس طرف بھی توجہ نہیں کی۔سب سے زیادہ ملزم اس بارہ میں مرکزی عہدیدار ہیں۔میں نے تو ایک صنعتی سکول بھی کھولا تھا اور چاہا تھا کہ جماعت کے نوجوان مختلف قسم کے پیشے اور ہنر سیکھ کر باعزت طور پر اپنی زندگی بسر کرنے کے قابل ہو سکیں مگر اس کی طرف بھی توجہ نہ کی گئی اور وہ مدرسہ بند کرنا پڑا۔بہر حال جماعت کے نوجوانوں کو کسی نہ کسی پیشہ کے سیکھنے کی طرف ضرور توجہ کرنی چاہئے مختلف قسم کے پیشے اور ہنر جاننا غیر ملکوں میں جانے کے لئے بڑی سہولت پیدا کرنے والی چیز ہے اور ان کے ذریعہ وہاں آسانی سے روزی کمائی جا سکتی ہے۔اس کے علاوہ ہماری جماعت کی ترقی میں بھی ان پیشوں کا بہت حد تک دخل ہے۔" ایک تو نوجوانوں کو تعلیمی ڈگریوں کی طرف توجہ کرنی چاہئے منہ اور دانت صاف رکھنے کی ہدایت اور دوسرے انہیں کوئی نہ کوئی ہنر سیکھنا چاہئے۔تیرے میں اس امر کی طرف توجہ دلائے بغیر نہیں رہ سکتا کہ عام طور پر ہماری جماعت کے دوستوں میں اور شاید باقی لوگوں میں بھی منہ کو صاف رکھنے کی عادت نہیں پائی جاتی۔اس کا نتیجہ یہ ہے جب وہ بات کرتے ہیں تو ان کے منہ سے اتنی شدید بو آتی ہے کہ سردرد شروع ہو جاتا ہے حالانکہ دانتوں کی صفائی سے معدہ اچھا رہتا ہے اور معدہ کی مضبوطی