مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 594
594 سب سے پہلی بات تو میں یہ مرکز میں آکر نوجوان جو کچھ سیکھیں اسے اپنی مجالس تک پہنچا میں کہنا چاہتا ہوں کہ آپ پہنچائیں۔لوگوں نے جو کچھ یہاں سے سیکھا ہے اسے یاد رکھیے اور دوسروں تک پہنچائیے۔جو جو نمائندے یہاں آئے ہیں ان کو چاہئے کہ وہ واپس جا کر اپنی اپنی مجالس کا اجلاس کریں اور ان کے سامنے وہ ساری کیفیت بیان کریں جو انہوں نے دیکھی ہے اور ان باتوں کا خلاصہ بیان کریں جو میں نے کہی ہیں اور ان فیصلوں کا ذکر کریں جو آپ لوگوں کے مشورہ کے بعد میں نے کئے ہیں اور انہیں تحریک کریں کہ وہ ان تمام باتوں کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کریں۔اس طرح جو عہد میں نے کل لیا تھایا آج لیا ہے وہ عہد تمام خدام سے میٹنگ کر کے لیں اور انہیں سکھائیں کہ جب عہد لیا جائے تو "آنی" زور سے کہیں اور "والله" نسبتاً آہستہ آواز میں کہا جائے۔بہر حال "ای واللہ " کہنے کی مشق اس طرح کرائیں کہ اس کی آواز سے میدان گونج اٹھے۔" میں نے بتایا ہے کہ ای کا لفظ خود بخود اپنی ذات میں طاقت رکھتا ہے اور مشق سے یہ طاقت دوگنی تگنی بڑھائی جاسکتی ہے۔۔۔آئندہ کے لئے اس طرح مشق کرو کہ "ای" کہنے والے خواہ چند افراد ہی ہوں ان کی آواز فضا میں ایک گونج پیدا کر دے۔اس کے علاوہ تین چھوٹی چھوٹی اور بھی باتیں ہیں۔۔تھے۔۔خدام الاحمدیہ کی تنظیم جب جاری کی گئی تھی تو میں نے تیرنے اور سواری کی مشق تیرا کی سیکھنے کی ہدایت کی طرف خاص طور پر توجہ دلائی تھی۔کل ہی شیخو پورہ کے دوستوں نے ایک واقعہ سنایا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر خدام میری ہدایت پر عمل کرتے تو وہ حادثہ نہ ہو تا۔وہ واقعہ یہ ہے کہ جب سیلاب آیا تو شیخوپورہ کا ایک احمدی لڑکا اور لڑکوں کے ساتھ مل کر سیلاب زدگان کو بچانے کے لئے گیا۔پھٹوں کی کشتی پر وہ سوار تھے۔راستہ میں کشتی الٹ گئی۔باقی تو بچ گئے لیکن وہ چونکہ تیرنا نہیں جانتا تھا اس لئے ڈوب گیا۔میں نے خدام کو توجہ دلائی کہ سب سے اہم چیز تیرنا ہے۔زمین پر جو مصیبتیں آتی ہیں ان سے انسان اپنی کوشش سے بچ سکتا ہے لیکن پانی میں جو مصیبتیں آتی ہیں ان سے بغیر تیرنے کے رہائی نہیں مل سکتی۔اسی لئے میں نے نوجوانوں کو اس طرف توجہ دلائی تھی مگر معلوم ہوتا ہے کہ خدام نے اس فن کی طرف جو نہایت شریف فن ہے توجہ نہیں کی۔یہ ظاہر ہے کہ تم تیرا کی کا فن خشکی پر نہیں سیکھ سکتے اس کے لئے بہر حال تمہیں پانی میں داخل ہونا پڑے گا۔کوئی افیونی یہ سمجھ لے کہ وہ خشکی پر بھی تیر سکتا ہے تو اور بات ہے ورنہ کوئی عظمند ایسا خیال نہیں کر سکتا۔" تیر نا انسانی زندگی کا ایک ضروری حصہ ہے۔اگر جہاز میں انسان سوار ہو اور جہاز ڈوبنے لگے تو اسے تیر نے کا فن اتنا تو آنا چاہئے کہ وہ دس منٹ یا دو چار گھنٹے پانی میں تیر سکے تاکہ اگر اس کو کوئی مدد پہنچ سکتی ہو تو اس عرصہ میں اسے پہنچ جائے۔یہ تو نہ ہو کہ ادھر پانی میں گرے اور ادھر گرتے ہی ڈوب جائے۔۔۔۔۔۔یہ دیکھنے کے لئے کہ خدام میں کتنے تیرنا جانتے ہیں میں تمام خدام سے کہتا ہوں کہ ان میں سے جو تیرنا جانتے ہیں وہ کھڑے